ریڈنگ کلچر میں تشویش ناک کمی اور اس کا ممکنہ حل

ایک انٹرنیشنل غیر حکومتی تنظیم کے ایک سروے میں، جو ملک کے مختلف علاقوں سے لئے گئے اعدادوشمار پر محیط ہے کہ مطابق:پاکستان کے تعلیمی اداروں میں انگریزی اور اُرد وکُتب کی عبارات کی قرات خوانی -الفاظ کی ادائیگی اور اسکے متن کی تفہیم کا معیار کسی بھی علمی پیمانے کی روح سے انتہائی پست بلکہ اپنی نچلی حدوں کوچُھو رہا ہے۔اس سروے کے مطابق جماعت پنجم کا بچہ جماعت سوئم کی اُردو اور انگریزی کی عبارت کوپڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہے۔اسی طرح انٹرمیڈیٹ -ایف اے, ایف ایس سی کا بچہ درست الفاظ کی ادائیگی اورمفہوم کے ساتھ ثانوی درجے کی کتب کو نہیں پڑھ سکتا۔مزیدبراں، اگر کتابیں کسی اور پرا ئیویٹ ٹیکسٹ بورڈ کی ہوں جو اسی طرح کے مساوی سطح کے طلبہ کے لیے لکھی گئیں ہوں تو اُن کی قراتِ متن اور تفہیم کا معیا ر تو اور بھی ناقص اور پست ہو جاتاہے۔ یہ اعداد و شمار اور نتائج ہمارے ارباب حل و عقد، اصحاب انتظام و انصرام تعلیم، ماہرین،اساتذہ اور والدین کے لئے چشم کشا اور قابل غور ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہوں۔۔ خواندگی کی شرح کم اور تعلیمی سہولیات کم ترین سطح پر ہوں،وہاں پر تعلیم کے عمل سے فیضیاب بچوں کا یہ حال یقینا ایک لمحہ فکریہ اور انتہائی توجہ کا حامل ہے۔ ریڈنگ میں قرات خوانی یعنی الفاظ کی درست ادائیگی کے ساتھ ساتھ متن کی تفہیم - دونوں جہتں شامل ہوتی ہیں۔ اچھی قرات اگر زباں اور ابلاغ کا حُسن ہے۔تو تفہیم عبارت اس کا دل ہے۔۔دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ تدریسی عمل میں دونوں کو مساوی اہمیت دینی چائیے۔تاہم تفہیم عبارت کی مہارتوں پر عبور ہی وہ مستند اور معتبر فن ہے جو زندگی کے ہر میدان میں ترقی اور کسی ہدف تک پہنچنے کی سیڑھی ہے۔ مزید براں مطالعہ ہی وہ عامل ہے جو ہمارے دل و دماغ کی خوراک اور اِن کے نُمو اور پرورش کا باعث ہے۔

مذکورہ بالا سروے کے نتایج کا اطلاق یکساں طور پر سرکاری اور غیر سرکاری - دونوں طرح کے تعلیمی اداروں پر ہوتا ہے۔ سکولوں میں،خصوصا ً،دیہی علاقوں میں قرات خوانی کے معیار کی پستی ایک امر واقع ہے۔جہاں تک تفہیم پر مبنی عبارت کی تدریس کا تعلق ہے وہ بھی رٹہ بازی، ناقص امتحانی نظام، نمبرات اور گریڈ کی دوڑ کے سبب غیر موثر اور غیر پیداواری ہے۔ ہمارے ہاں تدریس میں، تفہیم اور عبارت خوانی کا عمل طالبعلم کے بجائے اساتذہ کے ذمہ ہوتا ہے۔طالب علم کا کام بس عبارت پر مبنی تفہمیی سوالات کو لفظ بہ لفظ ا ازبر کر کے امتحان میں دی گئی جوابی کاپی پر عکسی نقل کی طرح ر ٹے ہوئے موادکی اصل کے قریب نقول کا نقش کرنا ہی اصل معیار تصور کیا جاتا ہے۔

عموماًریڈنگ کی دو اقسام ہیں:ایک جماعت میں کی جانے والی تفہیم متن ہے جسے Intensive Reading مفصل مطالعہ کہا جاتا ہے۔ جب کے دوسری کو وسعت پزیرمطالعہ Extensive Reading یا کمک دہی پر مبنی پڑھائی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو پختہ اور مضبوط کرتی ہیں۔ جہاں تک جماعت سے باہریا گھر میں کی جانی والی کتاب بینی کا تعلق ہے اُس کا واحدمقصدہی کسی بھی مصنف کے کام کا خلاصہ اورعمومی مفہوم کوجاننا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ایسے مطالعہ کو تفریحی یا فراغت پر مبنی ریڈنگ بھی کہا جاتا ہے۔ بیچلر کی سطع کے بعد زبا نوں کی تدر یس کے حوالے سے اساتذہ میں متن کے مفائیم کو جاننے کے علاوہ کسی بھی ٹیکسٹ کی تنقید اور تنقیض کی صلا حیت اور فن کا ہونا بھی ایک اہم لازمہ ہے۔مگر اسا تذہ کی بڑی اکثریت خود اس ضروری اہلیت اور مہارت سے سے نابلد اور اسے برتنے کے سلیقے سے عاری ہو تی ہے۔یوں مطالعہ کا یہ درجہ اور مقام اساتذہ کی نا اہلیت اور امتحانی نظام کے سبب فروغ نہیں پا سکتا۔

اسی طرح ہمارے ہاں طلبہ میں خود کا رانہ کتاب بینی کا رجحان اور عادت انتہائی کمزور بلکہ یکسر مفقود ہے۔وہ اُس وقت کتابوں کا رخ کرتے ہیں جب اُنھیں اساتذہ کی طرف سے دی گئی کوئی Assignment کرنی ہو یا امتحان سر پر ہوں۔اداروں کے اندر خصوصاً لا ئبریر یو ں کا نہ ہونا یا لا ئبریر ی کلا س کے جدید تصور سے نا آشنائی کتاب بینی کے شوق کی پروردگی کے رستے میں ایک بڑی رکاو ٹ ہے۔ہما رے ملک کے بہت محدود ا داروں میں لا ئبریری کلاس کا تصور مو جو د ہے۔لوگوں کی معاشی حا لت میں ابتری بھی اس شوق کے زوال کا سبب ہے۔اکثر والدین نصاب کی کتب ہی بہ مشکل خر ید پاتے ہیں کجا کہ کوئی اور غیر نصابی کتاب! اس کے ساتھ ساتھ اسا تذہ کی اکثریت بچوں کے لئے لکھے جا نے والے لٹر یچر سے نا آشنا ء ہو تی ہے۔محدود مقاصد، کا م کے بوجھ اور نصاب کو بر وقت ختم کروانے کے دباوء کے سبب، وہ بچوں کو پڑھنے کے ذوق کو فروغ دینے سے قا صر رہتے ہیں۔

ہمارے ہاں پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی نظام میں آمد کے بعد نمبرات کی دوڑ اور گریڈ کو اولیت اور ترجیح دینے کے سبب یہ تاثر عام ہواہے کہ نصاب ہی پڑھنے لکھنے، بولنے اور سننے کی مہارتوں میں پختگی کے لئے کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ساری توجہ کا مرکز بلکہ ابتداء اور انتہابس نصاب ہی سمجھا جاتا ہے - وہ بھی اس کے منتخب حصے جو امتحانات کی کامیابی کے ضامن ہوں -تفوق اور اولیت کے حامل ٹھرائے جاتے ہیں۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ تعلیمی عمل میں نصاب سازی اور اسکی پوری روح کے ساتھ تدریس ہی سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔مگر طلبہ میں نفسں مضمون پر مکمل عبور اور ابلاغ میں پختگی کے لئے یہ کافی نہیں ہوتا۔زبانوں کی تدریس پر مامور اساتذہ کی بڑی اکثریت متن کی درست تدریس اور تفہیم کی جدید مہارتوں سے نابلد ہوتی ہے۔ وہ زیادہ تر نصاب کو معاون مواد کی مدد سے تدریس کرتے ہیں مگر پیرائے context- کے استعمال سے مفہوم اورعبارت سے معنی اخذ کرنے سے عاری ہوتے ہیں۔یوں اُنکا غلط طریقہ تدریس طلبہ میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنے اور پختہ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

بیچلر کی سطح اور اس بعد کے درجے میں اساتذہ کے اندر عبارت کی تفیہم کے ساتھ ساتھ تنقید و تنفیص کی صلاحیت کا ہونا لازمی ہے۔مگر اساتذہ کی بڑی تعداد خود اس صلاحیت اور مہارت کے برتنے کے لئے زیادہ تر پہلے سے موجودہ لگی لپٹی آراء پر بھروسہ کرتے ہیں۔یوں یہ عمل بھی امتحان میں اچھی کامیابی اور رٹہ سے نموپائی ہوئی مشروطیت کی وجہ سے پھل پھول نہیں سکتا۔ در حقیقت ہمارا نظام تدریس و امتحانات پڑ ھنے کی خود کارانہ صحت مند عادت ہما رے طلبہ میں پیدا کر نے سے مکمل عاری رہتا ہے۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے ۔جو کافی مضحکہ خیزہے۔کہ الیکٹرانک میڈیا کے بے محابہ استعمال اور سکرین ریڈنگ کے سبب کتاب خوانی اور مطالعہ کا رحجان کم ہوا ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال کندگان میں شمار ہوتے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے موجد ین اور خالقوں کے ھاں تو ایک سروے کے مطابق مطالعہ کے رحجان اور کتاب بینی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور کتابوں کی مانگ عروج پر ہے۔

ان مکدر حالات میں تعلیمی نظام کے تمام شراکت داروں پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ابتر حالات اور کیفیتی زوال پر غوروفکرکریں اوراساتذہ کی تربیت نئے خطوط پر کریں۔تعلیمی اداروں میں لائبر یریوں اور فرنیچر وغیرہ کی سہولت کو بڑھائیں۔ امتحانی نظام کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اس طریقے سے ا ستوار کریں جو رٹہ کے بجائے تفہیم آمیز اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے درست جانچ اورپرکھ پر مبنی ہو۔ اداروں کے سربراؤں کو لائبریری کلاس کا ہر حال میں انتظام کرنا چاہیے۔کتا ب بینی کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے دیگر Incentivesکا اضافہ بھی کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے والدین پر بھی بڑی ذمہ داری عائدہوتی ہے۔۔ خصوصاً وہ والدین جو پڑھے لکھے ہیں، انہیں بچوں میں ریڈنگ کے رحجان کو بڑھانے میں ا پنے آپ کو رول ماڈل بنانا چا ئیے۔ ایک مفکرکے خیال میں والدین اپنے بچوں کو جو ترکہ منتقل کر تے ہیں اُن میں پڑھنے کی عمدہ عادات کی منتقلی سب سے اہم تحفہ ہوتا ہے۔اگر مذ کورہ بالا باتوں پر سنجیدگی کے ساتھ مزید غور و فکر کرکے عمل کیا جا ئے تو ریڈنگ کلچرکے زوال کو روک کر گرتے معیا ر تعلیم کو بہت بہتر اور ہم عصر تقا ضوں سے کسی حد تک ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔