رضائے الٰہی کا حصول

میں اکثر سوچتی ہوں کہ اللہ تعالی نے اپنے اوپر توکل کرنے والوں کے لئے اتنا بڑا انعام کیوں رکھا ہے؟ سننے میں تو کتنی آسان سی بات لگتی ہے نا کہ اللہ تعالی پر بھروسا کرلو، کچھ بھی مشکل پڑے، کچھ بھی ایسا ہونے لگے، جس سے تکلیف ہوتی ہو، جو دل کو اچھا نہ لگے، تو بس یہ سوچ لو کہ اللہ کو منظور نہیں تھا، اس چیز میں بہتری نہیں تھی، اللہ اس سے اچھے سے نوازے گا اور یہ بات کہ اللہ نے ہر مشکل چیز کے ساتھ آسانی رکھی ہوتی ہے اور یہ کہ اللہ کسی پر اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جتنا وہ اٹھا نہ سکے..........

لیکن وہی ساری باتیں جو سننے میں اتنی آسان لگتی ہیں، جب کرنی پڑ جائیں تو مشکل کیوں پڑنے لگتی ہے؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ہم جن باتوں کو سن سن کر بڑے ہوتے ہیں جب ان پہ عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو کمزور پڑ جاتے ہیں. ہمت جواب دینے لگ جاتی ہے. دل سہارے ڈھونڈتا پھرتا ہے لیکن یہ دنیاوی سہارے مشکل پڑنے پہ غائب ہو جانے کی خاص صلاحیت رکھتے ہیں. اور بات گھوم پِھر کر پھر اسی طرف آجاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی. لیکن پھر وہی بات کہ دنیا کی ہر ایک چیز کو اللہ کے حوالے کر دینا، بس کہنے میں آسان ہے، عمل کرنا پڑ جائے تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے. یا شاید یہ ہے کہ انسان بہت بے صبرا ہے. زندگی اسکی مطابق چل رہی ہو تو خوش رہتا ہے زرا سی بات اسکے خلاف ہو جائے تو سوال کرنے لگتا ہے. اس بات کا صبر نہیں کرتا کہ اللہ نے واقعتاً بھلائی رکھی ہے، وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے اپنے بندوں کو تکلیف دے سکتا ہے؟ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ بندہ اس پر بھروسا کرے. اسی کو اپنا رب جانے، دل سی مانے، اس کی رضا میں راضی ہونا سیکھ جائے.....

اگر ہم اس ایک بات پہ دل سے یقین کر لیں تو بڑی سے بڑی مشکل سے گزر جائیں، ہر تکلیف، ہر دکھ، ہر پریشانی کو جھیل لیں، ہر مشکل آسان لگے،پریشانی پریشانی نہ لگے. بس ساری بات اس یقین کی تو ہے. ایک دفعہ یہ پیدا ہو جائے تو شاید زندگی جھیلنی نہ پڑے، آسانی سے کٹ جائے.....

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس یقین سے نوازے، یہ بھی اسی کی دین ہے، گو اس کے لئے کچھ محنت کرنا پڑتی یے، جستجو کرنا پڑتی ہے، لیکن اس جستجو اس محنت کی طرف لے جانے والی ذات اسی کی ہے، وہی اپنی طرف بلانا چاہتا ہے تو اسباب پیدا کرتا ہے کہ انسان اسکی طرف آئے. اور یہ مشکل کام ہے اسی لیے ہر بندہ اسکو کرنے کے لائق نہیں ہو پاتا. یہی وجہ ہے کہ اسکا اجر بھی بہت زیادہ ہے.

بہرحال لُبِ لباب بس اتنا سا ہے زندگی گزارنے کا سب سے آسان حربہ یہی سمجھ میں آ سکا ہے کہ اپنے رب پر پورا پورا توکل رکھیں، وہ جو کر رہا یے، جیسے کر رہا ہے اسے کرنے دیں، اسکے ہاں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں. اور اگر دیر ہو تو اس میں بھی بندے ہی کی بہتری ہوتی ہے. یعنی بس اس ذات پہ بھروسا کر لیا جائے تو زندگی سہل ہو جائے گی......... زندگی کے بارے میں عاجز ماتوی صاحب نے کیا خوب کہا ہے.

ہر قدم مرحلۂ صبر و رضا ہو جیسے

زندگی معرکۂ کرب و بلا ہو جیسے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میں ایک دوسرے سے ملائے اور وہاں تمام خواہشات پوری کرے...