سجاد افضل 

اساتذہ کرام تنخواہوں میں اضافے اور اپ گریڈیشن کے حوالہ سے سراپااحتجاج  ہیں۔  جس کی پاداش میں حکومتی تشدد بھی سہہ چکے اور بالاخر ٹریڈ یونین کے اہم ہتھیار تدریسی بائیکاٹ تک کر چکے ۔لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔

ایک ہفتہ سے زائد وقت گزر چکا ہے،۔  اساتذہ اسکولوں میں جاتے ہیں ۔طلباء بھی آتے ہیں ۔ لیکن اصل کام نہیں ہورہا اور بس آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں ۔

تعلیم کبھی بھی حکمرانوں کی ترجیح نہیں رہی۔  یہی وجہ ہے کہ اس لاچار شعبہ کا بجٹ واجبی سا ہوتا ہے ۔اور اب خبریں آرہی ہیں کہ تعلیم کے شعبہ کو نجی سیکٹر میں دینے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔

پہلے سے انتہائی غریب لوگوں کے سوا سرکاری تعلیمی اداروں کی طرف عوام کا جھکاو نہیں ہے۔  جو لمحہ فکریہ ہے۔ تعلیم صحت روزگار کی فراہمی تو حکومتوں کی ذمہ دارہ ہی ہوتی ہے۔

  لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔  لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سب کچھ حاصل کررہے ہیں۔  اور حکمرانوں کی عیاشیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں  ۔

اساتذہ کرام سےظلم

حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی مراعات کے لیے بجٹ بہت لیکن اساتذہ کےلیے خزانہ خالی ہے    ۔ ایسے میں اساتذہ کرام کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔  اور اگر یہ معاملہ جلد حل نہ کیا گیا تو ہر عام آدمی کو اساتذہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا ۔

تعلیم جیسے اہم شعبے میں انقلابی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔  نہ کہ اسے نجی شعبہ میں دینے کی۔ اگر حکمرانوں نے  تعلیم کو پرائیویٹائز کرنے کی کوشش کی تو ایک بھرپور عوامی تحریک شروع کی جائے گی ۔حکمران ہوش کے ناخن لیں ۔ اساتذہ کرام تدریسی بائیکاٹ کے دوران والدین کو اسکولوں میں بلا کر مشاورت کریں اور عوام کو اصل بات بتائیں تاکہ حکمرانوں پر پریشر بڑھایا جائے ۔

پس تحریر

  جو لوگ تعلیم کے شعبہ کی گرتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار اساتذہ کو ٹھہرانے کے کمنٹ کریں گے وہ یاد رکھیں اس میں حکومت اور اس کے ادارے زیادہ ذمہ دار ہیں جس کا اثر اساتذہ پر بھی پڑتا ہے۔

ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول ساہلیاں اعجاز  عباسی  تدریسی بائیکاٹ کے دوران اکیلے تدریسی امور سرانجام دیتے ہوئے۔ تصویر بشکریہ شہزاد شانی