تیرتھوں میں اک تیرتھ (شاردہ)

انسان نے اپنے سے برتر ہستی کو تلاش کیا۔اس کی تلاش کا سفر بھی لمبا اور کٹھن ہے۔پھراس نے اپنے تلاش کیے خداسے محبت،پیار،اُنس اور اُمیدوں کے سارے تانے بانے جوڑے۔اس تلاش میں اِنسان کے وجدان نے ترقی کی تو اُجلی روشنی اِس کے من میں اُتر آئی۔خدا کے نام پر اِنسانوں نے کئی تیرتھ بنائے۔اک ہجوم زمانوں سے اِن (تیرتھوں) سے لولگائے ہوئے ہے۔تیرتھ (مقدس مرکز،کعبہ) اَور تیرتھ والے کی محبت انسانوں میں خودرو رہی۔گُرد وارا صاحب میں (کرتارپور)باباگُرو نانک صاحب نے اپنی زندگی کے آخری سال گزارے تھے ۔کرتار پو ر، اُس طرف اور اِس طرف والے پنجاب کی سرحد پر ہے۔پاکستانی پنجاب (کرتار پور) میں بابا گرو نانک صاحب کا اَب دُنیا میں سب سے بڑ اگُردوارا ہے۔جو بیالیس ایکڑ پر پھیلا ہو ا ہے۔گُردوارا دربار صاحب سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر سرحد کے اُس طرف بھارتی پنجاب ہے۔اُسطرف سکھ یاتریوں کو وزیر اعظم بھارت نریندر مودی نے الوداع کیا اَور اس طرف وزیر اعظم پاکستان اَور دیگر وزراءنے انھیں خوش آمدید کہا۔

برصغیر کے نقشے کو دیکھیں تو کشمیراس کے سر پر تاج کی طرح کھڑا ہے۔جموں سے جُڑا پنجاب وہ راہداری ہے۔جو بھارتکو کشمیر میں داخل ہونے کارستہ مہیا کرتا ہے۔برصغیر کی مٹی سادھوؤں،گرووں،ولیوں اَور رشیوں مُنیو ں کی سرزمین ہے۔ صوفیانہ اَور رَشیانہ مزاج کشمیر کی اَزلی شناخت ہیں۔پیر پنجال اَورہمالیہ کے گمنام غار اَورجنگل صوفی،رشی لوگوں کی چلہ گاہرہے۔سخت برفانی بلندیوں اَور چلہ گاہوں کے آثار اَب تک ہیں۔

شاردہ : ایک عالمی ورثہ

شاردہ کشمیر (وادی نیلم)کی خوب صورت وادی ہے۔تقریبا170قبل مسیح میں کشمیر کے راجہ کنشک نے یہاں ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی۔کنشک بدھ مت کا پیروکار تھا۔اُس وقت درس گاہوں (پیتھ)کے ساتھ عبادت گاہیں اَور مراقبہ ہال بھی تعمیر کیے جاتے تھے۔شاردہ یونی ورسٹی،ایک عالمی مذہبی تیرھ بھی تھا۔اس درس گاہ میں تما م روحانی علوم،لسانیات،جغرافیہ،سفارت کاری بطور مضمون پڑھائے جاتے تھے۔بدھ مت کے علاوہ دنیا بھر سے دیگر مذاہب سےتعلق رکھنے والے بھی یہاں تعلیم حاصل کرتے تھے۔یہاں سے فارغ التحصیل لوگ مختلف ریاستوں میں وزیر مذہبی امور،مشیر حکومت،سفیر اور شاہی معلم ہو جاتے۔شاردہ اپنے وقت میں مادرالعلوم سمجھی جاتی تھی۔ایک وقت میں اسکی 300شاخیں (کیمپس)کشمیر کے مختلف حصوں میں قائم تھیں۔ان میں سے دو کی باقیات راولاکوٹ دھیرہ اَور منڈھول ہجیرہ میں آج بھی زمین پرکھڑی ہیں۔شاردہ یونی ورسٹی کے فارغ التحصیل طلباء جب مختلف ممالک میں پہنچے تو اس کاچرچا دنیا بھر ایشیا،وسط ایشیا،خصوصاًجاپان اَور چین میں ہوا۔تب دنیا بھر سے علم وسیاحت کے شوقین لوگوں نے یہاں کا رخ کیا۔اُس وقت یونی ورسٹی کی لائبریری میں ستر لاکھ کتابیں تھیں۔جن سے طلباء ،اساتذہ اَور بیرون ممالک کے لوگ استفادہ کرنے آتے تھے۔بدھ مت کی عالمی کانفرسیں یہاں ہوتی رہیں۔دُنیا بھر سے یاتری یہاں پہنچتے تھے۔ان کے اَشنان کے لیے پتھر کے کنڈ (تالاب) تھے،ندیاں تھیں، جو آج بھی ہیں۔علاوہ زیر زمین مٹی کے بڑے بڑے پائپوں میں گرم پانی زائرین اَور طلبا ء کے لیے بہتا رہتا تھا۔یہاں کے طلباء اَور پروفیسر بلند ویران چوٹیوں اور گھنے جنگلوں میں ریاضت کرتے،مراقب رہتے اور کائنات پر غور و فکر کرتے رہتے تھے۔

شاردہ تہذیب

اسی عرصے کے تعمیر کردہ زیر زمین راستے جو وسط ایشیا اَور دیگر ریاستوں میں جا کر نکلتے تھے،ان کے آثار آج بھی موجودہیں۔ان زیر زمین راستوں میں آکسیجن،بعض جگہوں پر سورج کی روشنی اور مصنوعی روشنی موجود رہتی تھی۔یہ انجینئرنگ کا شاہکار تھے۔آج ان میں یقیناً زہریلی گیسیں بھر چکی ہیں اَور رکاوٹیں (سلائیڈ ز)آچکی ہیں۔کشمیری زبان کا اپنارسم الخط جسے ماہرین آج شاردہ رسم الخط کہتے ہیں۔اسی شاردہ تہذیب کی یادگار ہے۔یونی ورسٹی کے کاتب ہر وقت ترجمے کرنے اور پروفیسرز و طلباء لکھنے،پڑھنے،پڑھانے اور مراقبوں و عبادات میں وقت صرف کرتے تھے۔بھارت کےبعض علاقوں میں آج بھی لوگ صبح اٹھ کرشاردہ تیرتھ کی طرف منہ کرکے دعائیہ کلمات و مناجات پڑھتے ہیں۔ شاردہ ماضی کا عالمی تیرتھ ہے۔ماضی کے تیرتھوں میں اک تاریخی تیرتھ۔

حضرت بابا گُرو نانک کا پیغام

حضرت بابا گُرو نانک صاحب کے 550 ویں جنم دن کے موقع پرکرتار پور تیرتھ وسیع ہوا،چمکا اَور پھر روشن ہو گیا۔اَب یہاں ہر دم رُونق رہے گی۔پرساد،محبت،بھائی چارہ اَور سچائی بانٹی جائے گی۔جس اُنس اَور بھائی چارے کی بنیاد انھوں نے زمانوں پہلے رکھی تھی۔رَشیوں مُنیوں اَور صوفیوں نے سچائی اَور محبت کا علم ہمیشہ اٹھایا۔یہ دیا شنکر،گوتم سے ہوتاہوابابابھلے شاہ،بھٹائی،نظام الدین اولیا،معین الدین چشتی اَور کشمیر کے کشپ رشی،للہ عارفہ،حَبہ خاتون اَورشاہ ہمدان کے ہاتھ آیا۔محبتوں اَور اَمن کا یہ دیا جلتا رہے۔

بابا گُرو نانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر ایک خوب صورت گیت بہت ہی پیاری دھن میں ترتیب دیا گیا ہے۔بول ہیں۔

سارے جگ تھوں چاہت لے کر یاتری اوتھے آئے

جتھے مٹی ہواوچ پیاردا رنگ وس دا

او پَوِترنگری نانک دی

آدھرتی سوہنی ماں ورگی

جس دھرتی وچ چشتی نے پھیلایا حق دا کلام

نانک ساو نے نگری نوں دِتا وحدت دا پیغام

دُور کھلو کے درشن کرن دے ویلے مُک گئے

گُرو نے راہ کھلوا کے اپنے کو ل بلوایا وے

پَوِتر نگری نانک دی

او سوہنی دھرتی ماں ورگی۔

نانک ؒ،بھلے شاہ ؒ،اور خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی دھرتی اجلی اور پَوِتر ہے۔انھوں نے دلوں کا میل دھویا۔جیسے آج سےہزاروں سال قبل شارد ہ تیرتھ کے گیانیوں،رشیوں اور مُنیوں نے دنیا بھر میں پھیل کر محبت اور اُنس کے بیج دلوں میںڈالے۔ شاردہ میں حج نما تقریب ہوتی تھی جس میں دنیا بھر سے یاتری آتے تھے۔لاکھوں انسان اس تیرتھ کا درشن کرتےتھے اَور اپنے دِلوں کا میل دھوتے تھے۔ کشمیر کی سر زمین پر حَبہ خاتونؒ،لَلہ عارفہؒ، شیخ نُورالدین ولیؒ،میاں محمد بخش ؒ َاَورشاہ ہمدان نے دلوں کا میل دُھونے کا نسخہ پکڑے رکھا۔تیرتھ،مزاراورتہوار لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔ فرد کواجتماعیت بناتے ہیں۔ یہ پَوِتر مشن ہے۔لوگوں کوجوڑنا عبادت ہے اَورانھیں تقسیم کرنا گناہ ہے۔

شاردہ کا انتظار

شاردہ دیس (کشمیر) کے لوگ تقسیم ہیں۔کیا لداخ،کرگل،کے مزارات،میاں محمد بخش ؒ،حبہ خاتون ؒ،لَلہ عارفہ ؒ،نورالدین رشی ؒ اَور خانقاہ معلی کے دروازے کشمیر یوں کے لیے کھل سکتے ہیں۔؟کیا شاردہ تیرتھ پھر سے آبادہو سکتا ہے۔؟جیسےگردوارہ کرتار پور صاحب آباد ہو ا۔تیرتھوں کو آباد کرنے سے دل آباد ہوتے ہیں۔غم اَور فساد رُخصت ہو جاتے ہیں۔شیخ نُورالدین رشی ؒ کا اِک قطعہ ہے۔

کان دھرو اَشلوکوں پر اَور دھیان سے سُن لو پنچ سورے

اِن آیات ابیات کے صدقے جلوئے دیکھو حوروں کے

کُرّہ نار ٹھکانہ ہو گا یاں ظالم لوگوں کا

اَور عالم لوگوں کو وہاں پر حور و قصور بہم ہوں گے۔(ترجمہ طاوس بانہالی)