کشمیر- ظلم رہے اور امن بھی ہو؟

پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد بھارتی نیتائوں نے حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی بجائے روایتی انداز میں پاکستان کیخلاف الزام تراشی کی انتہاء کر دی۔پردھان منتری نریندرمودی نے کہا جُلم(ظُلم)کی انتہاء ہوگئی،ہم اس جُلم کا بدلہ لیں گے۔ مودی جی کی کابینہ میں کوئی صاحب فہم و ذکا ء ہوتا تو انہیں بتاتا کہ جناب خود کش بمبار شہید عادل احمد ڈار نے جُلم کا بدلہ ہی تو لیا ہے۔جناب مودی کشمیر میں ریاستی ظلم بھی رہے اور امن بھی ہو یہ کیسے ممکن ہے؟

کشمیریوں نے انتخابات میں حصہ لیکر بھی دیکھ لیا مگر ان کی بات کہیں نہ سنی گئی۔ کشمیر میں مسلح مزاحمت کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین کے سالار اعلیٰ سید صلاح الدین نے نہ صرف سیاسیات میں ماسٹرز کر رکھا ہے بلکہ وہ عملی سیاست میں بھی متحرک رہے۔وہ1987ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کی طرف سے امیدوار تھے۔بھارت سرکار نے دھاندلی کی انتہاء کردی اور لوگ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو گئے۔ مسئلہ کشمیر کو نہرو جی اقوام متحدہ لیکر گئے،استصواب رائے کے لئے کئی قراردادیں منظور ہوئیں مگر کشمیریوں کو رائے کے اظہار کا موقع نہ دیا گیا۔ہندوستانی حکومتوں کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔جنت نظیر کشمیر کو موت کی وادی میں بدل کر رکھ دیا گیا۔ہر دس گز پر فوجی یا پیراملٹری فورس کا کوئی اہلکار تعینات ہے۔

پھولوں اور زعفران سے لدے کشمیر کی فضائوں میں خون و بارود کی بُو کی بدولت سانس لینا دشوار ہے۔کوئی بچہ و خاتون ہمت کر کے کھڑکی یا بالکونی سے باہر جھانکے تو اگلے ہی لمحے پیلٹ گن کے ذریعے اسے نابینا بنا دیا جاتا ہے یا گولی انکا سینہ چیر دیتی ہے۔

7 لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل پر مامور ہے۔جنوری1989ء سے31دسمبر2018ء تک 95ہزار کشمیری شہید کر دئیے گئے۔ان میں سے7100دوران حراست شہید ہوئے،ایک لاکھ شہری گرفتار کیے گئے،ایک لاکھ سات ہزار بچے یتیم ہوئے۔گیارہ ہزار عفت مآب کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔اے پی ڈی پیAssociation of Parents of Disappeared Personsان والدین کی تنظیم ہے جن کے بچے،بھائی یا قریبی رشتہ دار،بھارتی فورسز کے ذریعے گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوئے۔اے پی ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق8ہزار کشمیر ی بھارتی فوج کی حراست میں لا پتہ ہو گئے ہیں۔سال2018ء میں اسرائیلی فوج نے312فلسطینیوں کی جان لی لیکن بھارت ظلم و بربریت میں اس سے بھی آگے جا نکلا۔اِس سال میں بھارتی فوج نے3ہزار آپریشن کیے،جن میں375نہتے کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ان میں10خواتین اور35نوجوان بھی شامل ہیں۔21کشمیریوں کو حراست میں لیکر شہید کیا گیا،جبکہ34خواتین بیوہ اور78بچے یتیم ہوگئے۔600سے زائد گھروںکو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا،1300افراد بینائی سے محروم ہوئے۔دختران ملت کی قائد آسیہ اندرابی آئے روز پابند سلاسل بنا دی جاتی ہیں،ان کے جیون ساتھی 51سالہ ڈاکٹر قاسم فکتو مسلسل27برس سے جیل میں بند ہیں۔قائد حریت سید علی شاہ گیلانی،میر واعظ عمر فاروق،یسین ملک اور دیگر قائدین کو جیلوں یا گھروں میں نظر بند رکھا گیا،نمازجمعہ کی ادائیگی تک سے روکا گیا۔2018ء کے آخر میں18ماہ کی ایک بچی حبہ نثار کی آنکھ پیلٹ لگنے سے ضائع ہوئی،اب وہ ساری زندگی ایک ہی آنکھ سے دیکھ سکے گی،بھارتی فوج نے بچی اور ماں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ تشدد سے بچنے کی کوشش میں تھی۔

8سے80سال کی خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی بھارتی فوجیوں نے کی۔دلہن بنی منیبہ،آسیہ اور نیلوفر کو حُجلہ عروسی سے اٹھا کر فوجی کیمپوں میں اجتماعی ہوس(گینگ ریپ)کا نشانہ بنایا گیا۔نو خیز کلی 8 سالہ آصفہ کو بدترین تشدد کے بعد گینگ ریپ کیا گیا۔23فروری1991ء کو مقبوضہ وادی کے ضلع کپواڑہ کے جڑواں دیہاتوں کونان اور پوش پورہ میں گھروں کی تلاش کی آڑ میں 150سے زائد خواتین کو ہندوستان کی فوج نے بے آبرو کیا۔

پلوامہ کے گائوں ترال کے استاد مظفر وانی کے بیٹے خالد اور برہان موٹر سائیکل پر گھر جارہے تھے جنہیں ہندوستانی فوج نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔تشدد کے بعد برہان زیر زمین چلا گیا اور پھر فوج کے ظلم نے برہان وانی کو مجاہدکمانڈر بنا دیا۔برہان نے سوشل میڈیا کے ذریعے مزاحمتی تحریک کو نئی جہت دی۔8جولائی2016ء کو فوجی کاروائی کے دوران برہان کو شہید کر دیا گیا۔ برہان کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے مہمیز کا کام کیا۔برہان کی شہادت سے کشمیر کی تحریک میں عام آدمی شریک ہو گیا۔اس شہادت نے پوری وادی میں آگ لگادی،اب اس آگ پر قابو پانا بھارتی سرکار کے بس میں نہیں۔

علی گڑھ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی سکالر منان بشیر وانی کو بھارتی فوج نے اکتوبر2018ء میں دو ساتھیوں سمیت شمالی کشمیر میں شہید کیا۔

برہان وانی کے گائوں کے بہت قریب عادل احمد ڈار نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اور ایک پی ایچ ڈی سکالر منان وانی کے یوں مسلح تحریک میں شامل ہونے نے بھارت کو اخلاقی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ڈاکٹر منان وانی نے انڈیا کی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کیا تھا کہ بھارت ایک”دہشت گرد”ملک ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر منان بشیر وانی کی طرح اور بھی جوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں۔برہان وانی کے گائوں کے قریبی علاقے میںعادل احمد ڈار کے خودکش حملے کے نتیجے میں سینٹرل ریزرو پولیس کے 40 سے زائد اہلکار مارے گئے۔عادل بھی کشمیر کا ایک عام نوجوان تھا جس کا عسکریت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔پولیس کے تشدد نے عادل کو بارودی مشین میں تبدیل کر دیا۔دنیا کی کسی عدالت اور کسی ادارے نے کشمیریوں کی فریاد کو نہ سنا تو عادل کے ضمیر کی عدالت نے فیصلہ کیا کہ جن لوگوں کے ہاتھوں اس کی ماں بہن کی عزت محفوظ نہیں ایسے لوگوں کو پھر زندہ نہیں چھوڑوں گا۔بھارتی سرکار یاد رکھے عادل کشمیر کا پہلا خود کش بمبار ہے آخری نہیں۔مودی جی آپ کب تک دنیا کو فریب دیتے رہیں گے کہ یہ حملہ پاکستان نے کروایا؟آپ کے ملک کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا ایک نہیں کئی بار کہہ چکے کہ ہم کشمیر کو کھو چکے ہیں۔نصف صدی سے زائد عرصہ تک بھارتی سرکار کی مسلط کردہ کٹھ پتلی کشمیری قیادت فاروق عبداﷲ،انکے بیٹے عمر عبداﷲ اور محبوبہ مفتی بھی اب ببانگ دھل کہہ رہے ہیں کہ تحریک آزادی کو نیا جوش و ولولہ پاکستان نہیں بھارتی سرکار کے مظالم دے رہے ہیں۔

جناب مودی…!

پاکستان آپ کا باجگزار نہیں کہ جسے آپ روز دھمکیاں دیتے رہیں۔پاکستان کی قیادت کے آپس کے اختلافات ممکن ہیں مگر کشمیر کے حوالے سے پوری قوم یکسو ہے۔وزیراعظم عمران خان نے پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے مودی جی کو صحیح جواب دیا کہ اگر جنگ آپ شروع کرینگے تو اس کو پھر ختم کرنا آپ کے بس میں نہیں ہوگا۔یہ بات مودی اور انکے فوجی سربراہ کے بخوبی علم میں ہے کہ دونوں ممالک اب جوہری قوت کے بھی حامل ہیں۔ہم پرامن لوگ ہیں مگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اب کے روایتی انداز کی جنگ نہ ہو گی، اس لئے مودی جی اپنی بات پر غور کیجئے کہ جلم آخر کب تک؟ظلم رہے اور امن بھی ہو ،ایسا اب ممکن نہیں ہوگا۔

کشمیریوں کا بھی اب اٹل فیصلہ ہے کہ جلم کا جواب جلم سے دینگے۔ بھارت کے سنجیدہ طبقے کے لئے بھی غوروخوض کا وقت ہے کہ مودی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے کشمیر میں مداخلت کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے۔

بھارتی شاعر ڈاکٹر راحت اندھوری نے کیا خوب کہا ہے کہ

سرحدوں پر بہت تنائو ہے کیا

کچھ پتہ تو کرو چنائو ہے کیا

خوف بکھرا ہے دونوں سمتوں میں

تیسری سمت کا دبائو ہے کیا