سرنکوٹ پونچھ کا ادبی سفرنامہ

سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ ادبی لحاظ سے کافی زرخیز ہے۔ یہاں پر پہاڑی، گوجری اور کشمیری زبان بولنےوالے لوگ زیادہ رہتے ہیں۔ اکثریت پہاڑی اور گوجری زبانیں بولنے والوں کی ہے لیکن یہاں کے ادبا ءوشعرا حضراتنے پہاڑی و گوجری کے ساتھ ساتھ اردو، پنجابی اور کشمیری زبان کی ترویج وترقی کے لئے بھی اپنی خدمات انجام دیہیں۔سرزمین سرنکوٹ میں شاعری کا غلبہ زیادہ رہتا ہے۔ کوئی بھی محفل، تقریب، پروگرام اور مجلس شعر کے بغیرادھوری سمجھی جاتی ہے۔یہاںہرکوئی شعر گوئی میں طبع آزمائی کرتا ہی رہتا ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ اس کوشش میں نہصرف کامیاب ہوئے بلکہ ریاستی وملکی سطح پر اپنا ایک مقام بنایا اور کچھ کی شاعری صرف خود اور چند دوستوں تک ہیمحدود رہی۔المختصر کے سرنکوٹ ایک ادب نواز دھرتی ہے۔سرنکوٹ نے حسام الدین بیتاب، شیخ خالد کرار اور مرحومخدابخش زار جیسے عظیم شاعروں کو جنم دیا وہیں، ایوب شبنم جیسے نامی گرامی افسانہ نگار، نذیر حسین قریشی جیسے کالمنویس اور ایم این قریشی جیسے اعلیٰ پایہ کے ادیب ومصنف اور کثیرللسانی شاعر و ادیب ومحقق شیخ آزاد احمد آزاد بھیپیدا کئے ہیں جنہوں نے اپنی قلم سے ریاستی وملکی سطح کے ادبی حلقوں میں خود کو متعارف کرایا۔ مجھے سرنکوٹ میں اردو،پہاڑی ، گوجری زبان وادب کی تاریخ و ادبی سفر پر مفصل مضمون تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ میرے لئے یہ کافیچیلنج بھرا کام تھا کیونکہ اتنے بڑے کام کو انجام دینا اور اس مضمون کے ساتھ کلی طور انصاف کرپانا مجھ ناچیز کے لئےممکن نہ ہے، البتہ ایک کوشش ضرورکی ہے، اس میں کہاں تک کامیاب ہوا یہ تو قارئین جوکہ بہترین جج ہیں، وہی کرسکتےہیں۔ یہ مضمون تحریر کرنے کا خالص مقصد سرنکوٹ سے ادب کی دنیا سے جڑے لوگوں کا مختصر خلاصہ پیش کرنا، وہ کتنےبہترلکھتے ہیں یا ان میں کون نمایاں ہے کون نہیں....؟یہ ہرگزمقصود نہیں کیونکہ ایسا کرنا صرف شعرو ادب کی دنیا کے بلند پایہشخصیات ہی کرسکتی ہیں

خدا بخش زارمرحوم

سب سے پہلے میں گوجری زبان کے ایک عظیم شاعرمرحوم خدابخش زار کا ذکر کرو¿ں گا۔ مرحوم میاں نظام الدین لاروریؒ کے مرید تھے اور انہیں کی شخصیت سے متاثرہوکر انہوںنے پہاڑی اور گوجری زبان میں کلام لکھاجوکہ صوفیانہ طرز کا ہے۔ ان کے کلام کو انہیں کے پوتے ایازاحمد سیف،بشیرمستانہ اور عزیز ملنگامی کے علاوہ متعدد نامور گلوکاروں نے اپنی مترنم آواز بھی دی جس کو آج خطہ پیر پنچال اور وادیکشمیر کے متعدد علاقوں میں بڑی عقیدت وذوق وشوق کے ساتھ سناجاتاہے۔

حاجی حسام الدین

سرنکوٹ کے بزرگ شعرا وادبا ءمیں حاجی حسام الدین بیتاب سرفہرست ہیں۔ بیتاب اکتوبر1932کوسرنکوٹ میں پیداہوئے۔ کہنہ مشق شاعر، ادیب، صحافی اور نامور قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سماجی مسائل اور معاملات پر گہرینظر رکھتے ہیں۔ 1949میں بحیثیت مدرس تعینات ہوئے۔ تعلیمی شعبے میں بہترین خدمات کے عوض انہیں1968میں بہترینٹیچر کے ایوارڈسے بھی نوازا گیا۔ ادبی سماجی اور تعمیری پروگراموں میں سیاسی رکاوٹوں کے حصار کو توڑنے کی غرضسے 1982میں قبل از وقت ملازمت سے سبکدوشی حاصل کر لی۔ انہوں نے 2004میں پندرہ روزہ’دامن ِ شب‘ اردو اخبارکے اجراءکے ساتھ میدان صحافت میں قدم رکھا جوکہ مالی مجبوریوں کی وجہ سے تین سال کے بعد ہی بند کرنا پڑا۔ سال2004میں جب نیا نیا ’ دامن شب ‘اخبار نکالا تو میرے ایک عزیز دوست آصف قریشی نے مجھے اس کی ایک کاپی دی، جسکو میں نے پڑھا تو وہ کافی معیاری اور معلوماتی معلوم ہوا، پھر اس کے بعد اگلے شمارے کا میں بے صبری سے انتظار کرتاتھا، اس کی متعددکاپیاں آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔حسام الدین بیتاب کی 2007 میں’دشت جنوں‘ایک شعری مجموعہاور ’نقشہ راہ‘ ایک نثری کتاب منظر عام پر آئی ۔ 2010میں’جنبش طور‘ایک شعری مجموعہ اور ”جموں وکشمیر تاریخ کےآئینے میں“کی ایک تاریخی نثری تصنیف سامنے آئی۔ 2014میں شعری مجموعہ’سراب وحباب‘ لکھا۔ایک اور ادبی وتاریخیتصنیف’آئینہ خانہ ‘ اور ’عکس بسمل ‘اس وقت زیر طبع ہیں۔ ’جنبش طور ‘شعری مجموعہ اور ’جموں وکشمیر تاریخ کےآئینے میں‘ایک نثر ی مقابلہ جودو صد سے زائد صفحات پر مشتمل ضخامت کا حامل ہے کو خصوصی ادبی ، سیاسی ، سماجیاور اخلاقی مواد کو ریاست میں ایک نئی سوچ کے طور اپنایاگیا کیونکہ اس دوسری کتاب میں ریاست جموں وکشمیر کے انمسائل اور حقائق کو زیر بحث لاکر ریاست کے تنازعہ کا یک ایسا فطری ، سیاسی اور دائمی حل پیش کیا ہے جن مسائلوحقائق کی بنا پر ریاست کا یہ مسئلہ تنازعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ حسام الدین بیتاب کے شعری مجموعہ’دشتجنوں‘پر جموں یونیورسٹی کی جانب سے ایک طالبہ گل اکثر کو پی ایچ ڈی کے لئے ایم فل کا مکالہ تفویض کیاگیا جودشتجنوں کی روشنی میں’حسام الدین بیتاب کی شاعری‘کے عنوان سے 125صفحات پر مشتمل اردو ادب میں اضافہ کے طورمنظر عام پر آچکا ہے۔ صدر انجمن ترقی اردو ہند شاخ کشتواڑ کشاق کشتواڑی حساب الدین بیتاب کے حوالہ سے رقمطراز ہیں کہ ان (حسام الدین بیتاب)کاشمار ریاست جموں وکشمیر کے عصر ِنو کے ممتاز ادبا وشعرا کرام میں ہوتا ہے ۔انکی شاعری کی اساس مانوس اور معمولہ معنی پر قائم ہے، ان کے ہاں کھلی آنکھوں کے عمل کی شاعری کا واضع طور پراحساس ہوتا ہے، سادگی نرمی سلاست ان کے کلام کا شیوا ہے۔ پس ساختیاطی بصیرتوں کو وقت کی نگاہ جمال کے ساتھاستعمال کرنا اور ان کے اطلاقی امکانات کو بخوبی اجاگر کرنا ان کی شاعری کا خمیر ہے۔

شیخ آزاد احمد آزاد

اس کے بعد شیخ آزاد احمد آزاد ایک بڑا نام ہے ۔ شیخ عزیز الدین کے ہاں اکتوبر 1948 کو سموٹ سرنکوٹ میں پیدا ہوئےشیخ آزاد احمد آزاد پچھلے 45سال کے عرصہ سے تسلسل کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ ان کی 5کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ3 کتابیں زیر طبع ہیں۔شیخ آزاد احمد آزاد کو دو مرتبہ ریاستی اکیڈمی برائے فن وتمدن اور لسانیات نے Best Book Awardسے نوازا جاچکا ہے۔ چند روز قبل ہی انہیں گوجری شعری مجموعہ’تتلوس‘کے لئے سرینگر میں منعقدہ ایک تقریبکے دوران ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایوارڈ سے نوازا۔ اس سے قبل وہ گذشتہ برس پہاڑی شعری مجموعہ’شیشےنیاں کندھاں‘کے لئے بھی بہترین کتاب ایوارڈ سے نواز اچکا ہے۔ اس کے علاوہ ا ن کی کتابوں میں ’درد‘پہاڑی افسانویمجموعہ، ’مجبوری‘گوجری افسانوی مجموعہ اور پہاڑی شعری مجموعہ’آدھ المبے‘بھی شامل ہیں۔ پنجابی شعری مجموعہ’بنگاں‘،اردو افسانہ’انصاف‘ اور کشمیری شعری مجموعہ’پوش‘زیر طبع ہیں ۔محکمہ بطور سے بطور زونل ایجوکیشن افسر سبکدوشہوئے شیخ آزاد احمد آزاد کو ریاستی سرکار کی طرف سے 1996میں ’بیسٹ ٹیچر ایوارڈ‘سے بھی نوازاجاچکا ہے۔سرنکوٹ سےشیخ آزاد احمد آزاد واحد ایسے شاعر، محقق، دانشور، ادیب ومصنف ہیں جنہوں نے اردو، پہاڑی، گوجری، پنجابی اورکشمیری زبان میں کتابیں تحریر کی ہیں۔

شیخ خالد کرار

شیخ آزاد کے بعد ایک اور بڑا نام شیخ خالد محمود قلمی نام شیخ خالد کراّرکا آتاہے،رشتہ میں وہ شیخ آزاد کے بھتیجے ہیں۔خالدکرار وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے منفرد شعری انداز سے سرنکوٹ کو ادبی دنیا میں ملکی سطح پر متعارف کرایا۔ان کیشاعری کے معیار اورشعر گوئی کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ سال 2013میں ریاستیاکیڈمی برائے فن وتمدن اور لسانیات کے شعبہ انگریزی میں دو ماہی ’شیرازہ‘کے مدیر عابد احمد نے ان کی اردو نظموں کاانگریزی میں کامیاب ترجمہ کیا اور اس پر مبنی Crescendoنام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی جس کو کافی سراہنا ملی۔19دسمبر1976کو سرنکوٹ میں پیدا ہوئے شیخ خالد کرار نے بی اے( آنرز)، ڈپلوما اِن جرنلزم،ڈپلوما اِن گرافک ڈیزائننگ کررکھا ہے ۔وہ پیشہ سے صحافی اور ادیب ہیں۔ اس وقت وہ سہ ماہی ” سیاق“جموںاورآن لائن اردو جریدہ’Urdualive‘کےمدیر بھی ہیں۔اب تک ان کی6تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں جن میں ”آخری دن سے پہلے“( افسانوی مجموعہ2000”آنگنآنگن پت جھڑ“(شعری مجموعہ 2002)،”سوا نیزے پہ سُورج“(شعری مجموعہ2007)،”وُرود“(شعری مجموعہ 2011)،”کار ِ زباںدراز ہے“(فکاہیہ مضامین۵۱۰۲) جبکہ ”ماسوا“(شعری مجموعہ، زیر ِ طبع ہے۔ریاست جموں وکشمیر کے نامور شاعر حامدکاشمیری، نامور محقق، ادیب، مفکر، مورخ اور قانون دان محمد یوسف ٹینگ، نامور شاعر پرتپال سنگھ بیتاب اورشاعروادیب وکشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابقہ سربراہ پروفیسر جاوید قدوس نے بھی ان کے اعلیٰ پایہ کی شاعریکے معترف ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نئی دہلی خالد کرار کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ”شیخ خالد کرار میں شعر گوئی کیصلاحیت سچی اور پرقوت ہے نظم اور غزل دونوں میں ان کے یہاں تازہ خیالی اور شگفتگی ہے۔ غزل میں ان کیلفظیات جگہ جگہ غیر رسمی جرائت مندانہ اور تخلیقی چمک ومک کا پتہ دیتی ہے۔ ریاستی اکیڈمی کے اردو کے دو ماہی شیرازہمیں تسلسل سے لکھتے ہیں۔ریاستی وملکی سطح پر کئی نامی گرامی مشاعروں اور ادبی محفلوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پورمظاہرہ کرچکے ہیں۔ انہیں خدمات کے عوض دبستان ہمالہ اور ہمالین گروپ آف کالج راجوری نے انہیں’سال2010میں‘ایوارڈ سے بھی نواز تھا۔ عالمی سطح پر معصر نوجوان اردو شعرا حضرات کی فہرست میں شیخ خالد کرار بھیایک نام ہے۔

محمد ایوب شبنم

پہاڑی سلسلہ پیر پنچال کے دامن میں واقع وادی سرنکوٹ نے محمد ایوب شبنم جیسے نامور اردو افسانہ نگار کو بھی جنم دیاہے۔ایوب شبنم کا تعلق لون قبیلہ سے ہے جوکہ سوپور سے ہجرت کر کے براچھڑ لورن منڈی میں مقیم ہوئے جہاں سےایوب شبنم کے دادا مرحوم خواجہ غلام قادر جوکہ پہلے کسٹم افسر تھے، ہجرت کر کے گاو¿ں پوٹھہ سابقہ تحصیل مینڈھر حالسرنکوٹ میں مقیم ہوئے وہیں، خواجہ قمر الدین کے ہاں ایوب شبنم نے 5جون 1948کو جنم لیا۔1965میں سرنکوٹ کےواحدہائی سکول سے 10ویں کا امتحان پاس کیا۔ گیارہویں، بارہویں ڈگری کالج پونچھ سے کی اور بعد میں علی گڑھ مسلمیونیورسٹی سے بی اے آنرز کیا۔ 1972میں باقاعدہ طور سیاست میں قدم رکھاجوکہ آج تک جاری وساری ہے۔ 1987میںانہوں نے اسمبلی انتخابات میں بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا اور 11677ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ان کی ادبی زندگی کا آغاز1972میں’وادی سرن‘نامی مقبول ترین افسانہ سے ہوا جوکہ افسانوی مجموعہ ’شعلہ شبنم‘کا حصہہے، شعلہ شبنم کا مسعود تیار کیاگیا لیکن کہیں کھوجانے سے یہ آج تک کتاب کی شکل اختیار نہ کرسکا، اب حالیہ دنوں بقولایوب شبنم یہ مسعود ہ دستیاب ہوگیا ہے اور امید ہے کہ جلد کتاب کی شکل میں یہ قارئین کے پاس ہوگا۔ ان کا پہلاافسانوی مجموعہ’شاہین‘اپریل1972کوشائع ہوا جوکہ 11افسانوں پر مشتمل ہے۔انہوں نے 30اپریل1971کو ماہانہ ’ستاروںسے آگے‘ایک ادبی جریدہ نکالا جس کو 9برس کے بعد’15روزہ‘ اور پھر ہفتہ روزہ کیاگیا۔ اس میں ضلع پونچھ وسرنکوٹ کےادبی، سماجی، تعلیمی، اقتصادی وسیاسی مسائل کو بھرپوراجاگر کیاگیا، آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔

ادبیات پونچھ

’ستاروں سے آگے‘ہفتہ وار اردو اخبار کے ذریعہ ہی ایوب شبنم نے سرنکوٹ سے خود کوپہلے صحافی کے طور ریاستی سطحپر متعارف کیالیکن ایوب شبنم کی سیاست میں زیادہ سرگرم ہونے سے ان کی ادبی وصحافتی سرگرمیاں کافی حد تک متاثرہوئیں، ایک لمبے عرصہ تک ادبی دنیا سے دور رہنے کے بعد 2006میں ان کی ’ادبیتا ت پونچھ‘نام سے ایک کتاب شائع ہوئیجس میں پونچھ ضلع کے شعرا،ادبا کی مکمل تفاصیل موجود ہے، وہ پونچھ کی ادبی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں ایک سنگ میلکی حیثیت رکھتی ہے۔ ایوب شبنم افسانہ نگار ی میں سعادت حسین منٹو کوفنکار مانتے ہیں لیکن اس صنف میں ان کی کامیابیکے پیچھے کرشن چندر کا بہت بڑا ہاتھ ماناجاتا ہے ۔ کرشن چندر نے اپنے پونچھ کے سفرنامہ ”ورق ورق زندگی ہوگئی“میںتحریر کیا ہے کہ سرنکوٹ میں ان کی ملاقات افسانہ نگارمحمد ایوب شبنم سرنکوٹی سے ہوئی، ممبئی میں مقیم ہونے کے باوجودایوب شبنم کا کرشن چندر کے ساتھ خط وکتابت کا سلسلہ جاری رہا، ان خطوط میں کرشن چندر نے کئی بار یہ خواہش ظاہرکی کہ وہ سرنکوٹ میں رہ کریہاں کے ادباوشعرا حضرات کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔اردو دنیا کے بلند پایہ افسانہ نگار کرشن چندر کی طرف سے ’افسانہ نگار‘کی سند دیئے جانے سے ایوب شبنم کے حوصلے کافی بلند ہوئے ، جس کی وجہ سےانہوں نے اس صنف میں اپنا کمال دکھایا۔ اس وقت موصوف کرشن چندر میموریل بز م ادب سرنکوٹ کے جنرلسیکریٹری بھی ہیں۔

راجہ سرفراز جنجوعہ

اردوافسانہ نگاری کی دنیا میں سرنکوٹ سے ایک اور نام بھی کافی اہمیت کا حامل ہے ، جنہوں نے بہت اعلیٰ پایہ کےافسانے لکھے ہیں۔یوں تو اس شخصیت کو پونچھ کے عوامی حلقوں میں تقریباًہرکوئی جانتا ہے لیکن ادبی لحاظ سے بہت کمہی لوگ ان سے واقف ہیں کیونکہ اس کی بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ یہ شخص خود کو ادبی محفلوں، مشاعروں اور تقاریب سےدور ہی رکھے ہیں جوکہ خود کو ادبی حلقوں میں متعارف کرانے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہوگا ہے۔ میری مراد ایڈوکیٹراجہ سرفراز خان جنجوعہ سے ہے جوکہ بارایسو سی ایشن سرنکوٹ کے صدر بھی رہے ہیں۔گاو¿ں لسانہ میں مرحوم ماسٹرسبخان کے گھر 17نومبر1948کو پیدا ہوئے سرفراز خان جنجوعہ نے پہاڑی اور اردو زبان میں اچھی خاصی شاعری کی ہے ،یہ الگ بات ہے کہ وہ ادبی محفلوں سے خود کو کافی دور رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اردو افسانے بھی لکھتے ہیں، ان کےافسانے اور شاعری ریاست وملک کے مختلف حصوں سے شائع ہونے والے اخبارات، ہفتہ وار اور ماہانہ جرائد میںتسلسل سے شائع ہوتی رہی ہے لیکن پچھلے سات آٹھ برس سے انہوں نے اخبارات میں دینے کا عمل بند کر رکھا ہے،البتہ آج بھی وہ تسلسل کے ساتھ شاعری اور افسانے تحریر کرتے ہیں، جن کا یہ ماننا ہے کہ میرے بعد اس کلام کو کتابیشکل دی جائے۔ راجہ سرفراز نے 16برس تک بطور ٹیچر محکمہ سکول میں اپنے فرائض انجام دینے کے بعد مستعفیٰ ہوکرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے 1986سے وکالت شروع کی، جس کا عمل آج تک جاریہے۔ ان کے جو اردوافسانے ریاست وبیرون ریاست سے شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں ،ان میں....ماں کی مجبوری، تیری یاد میں، دریچہ، ندی کے پار، آنسوو¿ں کے دریا، محبت کے پھول، یادوں کے سائے،زخموں کے سائے، گمنام محبوبہ، ضمیر کا قیدی، یادِ ماضی عذاب ہے یا رب، جلتی آنکھیں، انجان چاہت، دل کے ارمانآنسومیں ڈھل گئے۔ انجان رشتے، جلتے آشیان، پیار کاجرم، دیار ِغیر، شیطانوں کی بستی، ستاروں سے آگے، پربتوں کےسائے، آخری ملاقات، حسرت، طلاق، مسافر، ترستی زُلفیں، آخری خط، قیدی، صدیوں کا پیاسہ، اُلجھن، بہت دیر بعد، قاتلیادیں، اجنبی موڑ اور بے ووفا کوچہ خصوصی طور قابل ذکر ہیں۔

ایم این قریشی

ایم این قریشی(درابہ)کا اردو زبان وادب کے فروغ میں اہم رول رہاہے۔ جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن اورنیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ(این سی ای آرٹی)نے ان کی تحریر کردہ متعدد اردو وانگریزی کتابوں کوشامل نصاب کیا ہے۔ 1962میں شعبہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی اور 2000میں بطور لیکچرر سبکدوش ہوئے۔ اب تکانہوں نے 30/32درسی کتابیں لکھی ہیں جنہیں این سی ای آر ٹی نے شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم وتدریس کی کتاباورقواعد وتدریس، اردو گرامر، بی ایڈ کی کتابیں بھی این سی ای آرٹی نے شائع کی ہیں۔ انہوں نے 12کے قریب افسانےبھی لکھے تھے لیکن کئی بار ان کی کمپوزنگ کی کوشش کی لیکن وہ مشن ادھور ا ہی رہا۔ وہ اس وقت دو نجی اداروں کو بھیچلارہے ہیں۔محکمہ تعلیم میں زونل ایجوکیشن افسر عہدہ سے سبکدوش ہوئے نذیر قریشی کئی کتابوں کے مصنف اور نامورکالم نویس ہیں۔ اس وقت سرنکوٹ سے اخبارات میں سیاسی، اقتصادی، تعلیمی وسماجی امور پر مضامین لکھنے والوں میںنذیر قریشی ایک نمایاں نام ہے۔ روزنامہ اڑان میں ’انگارے شرارے‘نام سے وہ ایک ہفتہ وار مضمون تحریر کرتے ہیںجوکہ کافی مقبول ہے۔انہوں نے اپنی قلم کی طاقت سے مظلوموں کی آواز کو بلند کیا ہے او ر ساتھ ہی برسراقتدار حکمرانوںکی بھی سرزنش کی ہے۔

ڈاکٹر لیاقت نئیر

ڈاکٹر لیاقت نیئر(دھندک) جوکہ اس وقت باباغلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی راجوری میں بطور پروفیسر اپنی خدما ت انجام دےرہے ہیں، بھی ادبی دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ اردو و پہاڑی میں ان کا اچھا خاصا کلام ہے۔ ریاست کے اردو اخباراتسے تسلسل کے ساتھ ان کے ادبی، سماجی، تعلیمی موضوعات پر تسلسل سے مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ خطہپیر پنچال اور ریاست کے دیگر علاقوں میں ریاستی کلچرل اکیڈمی یا دیگر تنظیموں کے بینر تلے منعقد ہونے والی ادبی محفلوںمیں ڈاکٹر لیاقت نیئر پیش پیش رہتے ہیں۔بزرگ شعرا ءمیں بشیر لوہار بھی شامل ہیں،ان کا تعلق شاعری وادب کے لئےسرنکوٹ بھر میں مشہور گاو¿ں مڑہوٹ سے ہے جہاں اردو،پہاڑی ، پنجابی اور گوجری زبان کے شعرا یہاں گھر گھر میں ہیںاور ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ پونچھ کے اندر مڑہوٹ گاو¿ں یہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے گوجری، پہاڑیاور اردو زبانوں کے اعلیٰ پایہ کے شعراءوگلوکاروں کو جنم دیا ہے۔ اخلاقیات، انسانیت، جذبہ ہمدردی اور حسن واخلاقیہاں کے لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جس کی نمایاں جھلک شعرا کی شاعری میں بھی ملتی ہے۔ بشیر لوہار نے زیادہتر گوجری زبان میں شاعری کی ہے اور ان کا کلام صوفیانہ ہے۔ بشیر لوہار اچھا گاتے ہیں بھی ہیں، دوردرشن جموں اور آلانڈیا ریڈیو سے ان کی آواز میں پہاڑی وگوجری کلام بھی کئی مرتبہ نشر کیاجاچکا ہے۔ ان کے فرزند صدیق احمد صدیقی جوکہدوران کالج میرے ہم جماعت بھی رہے ہیں،بھی پہاڑی اوراردو زبان میں اچھی شاعری کرتے ہیں، ریاستی کلچرلاکیڈمی کے اردو اور پہاڑی دو ماہی شیرازہ میں ان کی غزلیں، نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں، اس کے علاوہ وہ سماجی، تعلیمیوسیاسی امور پر مضامین بھی تحریر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی اچھی جگہ بنائی ہے۔

محمود احمد طاہر

گاو¿ں دھندک سے تعلق رکھنے والے محمود احمد طاہرولد خادم حسین اردو، پہاڑی، گوجری اور پنجابی زبان میں شاعریکرتے ہیں، لیکن پہاڑی میں ان کا کلام زیادہ ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل محمود احمد طاہرکلچرلاکیڈمی کے پہاڑی شیرازہ میں تسلسل سے لکھتے ہیں۔ پڑوسی ریاست پنجاب میں بھی مشاعروں اور محفلوں میں کئی مرتبہشرکت کی جہاں انہوں نے پنجابی کلام پیش کیا اور کافی سراہنا بھی ملی۔ اس وقت بزم ادب سرنکوٹ کے سیکریٹری ہیںجس میں زائد از 35ممبران ہیں۔یہاں یہ ذکر کرتاچلوں کہ طاہر محمود کے والد خادم حسین محکمہ مال سے گرداور ریٹائرڈہوئے ہیں جنہیں ایمانداری، دیانتداری کے لئے 1971میں مرکزی سرکار اور1989میں ریاستی سرکار نے بہترین محکمہ مالافسر ہونے کا اعزاز سے بھی نواز تھا۔ طاہر محمو د کے چاچا انجینئر برکت خان کا شمار ایشیا کے سرکردہ انجینئرز میں سےہوتا ہے، جوکہ اس وقت کشمیر میں مقیم ہیں۔طاہر محمود خود پہاڑی زبان وادب، تاریخ وثقافت سے متعلق ایک کتاب تیارکر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ گل اکثر ملک نے خطہ پیر پنچال کی تاریخ، جغرافیہ، ادبی، سیاسی، تاریخی وغیرہ سے متعلق مفصلتحقیق کی جس پر انہیںجموں یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ڈگری بھی تفویض کی گئی ہے۔

اردو ، پہاڑی اور گوجری کے دیگر شعرا

شریف مڑہوٹی گوجری زبان کے ایک بلندپایہ شاعر ہیں جس میں انہوں نے کافی نا م کمایاہے۔ حافظ محمد فاقر (بفلیاز)جوکہآنکھوں سے نابینہ ہیں، اردو اور پہاڑی میں شاعری کرتے ہیں۔ڈاکٹر امیر جعفری بھی اردو، پہاڑی اور گوجری میں شاعریکرتے ہیں۔ زیادہ تر وہ نعتیہ کلام اور مرثیے لکھتے ہیں۔ پیشہ سے میڈیکل افسر امیرجعفری کی ’آہ نی آواز‘اردو کتاب منظرعام پر آچکی ہے جبکہ پہاڑی کتاب ’پرسنگ‘کی کمپوزنگ ہوچکی ہے او ر طباعت کے مراحل میں ہے۔ انہوں نے گوجریزبان میں اچھا خاصا کلام لکھا ہے۔ مشکور حسین شاد، جنت حسین سلیم، شیخ ظہور احمد ، منور شاد، حفیظ الرحمن صفدر،ریاض صابر، جہانگیر اصغر، ، ڈاکٹر لیاقت نیئر، ماسٹرمنیر حسین منہاس ،مختار احمد مجاز(تراڑاں والی) ، ماسٹر شبیر خان (لسانہ ) اورافضل حسین شاہ (دھندک)، سانگلہ سے عبدالحمیدمیلو، اورعطا اللہ لیکچرر بھی قابل ذکر ہیں۔گوجری زبان کے عظیمصوفی شاعر مرحوم خدا بخش زار کے پوتے ایاز احمد صیف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین گلوکار /فنکاربھی ہیںجنہوں نے ملکی سطح پر بھی اپنی آواز کاجادو بکھیرا ہے۔گوجری گلوکاری میں بشیر مستانہ کے بعد ایاز احمد سیف ایک بہتبڑا نام ہے۔ پہاڑی اور گوجری فنکاروںمیں سرنکوٹ سے سرتاج جٹ دھندک کانام بھی قابل ذکر ہے۔

شیخ ظہور احمد پہاڑی زبان کے ایک نامور شاعر ہیں۔وہ شیخ خالد کرار کے چچا زاد بھائی اور شیخ آزاد احمد آزاد کےبھیجتے ہیں۔1986سے وہ پہاڑی شاعری کرتے آرہے ہیں،اپریل 2016کو ریاستی اکیڈمی کے ’بزم شیرازہ‘انہیں کے ناممخصوص تھا جس میں ان کے کلا م کو ماسٹر کرتارچند نے اپنی آواز دیکر سامعین کو محظوظ کیا۔ان کے پہاڑی کلام کاتنقیدجائزہ پہاڑی زبان کے نوجوان اور صف اول کے شعرا ئ، دانشور، محقق میں شامل انور خان نے پیش کیاجس میں انہوںنے شیخ ظہور کوبہترین اور بلند پایہ شاعر قرار دیتے ہوئے کہاتھاکہ ان کے کلام میں آگے بڑھنے، حوصلہ، مسلسل جدوجہدکرنے کی تحریک ملتی ہے اور ساتھ ہی ان کے کلام میں اخلاقی قدروں، رشتے، احساسات وجذبات ، رسم ورواج کینمایاں جھلک ملتی ہے۔ سلیم جاوید قریشی ولد قدیر حسین قریشی، گریجویشن کے بعد تجارت سے وابستہ ہوگئے ۔ اردواور پہاڑی کی شاعری کرتے ہیں اور پچھلے پانچ سال سے پہاڑی اور اردو کے شیرازہ مین ان کی شاعری تسلسل سے شائعہوتی ہے۔ چندی گڑھ او رموہالی میں مشاعروں میں حصہ لیا، گرل میں رائٹرس کیمپ میں بھی شرکت کی۔ جموںیونیورسٹی سے اردو میں گولڈ میڈلسٹ جہانگیر اصغراردو میں اچھے مکالے لکھنے کے ساتھ گوجری میں شاعری بھی کرتےہیں۔سرنکوٹ کی ادبی دنیا میں بشارت حسین جازب اورعنایت حسین تنویر (دھندک)بھی بڑے نام تھے جوکہ اس دنیا میںاب نہیں رہے ہیں۔

عاقب شاہ

سرنکوٹ کے گاو¿ں پوٹھہ سے تعلق رکھنے والے عاقب شاہ بھی اردو اور پہاڑی شاعرو ادیب ہیں۔1991میں پیدا ہوئےعاقب شاہ نے جموں یونی ورسٹی کے لاسکول قانون کی ڈگری حاصل کی اور اسی دوران سے لکھنے کا عمل بھی شروع کیا۔اب تک مختلف زبانوں میں ان کی 5کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں The Caliph نامی ایک انگریزی ناول بھی شاملہے۔جیسا کہ میں نے پہلے ہی ذکر کیاتھا، سرنکوٹ ایک ادب نوا ز سرزمین ہے ، اس لئے یہاں کے شعرائ،ادبا ، مصنفینکی بھی ایک لمبی چوڑی فہرست ہے جن سبھی کا ذکر ایک مضمون کے اندر کرنا ممکن نہیں۔ سرنکوٹ کے شعراءاور ادباکے بارے میں کئی متفقہ رائے قائم کرنا مشکل ہے البتہ جہاں تک میں نے مشاہدہ کیا اور میرا ماننا ہے کہ ان کے شعریکلام اور نثری تخلیقات ومضامین میں جہاںاخلاقیات، انسانیت، سادگی، شرافت، عازجی انکساری کی جھلک ملتی ہے وہیںپونچھ کی تاریخی، سیاسی، سماجی، تعلیمی، اقتصادی صورتحال، سماجی معاملات کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

٭٭٭٭٭