میرا آبائی بازار پھجّڑ، مجاہدآباد

اگر آپ راولاکوٹ سے شمال مغرب کی طرف مظفرآباد و ٹائیں ڈھلکوٹ روڈ پر سفر کریں تو آٹھا کلومیٹر کے فاصلے پر ایک فوجی چھاونی(جس کا سابقہ نام ’’پھنڈیں نی گلی تھا)کے بعد بیاڑکے خوبصورت درختوں میں گِھرا ایک تاریخی قصبہ آتا ہے جس کا نام پھجّڑ ہے۔ اس قصبے کا نام پھجڑ کیونکر پڑا،اس بارے میں کسی کو علم نہیں ہے مگر اس بات کی تائید ہر ایک کرتا ہے کہ یہ نام صدیوں پرانا ہے۔

چار دہائیاں قبل ہمارے بچپن میں پھجّڑ بازار کم و بیش دو درجن دکانوں،ایک دو چائے خانوں ،ایک ریستوران،ایک ڈاک خانے اور دو عدد کمرشل بینکوں پر مشتمل ہوتا تھا۔بازار میں آٹے کا ایک سرکاری ڈپو بھی تھا جہاں مختلف فلور مِلز سے آٹے کی سپلائی جاری رہتی۔ بازار کے عقب میں ایک طرف جامع مسجد واقع تھی اور دوسری جانب نیچے کی طرف تین مشینیں نصب تھیں جن پر دُور دراز سے لوگ مکئی اور گندم پِسوانے کے لیے لاتے۔گو کہ یہ بازار انتظامی لحاظ سے میری جنم بھومی جِھڑی میں واقع ہے مگر یہ بازار یونین کونسل ہورنہ میرہ کے نواحی دیہاتوں،سنگھڑ،ترنوٹی ،کوٹیڑہ،چپھڑابن ،نمب کے علاوہ کچھاں،پوٹھی بالا،نمب(پوٹھی مکوالاں)بوسہ گلہ کے لوگوں کا بھی کاروباری مرکزتھا

اس بازار کی ابتدا تقسیمِ جموں کشمیر سے قبل اُس وقت ہوئی جب ایک مقامی شخص سردار اسلم خان نے پہلی دُکان تعمیر کی،بعد ازاں سردار گُل حُسین خان،ڈاکٹر محمد سعید خان اور سردار محمد حُسین خان نے بھی پھجّڑکے مقام پر واقع اپنی اراضی میں دُکانیں تعمیر کیں اور بازار میں اضافہ کیا۔ پھجڑ بازار سے ملحقہ دیہاتوں کو کچی سڑکیں جاتی تھیں جن پر فور بائی فور جیپیں چلتی تھیں جو مال برداری کا کام کرتی تھیں۔ پھجڑ بازار میں اشیائے خوردونوش راولپنڈی سے براستہ ٹائیں ڈھلکوٹ چلنے والے ٹرکوں اور’’طارق بس سروس‘‘، کے ذریعے آتی تھیں ،جہاں سے جیپوں کے ذریعے ان اشیاٗ کو اردگِرد کے دیہاتوں تک پہنچایا جاتا۔ پھجڑ بازار میں غالباََ یونین کونسل بھر کا ڈاک خانہ واقع تھا۔

مجھے معلوم نہیں کہ فی الحقیقت ایسا ہی تھا یا یہ مزاقاََ کہا جاتا تھا،جب کسی کو راولاکوٹ کی کسی دُکان سے کوئی شے نہ ملتی تو دکاندار گاہک کو کہتا ’’ یو تُسیں پھجّڑاا لَبسی‘‘۔پھجّڑ کی باربر شاپس بہت مشہور تھیں جہاں دُور دراز سے لوگ بال کٹوانے آتے۔ اگرچہ پوٹھی بالا سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں شریف پہائی اور خلیل پہائی(خُدا ان بھائیوں کو غریقِ رحمت کرے)کی دُکانوں پر بھی گاہگوں کی کمی نہ تھی مگر ہورنہ میرہ سے تعلق رکھنے والے جابر پہائی کے کھوکھے پر تِل دھرنے کو جگہ نہ ملتی۔


ڈاک خانے کے بابوکے لیے دُور اُفتادہ دیہاتوں میں گھر گھر جاکر ڈاک پہنچانا ممکن نہ تھا،یوں ایک چٹھی کئی ہاتھوں سے ہوکر مکتوب الیہ تک پہنچتی۔بعض اوقات کسی سرکاری ادارے کی طرف سے لکھا گیا خط اس قدر تاخیر سے منزلِ مقصود تک پہنچتا کہ وہ تاریخ کب کی گُزر چکی ہوتی جس سے قبل خط کا پہنچنا ناگزیر ہوتا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کسی کے نام لکھا گیا خط اُس کے ہم نام کے گھر جاپہنچتا۔ بعد ازاں پھجّڑ میں ٹیلی فون ایکس چینج بھی قائم ہوا۔ گو کہ پھجّڑ بازار کوئی بڑا بازار نہیں تھا مگر ضروریاتِ زندگی کی اکثر اشیاٗ وہاں دستیاب ہوتی تھیں۔

جابر پہائی تب جوان تھے،ہنس مُکھ اور بذلہ سنج تھے ،سات آٹھ دیہاتوں کے نوجوان اُن کے پاس آتے،ہنسی مذاق کرتے اور بال کٹواتے۔ ہر روز درجنوں نوجوان محض اُن سے ملنے اُن کے کھوکھے پر آتے، چائے منگوا کر پیتے،ذلفوں کو کنگی کرتے اور چلتے بنتے۔جابر پہائی نے اگرچہ ماضی قریب میں طویل بیماری بھی کاٹی ہے مگر خدا کے فضل سے وہ نہ صرف بقیدِ حیات ہیں بلکہ بازار کے وسط میں بالائی منزل پر اُن کی دکان آج بھی موجود ہے جہاں وہ اپنے مسکراہٹ بھرے چہرے کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،خدا اُنھیں صحت دے۔

ہمارے بچپن میں پھجّڑ بازار کی رونق دیگر دیہاتوں کے درجنوں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے گاوں جِھڑی کے خوش پوش نوجوان جنت حسین شیرو ، طاہر محمود،عتیق اسلم،علی اسلم(خدا غریقِ رحمت کرے)،چاچا افضال اور چند دیگر ہوا کرتے تھے۔ میرے والد محترم محمد اشرف خان المعروف شاکر خان پھجّڑ بازار کے ایک پرانے دکاندار تھے،اپنے والد محترم کے ساتھ میرا بچپن سے سے بازار آنا جانا ہوتا تھا،جب میں بڑا ہوا تو والد صاحب کی وجہ سے مجھے بھی پھجڑ بازار کا دکاندار ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔اُس وقت کے دکانداروں میں حاجی عبدالعزیز خان مرحوم،محمد دین عباسی مرحوم،صوبیدار(ر) محمد خان مرحوم،ذرین خان مرحوم،سجاد خان مرحوم،عطر پہائی مرحوم،لالہ خورشید مرحوم،صُوفی عبدالعزیز خان مرحوم،روشن خان مرحوم،ٹھیکیدار صابر خان مرحوم،روشن خان المعروف لدو مرحوم، چاچا اسمعیل مرحوم،اعظم خان مرحوم،اسلم خان مرحوم(ہوٹل والا)،عبد الہادی خان مرحوم،ہدایت خان مرحوم ،صوبیدار(ر) کمال خان مرحوم ،مندو پہائی مرحوم،سیدو پہائی مرحوم،ٹیلر ماسٹر اسحاق مرحوم،ٹیلر ماسٹر سرور مرحوم،جوتے مرمت کرنیوالے جنت پہائی مرحوم محمود صابر،مٹھائی والا فرید خان آف سنگھڑ پٹھارہ دھیرکوٹ،عزیز پہائی بیکری والا اور دیگر تھے۔بقید حیات پرانے دکانداروں میں اسحاق پہائی،گُل دین پہائی،فیاض صابر، جوتے مرمت کرنیوالے بشیر پہائی،ارشد خان،قاری شمشاد،بیکری والے اشرف صاحب اور چند دیگر اب بھی موجود ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہر دکاندار اور اُس کی دکان کے حوالے سے لکھنا ممکن نہیں ہے مگر یہاں مندو پہائی اور اُن کی دکان کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ آرٹیکل ادھورا رہ جائے گا۔ نمب ہورنہ میرہ سے تعلق رکھنے والے مندو پہائی کی دکان بازار کے وسط میں ہورنہ میرہ جانے والی کچی سڑک والے چوک میں واقع تھی جو نمازِ مغرب کے بعد اُس وقت دیر گئے بند ہوتی جب مکمل اندھیرا ہوجاتا۔مندو پہائی کی دکان ایک منفرد دکان تھی۔بظاہر دیکھنے میں لگتا کہ اُن کی دکان پر بہت کم چیزیں ہیں مگر کسی گاہگ کو اگر کوئی چیز بازار کی دیگر دکانوں پر نہ ملتی اور وہ جاکر مندو پہائی سے مانگتا تو مندو پہائی نے شائد ہی کبھی کسی گاہک کو خالی ہاتھ لوٹایا ہو۔

مِٹی کے تیل سے لے کر ہر چیز اُن کی دکان میں دستیاب تھی۔ مندو پہائی کی دکان میں چیزیں الماریوں میں کم ہی ڈسپلے ہوتی تھیں،چھت کے ساتھ،کسی ’’تھم‘‘ کے ساتھ کیلیں ٹھونک کر بس پوٹلیاں ہی پوٹلیاں لٹک رہی ہوتی تھیں مگر مجال ہے کہ مندو پہائی کبھی بھول جائیں کہ کونسی پوٹلی میں کیا ہے۔ جب کوئی گاہک آکر کوئی چیز مانگتا تو مندو پہائی کا ہاتھ سیدھا اُسی پوٹلی پر جاتا جس میں وہ چیز موجود ہوتی۔ مندو پہائی کے حوالے سے یہ مشہور تھا کہ وہ چیزیں مہنگی بیچتے ہیں مگر جب کسی گاہک کو پورے بازار میں کوئی چیز نہ ملتی تو وہ مندو پہائی کے پاس آتا اور منہ مانگے دام ادا کرکے حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر چلتا بنتا۔مندو پہائی اُس وقت لاپتہ ہوگئے تھے جب وہ اپنی دکان کے لیے سامان لینے راولپنڈی گئے تھے۔پھجڑ بازار میں جلالو پہائی کا کلّا، چہلّا پرویز،طیف ، لطیا پہاوی اور اس نوع کے دیگر کردار بھی موجود تھے جن میں سے اکثر آج بھی بقیدِ حیات ہیں۔

پھجڑ بازار کے گاہکوں میں قریبی فوجی چھاونی(برگیڈ ہیڈکوارٹر) کے فوجی جوان بھی ہوتے تھے جو عموماََ دوپہر کے بعد بازار آتے،اشیائے خوردونوش کے ساتھ ساتھ وِلز،رائل فِلٹر،قینچھی مارکہ،کے ٹو فلٹر،ریڈ اینڈ وائٹ اور مارون کے سیگریٹ بڑی مقدار میں خریدتے اور گپ شپ کرتے ہوئے پیدل اپنی جائے تعیناتی پر واپس جاتے۔ پھجڑ بازار کے نیچے تقریباََ تین سو میٹر کے فاصلے پر پانی کا ایک بڑا چشمہ تھا جس کا نام ’’ناگ رانی‘‘ تھا۔ گرمیوں میں انتہائی ٹھنڈا اور سردیوں میں نیم گرم پانی کے اس چشمے کو حمام کا درجہ بھی حاصل تھا۔پھجڑ بازار سے تقریباََ ایک کلومیٹردُور ’’بائی نا گہل‘‘ کہلانے والے نالے میں بھی پانی کا ایک بڑا چشمہ تھا۔پھجڑ بازار میں پینے کے پانی کی ضرورت یہی چشمہ پوری کرتا تھا۔ بولنے کی صلاحیت سے محروم ایک شخص جس کا تعلق نواحی علاقے چپھڑابن سے تھا،دن بھر اپنے گدھے پر اس چشمے سے پانی ڈھوتا اور پھجڑ میں ہوٹل اور بیکری والوں کو پانی مہیا کرتا۔

کبھی سکول کا منہ تک نہ دیکھ سکنے والا یہ شخص درحقیقت پی پی پی کا ایک جیالا اور بینظیر بھٹو شہید کا ایک عاشقِ ذار تھا۔اشاروں کنایوں میں باتیں کرنیوالے اس شخص کو اگر آپ یہ اشارہ کردیں کہ بینظیر بھٹو کوئی اچھی انسان نہیں ہیں تو وہ اُسی چھڑی سے آپ پر حملہ کردیتا جس سے وہ اپنے گدھے کو ہانکتا تھا۔ مجھے یاد ہے جب بینظیر بھٹو شہید راولاکوٹ آئی تھیں تو وہ اپنے کام سے چُھٹی کرکے نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر جلسے میں شرکت کے لیے راولاکوٹ گیا تھا۔ تب پھجڑ سے راولاکوٹ جانے کے لیے فورڈ ویگنیں چلتی تھیں۔ دو سکس ویلر ویگنیں پھجڑ کی پہچان تھیں۔ ہر سیٹ پر پانچ مسافر بٹھائے جاتے،پھجڑ سے راولاکوٹ کا کرایہ تب دو روپے فی سواری تھا۔سوزوکی سروس بھی چلتی تھی۔

پھجڑ پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے بانی صدر سردار ابراہیم خان کا آبائی بازار بھی ہے،اسی نسبت اور سردار ابراہیم خان کے ساتھ اپنے تعلق کے اظہار کے لیے سردار قیوم خان نے تقریباََ چار دہائیاں قبل اس بازار کا نام اپنے خطاب مجاہداول کی نسبت سے مجاہد آباد اور اپنے آبائی بازار جولی چِیڑ کا نام سردار ابراہیم کے لقب غازیٗ ملت سے منسوب کرتے ہوئے غازی آباد رکھا۔ آج پھجڑ کے گردونواح کی تمام سڑکیں پختہ ہوچکی ہیں،ارد گرد کے دیہاتوں کے عوام براہِ راست راولاکوٹ جاتے ہیں۔ ایک بنک کئی سال قبل منتقل ہوگیا تھا اور دوسرے کی منتقلی روکنے کے لیے مقامی تاجران نے عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔

گو کہ یہ قصبہ ماضی کی طرح کا اہم کاروباری مرکز نہیں رہا مگر اس قصبے کی رونقیں تاحال ماند نہیں پڑی ہیں۔ گزشتہ عرصے میں قصبے میں قائم ہونیوالے گیس پلانٹ اور شادی ہال نے عوام کو پھر سے اس قصبے کی طرف متوجہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایک عدد پٹرل پمپ اور مارکیٹ بھی زیر تعمیر ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ یہ بازار اُن بازاروں میں سے نہیں ہے جو قصہٗ ماضی ہو چلے ہیں۔ خدا ہمارے اس آبائی قصبے کی رونقیں قائم و دائم رکھے۔