منفرد لب و لہجے کا شاعر علی احمد کیانی

''علی احمد کیانی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں وہ اردو غزل کے کلچر اور مزاج سے بخوبی واقف ہیں۔وہ نہایت معیاری اور منفرد غزل کہتے ہیں۔ان کے کلام میں جابجا عشق و محبت کے موضوعات کی رنگا رنگی نظر آتی ہے ان کی ہر غزل ترنم اور موسیقیت سے بھرپور ہے غزل میں گیت کا رنگ بھی نمایاں ہے۔انہوں نے غزل کو اس کی حقیقی روپ اور کلاسیکی روح کے ساتھ پیش کیا''۔درج بالا الفاظ مشہور غزل گائیک استاد غلام علی کے ہیں جو انہوں نے علی احمد کیانی ایڈوکیٹ کے لیے کہے ہیں۔ علی احمد کیانی کا تعلق راولاکوٹ آزاد کشمیر کے نواحی گاؤں ہاڑی سے ہے اور لاہور ہائیکورٹ میں وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں۔علی احمد کیانی صاحب ایک اچھے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعر بھی ہیں اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ شاعر پہلے ہیں اور وکیل بعد میں ہیں ۔ علی احمد کیانی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ”آنچل کی ہوا دے دو '' 2004میں شائع ہوا جسے علمی اور ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔نمونہ کلام کچھ یوں ہے۔

مکاں کے اجڑے کمروں میں تری یادوں کے میلے ہیں

زمانہ سوچتا ہو گا کہ ہم گھر میں اکیلے ہیں

ان کا دوسرا شعری مجموعہ ''محبت لازمی کرنا'' 2018 میں شائع ہوا جو اپنے کلام میں ایک بہترین اور منفرد مجموعہ ہے۔ایک غزل چند اشعار کچھ اس طرح ہے،

چاندنی رات میں قمر چمکے/بستی بستی نگر نگر چمکے

چاند نکلا تو روشنی پھیلی/بے چراغوں کے رات گھر چمکے

مہ جبیں کا بدن ہے چمکیلا/اسکے دیدار سے نظر چمکے

ان کا تیسرا نعتیہ مجموعہ “آقا تیری گلی میں “2019 میں شائع ہوا جس میں آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت اور عشق کا اظہار کیا گیا نمونہ کلام کچھ اس طرح ہے:-

کرم کی بارشیں برسیں بہاریں اس پہ نازل ہوں/ سدا مہکے یہ امت کی کیاری یارسول اللہ

علی احمد کیانی صاحب کی کتاب”محبت لازمی کرنا” کے مطالعے کے دوران ایک بات کا علم ہوا اور بے حد خوشی بھی ہوئی کہ انھوں مشہور شاعر اور نعت خواں سید امین گیلانی مرحوم کی مشہور غزل “کیا سے کیا ہوگیا دیکھتے دیکھتے”پر تضمین کی ہے۔

تضمین کسی دوسرے شاعر کے مصرعے یا پورے شعر یا غزل کو اپنے کلام میں اس طرح جگہ دینا کہ وہ ایک نئی غزل نظم یا شعر کی صورت اختیار کر جائے تضمین کہلاتا ہے۔

تحریر میں طوالت کی وجہ سے سید امین گیلانی مرحوم کی غزل اور علی احمد کیانی صاحب کی تضمین یہاں لکھنے سے قاصر ہوں

یہ بات باعث مسرت و افتخار ہے کہ بھارت کے مشہور غزل گائیک اور میوزک ڈائریکٹر بھوپندر سنگھ نے علی احمد کیانی صاحب کے پہلے شعری مجموعے سے ایک غزل”گھنگرو باجے پائل چھنکی چل بھئی ساقی جام پلا ” اپنے میوزک البم میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ تحریری اجازت لی۔اس کے علاؤہ بھی دیگر غزل گائیکوں نے ان کا کلام گایا ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام”اب میں بولوں کے نہ بولوں” میں صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار افتخار قیصر نے علی احمد کیانی صاحب کا مزاحیہ کلام گایا جو بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

2007 میں جب وکلاء تحریک زوروں پر تھی تب رائل ٹی وی چینل پر ایک پروگرام “قوالیات حاضرہ”چلا جس میں افتخار قیصر کو بطور قوال اور علی احمد کیانی صاحب کو بطور شاعر لیا گیا۔علی احمد کیانی صاحب نے معاشرتی نظام کی بداعتدالیوں کو قاری تک پہنچانے کے لیے آسان اور سادہ لفظوں کا استعمال کیا ہے اور سادگی ہی ان کے کلام کو پسند کرنے کی وجہ بنی۔

میرے دل کو ویراں سرا کرنے والے/ بھلا ہو تمھارا ، برا کرنے والے

تمہی نے کہا تھا ارے بے مروت/ کہ تم ہو محبت سدا کرنے والے

جفا کرنے والوں کے ہیں ہرسو ڈیرے/کہاں کھو گئے ہیں وفا کرنے والے

عدو بددعائیں جو دیتا ہے دے دے/ ہزاروں سجن ہیں دعا کرنے والے

مصیبت کے مارے علی پوچھتے ہیں/ کہاں ہیں وہ سارے بھلا کرنے والے

علی احمد کیانی اپنی ماں بولی پہاڑی میں بھی شعر کہتے اور لکھتے ہیں پہاڑی زبان میں ان کا شعری مجموعہ”پیار نے دیوے بال“ کا مسودہ تیار ہے اور جلد منظر عام پر آئے گا اس کے علاوہ مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتے ہیں جن کا مجموعہ حرف قلم بھی تیاری کے مراحل میں ہے۔ میرے لیے خوشی اور فخر کی بات یہ ہے کہ علی احمد کیانی کا تعلق میری دھرتی سے ہے۔وہ ایک اچھے شاعر،اچھے وکیل ہونے کے ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں۔انتہائی ہنس مکھ، راہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنے والے انسان ہیں۔وہ ایک سلجے ہوئے،سنجیدہ اور نفیس انسان ہیں۔بہترین طرز عمل اور شائستہ مزاج رکھنے والے شاعر ہیں۔ان کا کلام نہایت فصیح،بلیغ،نفیس اور اعلی فکری رویوں کا حامل ہے میری دعا ہے کہ ان کا کلام ان کے لیے عزت اور ادبی صلاحیتوں کے مزید نکھار کا باعث بنے

آخر میں ایک غزل ملاحظہ کیجئے:-

اس طرح زندگی بسر کیجئے/ کہ سبھی کے دلوں میں گھر کیجئے

یار جتنی خطائیں کر جائیں/سب خطاؤں سے درگزر کیجئے

میں ستاروں سے آگے جاتا ہوں/ ساتھ میرے کبھی سفر کیجئے

وصل کی رات ہے گلے لگیے/ آج یوں مت اگر مگر کیجئے

آپ کی دید کا میں طالب ہوں/ میرے کوچے سے بھی گزر کیجئے

آپ کو ہم سفر چنا میں نے/آپ اس بات کی قدر کیجئے

چارہ درد دل محبت ہے/مجھ پر چاہت بھری نظر کیجئے

جب بھی مشکل گھڑی کوئی آئے/سینہ اپنا علی سپر کیجئے