موبائل فون یا وبال فون۔۔۔؟

عمران حمید گیلانی

عصر حاضر کی سب سے مفید ایجاد دیکھی جائے تو وہ کمپیوٹر کے بعد موبائل فون ہے،ترقی یافتہ ممالک میں موبائل فون کا استعمال اگرچہ کافی عرصہ سے شروع ہو گیا تھا تاہم ایشیائی ممالک با لخصوص پاکستان،بھارت،سری لنکا،بنگلہ دیش،کشمیر وغیرہ میں اسکا استعمال بہت بعد میں عمل میں آنا شروع ہوا،ان ممالک میں موبائل کے استعمال کرنے کی شرح میں حیرت انگیز طور پر اضافہ دیکھنے میں ملا ہے،ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ صرف پاکستان میں 8کروڑ سے زائد موبائل کے صارفین موجود ہیں،گویا پاکستان کا ہر دوسرا شخص اس سہولت سے مستفید ہوتا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنسی ترقی نے جہاں انسانوں کی سہولیات کیلئے بیش بہا خدمات سر انجام دی ہیں وہیں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے،انسانیت کو پستی کے گہرے گرد اب میں جکڑنے،انسانیت کے مابین تصادم کو ہوا دینے میں بھی سائنس نے جو از فراہم کیا ہے،موبائل فون سہولیات کے اعتبار سے موجودہ دور کی سب سے مفید ایجاد تو ضرور ہے جس کی وجہ سے دوریاں سمٹ گئی ہیں،فاصلوں کی مسافت کا خاتمہ ہوا لیکن موبائل فون کے بے جاء استعمال اور تصویر کا دوسرا رخ بڑا ہی بھیانک نظر آتا ہے جس کے اثرات معاشرے پر عیاں ہونا شروع ہو گئے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو خدشہ ہے کہ ہماری مسلمان قوم اخلاقی پستیوں کی گہری کھائی میں گر کر اپنی موت آپ مر جائے گی،کیونکہ دنیا میں اللہ نے جتنی بھی قوموں پر عذاب نازل فرمایا وہ اقوام اخلاقی بیماریوں میں مبتلا تھیں،موبائل فون کی سہولیات اور افادیت اپنی جگہ موجود ہے جس سے کسی کو انکار ممکن نہیں لیکن دوسری طرف موبائل فون کا استعمال جس انداز سے کیا جا رہا ہے،وہ خطرناک امر ہے بالخصوص ہماری نوجوان نسل جس سے پوری قوم کو بڑی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ نوجوان ہی کسی ملک و معاشرے کا بہتر ین مستقبل ہوتے ہیں، ہماری نوجوان نسل جنہیں اپنی ساری توجہ حصول تعلیم،مطالعہ وتحقیق کی جستجو میں صرف کرنا چاہیے مگر نوجوان کے ہاتھوں میں آج کتاب کی جگہ موبائل فون نے لے لی ہے،موبائل کمپنیوں نے ایک دوسرے کو مات دینے کیلئے سستے پیکجز اور میسجز کی روایت نے گویا پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیا ہے، موبائل فون کے بے جاء استعمال بڑے پیمانے پر اخلاقی،معاشی اور طبی نقصانات نے جنم لیا ہے تو دوسری طرف اسلام دشمن عناصر اور قوتوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کے نام لیواؤں کو مذہبی تعلیمات کے نام پر گمراہ کرنے کا گھناؤنا عمل بھی شروع کر دیا،اسلام،قرآن،احادیث،صحابہ کرامؓ و بزرگان دین سے منسوب میسجز صارفین تک پہنچائے جا رہے ہیں جن کا مصدقہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا،اکثر وظائف،کوئی عمل یا پھر کوئی میسج آگے لوگوں کو بھیجنے سے ساتھ دنوں،گیارہ دنوں یا پھر چالیس ایام میں کوئی بڑی خوشخبری ملنے کی نوید بھی سنائی جاتی ہے،موبائل فون نیٹ ورک کے ذریعے فراڈیوں،نوسر بازوں اور ٹھگوں کے گروہ متحرک ہو کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ چکے ہیں،موبائل فون کے بے جا استعمال نے ہماری نوجوان نسل بے راہروی کا شکار ہو چکی ہے،مگر ستم ظریقی دیکھئے دوسروں کی اندھی تقلید نے ہمیں واقعتاََ اندھا کر دیا ہے،اب گھروں میں ہمارے بچے موبائل فون کی رنگ ٹونز پر رقص کرتے ہیں،پتہ نہیں اس بد قسمت قوم کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔۔؟