تحریر: سید شہباز گردیزی (باغ)
        ابھی کل ہی کی بات  ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالحسن عاصم ہمارے درمیان بیٹھ کر اپنی باتوں کی مہک پھیلا رہے تھے اُن ہی سے مروی ہے کہ خوشی اور خوش اخلاقی ایسے پرفیوم ہیں کہ جنہیں آپ بھلے ہی دوسروں پر چھڑکیں خوش بو خود آپ ہی سے پھوٹتی ہے۔ آج جب کہ میرے چاروں طرف ان کے متعلقین ، متوسلین، محبین بلکہ متاثرین تک بیٹھے ہیں ایسے میں اُن کی یاد شدت سے آرہی ہے۔ اُن کی یاد کی خوشبو نہ صرف مجھے بلکہ ارد گرد کے ماحول کو بھی مہکا رہی ہے۔ ڈاکٹر صاحب علم و ادب کا مینارہ تھے ایک روشن استعارہ تھے۔ میری ان سے آشنائی اپنے دوست اور ان کے دست راست سردار شعیب خان کے توسط سے ہوئی یہ غالباً 2007 کا موسم برسات تھا جب ہم کچھ دوست سردار شعیب کے ساتھ النور ہوٹل میں ان سے ملے تھے ، پہلی ملاقات عالم اجلت میں ہوئی ان کے ساتھ ٹرسٹ کے چند دیگر افراد بھی تھے وہ سب کسی سے ملنے جا رہے تھے، سو ہم سب دوستوں میں سے کسی کے بھی ذہن پر یہ پہلی ملاقات نقش نہ رہ سکی۔ اگلے ہی دن سردار شعیب خان سب دوستوں سے رابطے کر رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب نے آپ سب کو کھانے کی دعوت دی ہے رات کو النور ہوٹل میں اکٹھا ہونا تھا۔ ایسا ہی ہوا، اس بار ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے تھے۔ ہم نے ان کی رفاقت کے چند لمحات کے وسیلے سے صدیو ں کا سفر طے کر لیا پھر اس کے بعد ہم سب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم گردانے جانے لگے۔ ڈاکٹر صاحب جتنا عرصہ باغ میں مقیم رہتے ایک میلے کا سماں رہتا ۔ ان کی قربت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول ہمارے ذہن پر دستک دیتا رہتا کہ ” بڑا انسان وہ نہیں کہ جس کی محفل میں آپ کو اپنا آپ حقیر لگے بلکہ بڑا انسان وہ ہے کہ جس کی قربت میں آپ کو اپنا آپ عظیم تصور ہو” ۔ ڈاکٹر عبدالحسن عاصم کا علمی اور معاشرتی رتبہ بہت بلند تھا اس سب کے باوجود وہ دوستوں کی محفل میں اپنے رتبے سے دست بردار ہو جایا کرتے، اپنی بات پر دوستوں کی رائے کو اہمیت دیتے۔ یار باش قسم کے انسان تھے۔ آپ کے اندر ایک کامل انسان کی تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتیں تھیںَ وہ پانے استاد فیض احمد فیص کی طرح ملامتی صوفی تھے اپنی اچھائیوں کو پردے میں رکھتے جبکہ خامیوں کا کھلے بندوں تذکرہ کرتے، انتہا درجے کے سچے اور کھرے انسان تھے۔

ترقی پسندی سے ڈاکٹر عبدالحسن عاصم کا گہرا رشتہ رہا ہے وہ بنیادی طور پر مارکسی فکر کے حامی تھے۔ جدلیاتی عمل پر یقین رکھتے اور ہر قسم کے جمود کی نفی کرتے تھے۔ داس کپیٹل کا مطالعہ آپ نے اس کرسی پر بیٹھ کر کیا جس پر کارل مارکس نے بیٹھ کر یہ کتاب لکھی تھی۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے بہ یک وقت ایک ماہر تعلیم، فلسفی، تاریخ دان، وطن پرست، سوشل ورکر، سلیم الطبع، منتظم، سیاح اور ماہر نفسیات تھے۔ آپ 11نومبر1952ء کو محمد کالو خان کے ہاں بگاہ، تتہ پانی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی کے تذکرہ پر اکثر شدت جذبات سے لبریز ہو جایا کرتے تھے۔ والد گائوں کی مسجد کے پیش امام جبکہ والدہ نے مویشی پال رکھے تھے اس طرح بڑی مشکل سے گزر بسر ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب کا اپنی دھرتی سے اٹوٹ رشتہ تھا جبھی تو بیالیس سال انگلینڈ میں گزارنے کے باوجود بات کرتے تو اپنے گائوں کے ایک ایک پتھر ، ایک ایک درخت اور راستوں کے نشیب و فراز کا مکمل نقشہ کھینچ لیتے، کمال کا حافظہ تھا جس سے ایک بار سرراہ مل لیتے اس سے دوبارہ دس سال کے بعد بھی ملتے تو پہلی نظر میں پہچان لینے کی قدرت رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم انٹر تک کوٹلی سے حاصل کرنے کے بعد کراچی چلے گئے اور بقیہ تعلیم ایم اے (فلسفہ) تک کراچی سے حاصل کی بعدازاں فلاسفی میں پی۔ایچ۔ڈی برطانیہ سے کی۔ آپ نے اپنے عہد کے ماہر اور معروف اساتذہ جن میں فیض احمد فیض جیسی عہد ساز شخصیات شامل تھی کی راہنمائی میں تعلیم و تربیت کے مدارج طے کیے۔ کراچی کا قیام اور وہاں پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کئی بار آبدیدہ بھی ہو جاتے، ہم نے ان کی رفاقت میں محسوس کیا کہ وہ بھنڈی نہیں کھاتے ایک بار کھانا کھاتے ہوئے ہمارے دوست ابرار یونس نے زبردستی بھنڈی کھلانے کی کوشش کی تو کہنے لگے کہ مجھے آج بھی اپنے حلق سے بھنڈی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ کراچی قیام کے دوران ہم نے سب سے زیادہ اسی سبزی سے استفادہ کیایہ سبزی میرے برے دنوں کی ساتھی ہے مگر اس کا ذائقہ میرے اندر ان دنوں کی تلخی کو گھول دیتا ہے اس لیے نہیں کھاتا۔ آپ کی بزلاسنجی کا ایک زمانہ معترف تھا۔ دوستوں میں اکثر سردار شعیب خان اور ابرار یونس سے اُن کی نوک جھونک لگی رہتی۔ سخت سے سخت بات پر بھی کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے بلا کا ظرف تھاوہ صاحب ظرف انسان تھے۔ ان کی بیگم یعنی ہماری بھابی کو قدم قدم پر ان کی راہنمائی کرنا پڑتی رہی ہو گی۔ دونوں کی مثالی جوڑی تھی پہلے دن کی محبت کی طرح ۔ انگلینڈ جیسے مصروف ترین ملک میں رہتے ہوئے روزانہ ہر دو گھنٹے بعد سکائپ پر ان کی خریت پوچھتیں ایک ماں کی طرح انہیں سمجھاتیں، مشورے دیتیں، ڈانٹتیں، ویسے وہ قابو بھی انہیں سے آتے تھے۔

ڈاکٹر عبدالحسن عاصم مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے دوستیاں کرنا اور انہیں نبھانا آپ کے محبوب مشاغل میں سے تھا۔ دوست بھی ایسے کہ ایک زمانہ رشک کرتا۔ انگلینڈ میں ہوں تو مرزا معروف، خواجہ گلفراز، اشتیاق، کھترین، آفتاب، شہباز (جنہیں میں جانتا ہوں) باغ میں ہوں تو سردار شعیب، ابرار یونس، بشیر چغتائی، خالد محمود، ریاض عباسی، اکرام الحق، زبیر حسن زبیری، ماسٹر اشتیاق اور راقم کی سنگت میں زیادہ سہولت محسوس کرتے۔ سیاحت اور مطالعہ کے دلدادہ تھے۔ ہم دوست ان کی تحریک اور معیت میں نا صرف باغ، پونچھ بلکہ پورے آزاد کشمیر کے ایسے ایسے علاقوں سے متعارف ہوئے یہ ان کے اندر کے سیاح کا کرشمہ تھا اگر وہ نہ ہوتے تو ایسا کسی صورت ممکن نہ ہو سکتا۔ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہوں گے جہاں کی خاک انہوں نے اپنے قدموں سے نہ چھانی ہو۔ جن ممالک میں نہ گئے ایسے ممالک میں امریکہ کا بھی نام آتا ہے وہاں اس لیے نہیں گئے کہ وہ کیپلیسٹک نظام کا سرگنہ ہے۔ آگرہ تاج محل دیکھ کر آئے تو مجھ سے کہنے لگے شہباز تم شاعر بہت ظالم لوگ ہو معصوم لوگوں کی ذہن سازی کر کے انہیں خوبصورتی سے لطف اندوز نہیں ہونے دیتے میرے استفسار پر کہنے لگے کہ تاج محل دیکھنے گیا تھا اس کے حسن کا سحر چڑھنے ہی لگا تھا کہ ساحر لدھیانوی کی نظم تاج محل یاد آگئی اب سوچتا ہوں کہ کاش میں نے وہ نظم نہ پڑی ہوتی تو میں بہت لطف اندوز ہوتا۔ دو سال پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ بیت المقدس بھی گئے واپسی پر میرے لیے محمود درویش کا شعری مجموعہ
(almond blossoms and beyond
 لے آئے اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس کی نظموں کا منظوم اُردو ترجمہ کرو۔ چند نظموں کا منظوم ترجمہ کر کے انہیں چیک کروایا تو بہت خوش ہوئے کہنے لگے کہ اسے مکمل کروکتاب شائع کروانا میری ذمہ داری ہے، صاحب مطالعہ انسان تھے، بلا کے شعر فہم تھے اچھے شعر پر کھل کر داد دیتے اور کئی دن تک سر دھنتے رہتے۔ فوک موسیقی زیادہ پسند تھی باغ اور گرد و نواح کے تمام فنکار اور مقامی گلو کار تلاش کر کے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ان کی مالی امداد بھی کرتے۔ اکثر محمد دین کو بلا کر اس سے سردار شمس خان اور راجولی کی منظوم داستان سنتے۔ سردار شمس خان کے بارے میں آپ کی بڑی تحقیق تھی اس تحقیق کے دوران بعض جگہ ان کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا وہ جس کام کے پیچھے پڑ جاتے پھر اس کو اپنے لیے درد سر بنا لیتے اوردوسرے لوگوں کو بھی اپنا ہم نوا بنا لیتے، دیگوار، منگ بنگوئیں، تھوراڑ، بانیتنی، علی سوجل، کوٹلہ ، سیور، ملوٹ، کبھی یہاں کبھی وہاں آج فلاں سے ملنا ہے آج فلاں سے ملنا ہے۔  ہر وقت ایک جنون سا طاری رہتا۔ ڈاکٹر عبدالحسن عاصم کا سب سے بڑا جنون شفیلڈ کالج باغ تھا اور ان کے اس جنون میں بارہ پندرہ سالوں میں کبھی کمی نہ آئی۔ ان کے اس جنون کو دیکھ کر اہل باغ نے انہیں سر سید ثانی کا خطاب دیا۔ انہوں نے اس خطاب کو اپنی انتھک محنت اور کوششیں سے سچ ثابت کر دیکھایا ان کے لگائے ہوئے اس پودے نے اب ثمر دینا شروع کر دیا ہے۔ باغ میں اس ادارہ کے توسط سے جدید اور معیاری علم کی کلیاں پھوٹ پڑی ہیں۔

بہت مشکل ہے کہ آپکو کسی ایسے بزرگ دوست سے تعلق خاطر کی بناء پر اس کی یاد نگاری کا کہا جائے جو تقریباً ہمیشہ آپ کی رائے کو دیگر آرا پر مقدم رکھتا ہو، جس کی شخصیت اور کردار کے تقریباً سبھی پہلو آپ پر عیاں ہوں اور پھر وہ شخص آپکے درمیان سے اچانک اٹھ کر عدم آباد کی راہ لے لے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالحسن عاصم کے لیے یاد نگاری کرتے ہوئے ایسی ہی صورت حال درپیش ہے کیا کیا لکھوں، کیا کیا چھوڑوں اور کیا کیا لکھنا نا موزوں ہے۔ سرزمین کشمیر کے افق کا یہ روشن ستارہ اپنے اخلاق و آداب، اپنے اقوال و افعال ، اپنی صفات و خصوصیات، اپنے مشاہدات و تجربات، اپنے علوم و فنون، اپنے افکار و فطرت سے روشنی بکھیر کر 28مئی 2021ء کی صبح کو غروب ہو گیا۔ جسم فانی تھا سو فنا ہوا مگر وہ اپنے کردار کار ہائے نمایاں اور خدمات کی بدولت لوگوں

Leave your comment !