زلزلہ 8اکتوبر2005ء کے اردو شاعری پر اثرات

ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے زمانے میں وقت کے بادشاہ سے حضرت خواجہ خضر کی ملاقات ہوئی بادشاہ نے کہایا حضرت! جو کچھ عجائبات آپ نے اپنی عمر میں دیکھے ہیں میرے روبرو بیان کریں۔ حضرت خضر نے کہا” میں نے بہت سے عجائبات دیکھے ہیں مگر اس وقت جو کچھ حاضر ہے اس کا بیان کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ میں ایک شہر میں وارد ہوا جہاں خلق عظیم تھی، عمارات بلند ، پختہ گلیاں اور گنجان آبادی تھی۔ پس میں نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ یہ تعمیرات کس زمانے میں ہوئیں؟ حال معلوم ہو۔ شروع سے ایسا ہی آباد اور قائم و دائم ہے۔ پس پانچ سو سال بعد میرا پھر گذر اس شہر سے ہوا تو وہ ویران نظر آیا، یہاں تک کہ ایک زراسا بھی شائبہ آبادی کا موجود نہیں تھا۔ وہاں ویرانے میں ایک مرد کچھ زمین سے کھود رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا یہ شہر کب خرب ہوا؟ اس نے کہا میں نے یہ شہر ایسے ہی خراب دیکھا ہے، میں نے کہا کہ یہ شہر کبھی آباد بھی تھا؟ اس نے کہا ہر گز نہیں یہاں کی آبادی کا حال نہ اپنی آنکھوں سے دیکھا نہ میرے باپ ، دادا یا اس کے دادا نے اس کا تذکرہ کیا۔ پس میر ا گذر پانچ سو برس کے بعد دوبارہ ہو ا تو دیکھنے میں آیا کہ وہ سرزمین ساری عالم آب ہو گئی تھی اور ماہی گیر اس میں جال ڈال کر مچھلیاں پکڑتے تھے ان سے دریافت کیا کہ کب یہ زمین سمندر برد ہوگئی؟ انہوں نے جواب دیا، افسوس تم بہت بے خبر ہو جو ایسا کلام کرتے ہو یہ سرزمین ہمیشہ سے عالم آب ہی رہی ہے کبھی یہاں کی خشکی کا حال اپنے باپ دادا سے نہیں سنا۔ پانچ سو برس بعد پھر میرا گزر ادھر سے ہوا تو سمندر خشک ہو کر زمین برآمد ہوچکی تھی۔ کاشت کار اس میں کھیتی باڑی کر رہے تھے۔اور عورتیں گھاس کے پولے باندھ رہی تھیں۔ میں ے دریافت کیا کہ کب یہ زمین پانی سے نکلی ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہمیشہ سے ہی زمین ایسی ہی رہی ہے پس پوچھا کہ یہاں کوئی سمند ر نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اپنے باپ داد ا اور بزرگوں سے سنا۔

الغرض اس کے بعد جب پانچ سال بعد میرا جانا ہوا تو ایک عظیم الشان شہر وہاں نظر آیا۔ بڑے بڑے مکان عمدہ سرائیں ، تاجروں کے قافلے اور خوش پوش لوگ پس وہاں کے لوگوں سے میں نے اس شہر کے آغا ز و بنیاد کا حال دریافت کیا تو انہوںنے جواب دیا کہ بھائی شہر تو ایسا ہی آباد تھا۔ ہمیں اس کے بنا کی تاریخ معلوم نہیں۔” یہ اسی شہر کا تذکرہ تھا جس پر اس بنی اسرائیل کے بادشاہ کی حکومت تھی۔ یہ حکایت بیان کرنے کا مطلوب و مقصود اپنے مضمون کی طوالت مقصود نہیں بلکہ میرے پیش نظر یہ بات تھی کہ آپ احباب کو شہروں کے اجڑنے اور بننے کے عوامل سے آگاہ کیا جائے۔ اور یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ جس شہر کے اجڑنے یا بسنے کا احوال وہاں کے ادباء و شعراء اپنی تحریروں یا منظومات میں محفوظ نہیں کر پاتے اس کی تاریخ کبھی نہیں کھل پاتی۔ صرف تمثیلیں اور قیاس آرائیاں ہی اس کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔ ہماری یہ سرزمین جس کا نقشہ 8اکتوبر2005 کے ہولناک زلزلہ نے بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس کی اور ہماری خوش قسمتی کی مقامی اورغیر مقامی دونوں طرح کے ادباء شعراء نے اپنی تحریروں میں منظومات میں اس واقعہ سے پہلے کے اور بعد دونوں مناظر عیاں کر دئیے ہیں۔ میرا اپنا ایک شعر جو مضمون کے آغاز سے ہی میرے ذہن کی منڈیر پر آبیٹھا تھا سے آغاز کرتا ہوں۔ یہ شعر زلزلے سے بہت پہلے کا ہے، ابتداء میں میرے سخن فہم احباب اور میں خود بھی اس شعر کے مزاج کو سہی طور پر سمجھنے سے قاصر رہا شعر اس طرح ہے کہ

کبھی یہ دشت پھولوں سے بھرا تھا

ہمارے سامنے صحرا ہوا ہے

8اکتوبر2005ء کے زلزلے کے دوسرے دن جب میںنے اپنے اجڑے ہوئے شہر کا منظر توجہ سے دیکھا تو یہ شعر اور اس طرح کے بہت اور بہت سے اشعار مجھ پر مکمل طور پر کھل گئے۔ اسی تناظر میں بالا کوٹ کے تعلق رکھنے والے باکمال شاعر جو زرعی ترقیاتی بنک میں ملازم ہیں اور اپنی سروس کا زیادہ حصہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گذرا ہے بلکہ مظفرآباد میں انہوں نے فروغ ادب اور جدید لہجہ کو روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جناب احمد حسین مجاہد بہت ہی خوبصورت لہجے کے شاعر ہیں زلزلہ کے بعد صفحہ خاک کے عنوان سے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”مجھے ٹھیک سے یا دنہیں کہ میں نے وہ غزل کب کہی تھی جس کا ایک شعر زلزلے کے بعد دوستوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ یہ غزل 1998-99ء میں سہہ ماہی ”تسطیر میں شائع ہوئی۔

زباں سمجھتا ہوں میں ٹوٹتے ستاروں کی

یہ شہر مجھ کو اجڑتا دکھائی دیتا ہے

ڈاکٹر افتخار مغل کو اگر کشمیر کا احمد فراز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا آپ نے آزاد کشمیر میں فروغ ادب کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ 11اپریل 2011ء کو اچانک اس دنیا سے پردہ فرماگئے۔ مگر ان کی تحریریں اور ان کی شاعری سخن شناس احباب کو اپنے مکمل حصار میں لئے ہوئے ہے آپ نے زلزلہ کے بعد ”بھونچال” کے نام سے ایک رپوتاژ کتابی شکل میں شائع کی۔ جس کا ایک ایک لفظ آنسوؤں اور درد میں ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کتاب میں آپ لکھتے ہیں کہ ”زلزلوں کی آمد کا کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا ، سوائے سپولوں، کیڑے مکوڑوں، پرندوں اور شاعروں کے۔ میں نے 8اکتوبر سے مہینوں پہلے ایک شعر کہا تھا۔

وہ پستیوں میں پھرتا رہتا ہے دنوں کو

اے شہرِ ستم کے در و دیوار خبردار

زلزلے کے بعد کے مناظر ہیں اس ضمن میں بھی مجھے اپنا ایک شعر جو زلزلے سے بہت پہلے کہا تھا اور میری پہلی کتاب ”حقیقتوں کے عذاب” میں بھی موجود ہے۔

یہ زلزلے طوفاں بتا کس لیے شہباز

انساں کے لیے دہر میں انسان بہت ہے

8اکتوبر 2005ء کے زلزلہ کے بعد تو اس سانحے کو مقامی اور غیر مقامی شعراء کرام نے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ زلزلے کو اس سے قبل بھی شاعری میں استعار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی مثال کے طور پر کچھ شعراء کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ اس تناظر میں بیدل حیدری جن کا تعلق کبیر والہ سے تھا، درویش منش شاعر تھے ان کے بے شمار شعر زبان زد عام ہیں۔ زلزلے کے حوالے سے ان کا یہ شعر خاصی شہرت کا حامل ہے کہ

پونچال میں کفن کی ضرورت نہیں رہی

ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا

محسن نقوی اردو شعر ادب کا ایک معتبر حوالہ ہیں ڈیرہ غازی خان سے تعلق تھا۔ 1996ء میں لاہور علامہ اقبال ٹاون میںا یک دشت گردی کی واردات میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ کئی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں اور ان کے سینکڑوں اشعار زبان زدعام ہیں۔ زلزلے کے حوالے سے ان کاایک شعر ذہن پر دستک دے رہا ہے کہ

محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں

مٹی میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے

مضمون کے آخر میں چند منتخب عہد حاضر کے شعراء کرام کے منتخب اشعار جو انہوں نے زلزلہ2005ء کے بعد کہے اپنے متحرم قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔

ملبے سے نکالے تھے کئی پھول، کئی خواب

اب یاد نہیں کس کو کہاں دفن کیا تھا