میں کیوں لکھتا ہوں؟

اوئے تم انسان ہو یا کمپیوٹرجو ہر روز کالم لکھ لیتے ہو،اتنا وقت تمہیں کیسے مل جاتا ہے،لکھانے کے علاوہ تمہیں شاید کوئی دوسرا کام نہیں۔عمران بھائی تمہارے قلم نے عوام مسائل حل کروانے اور حکومتی اہلکاروں کو نشتر لگانے کا کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے کتنے مسائل تم نے اپنے کالموں کے ذریعے حل کروادیئے،آج کل کوئی نہیں سنتا کوئی نہیں مانتا یہ نصیحتیں یہ فریادیں،ہماری مانو تو یہ فضول مشقیں ترک کر و اور کوئی ڈھنگ کا کام شروع کرو،لوگ سرمائے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،مفادات کی سیاست اور دھندے باہم عروج پرہیں۔کچھ دو اور کچھ لوکی پالیسی پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔دولت کی چمک کام کرتی ہے اور تم ……تم ہو کہ ملک و قوم کی تقدیر اپنے قلم کے ذریعے بدلنے نکلے ہو۔معاشرے میں بڑی تبدیلی لا کر خوشحالی امن و آشتی کے تانے بانے بن رہے ہو۔بھائی یہ دور جہالت ہے جہاں ہر طرف گمراہی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے‘جہاں بدی کاسکہ چلتا ہے۔

یہ وہ کڑوے کسیلے اور بے جا شکایتوں پر مبنی سوالات ہیں جنہیں میرے دوست احباب‘رشتہ دار مجھ سے اکثر کرتے رہتے ہیں اور سارے معاشرے سارے زمانے کی ہمدردیاں سمیٹ کر گویا مجھے کالم نگاری‘قلم بازی سے باز رہنے کی تلقین ہوتی ہے ……آخر وہ صحیح تو کہتے ہیں بیچارے اس گئے گزرے دور میں بھلا کون کسی کے کام آتا ہے۔کون کسی کو ’ مفت ‘ مشورے دیتا ہے پچھلے 20برس سے تو میں اپنے قلم کو لگا تار چلائے جا رہا ہوں۔حکمرانوں‘آمروں‘ٹھیکیداروں کو کھری کھری سنارہا ہوں۔غریبوں‘بے کسوں‘ مظلوموں کی آہوں سسکیوں‘ہچکیوں‘دکھڑوں کو قلم سے الفاظ کاپہناوا پہنا کر قرطاس کی زینت بنا کر پیش کر رہا ہوں مگر مگر مجھے یا دنہیں پڑتا۔مجھے نظر نہیں آیا کہ میرے ان بے اثر کالموں نے اپنا کوئی اثر دکھایا ہو۔کسی حکمران‘وزیر‘مشیروں کا دل پسیجہ ہو‘کسی غریب کو اس کا حق ملا ہو۔کرپشن‘لوٹ کھسوٹ‘اقربا پروری کا سیلاب تھما ہو‘میرٹ کی پامالی‘ظلم و نا انصافی کا لا متناہی سلسلہ رکا ہو۔عوام کے مسائل حل کر دیئے گئے ہوں‘ ہر طرف خوش حالی کا دور دورہ ہوا ہو‘مگر ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔کچھ بھی تو نہیں بدلا‘زمانہ‘رسم و رواج‘حکمران‘عوام سب تو وہی ہے۔آقا غلام‘ امیر غریب‘وزیر مشیر‘عوام کی تفریق تو ابھی تک قائم ہے پھر ……

پھر تو میرے دوست احباب ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ تم اندھیرے میں تیر چلا رہے ہو ناکام اور فضول مشق کر رہے ہو‘مجھے بھی اپنے خیر خواہوں کے مشوروں‘نصیحتوں کا اب تو قائل ہو جانا چاہیے۔ایسے میں میرے ذہن کے کسی ایک کونے‘گوشہ میں انگریزی کی اک کہاوت یاد بن کر سامنے آتی ہے وہ کچھ یوں ہے ’ِ’کسی شخص نے اللہ تعالیٰ سے رابطہ کیا اور اسے کوئی کام کوئی ذمہ داری سونپنے کی درخواست کی اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا یہ جو سامنے چٹان پڑی ہے اسے دھکا دیتے رہو وہ شخص اٹھا اور دونوں ہاتھوں سے چٹان کو دھکیلنے لگا ایک دن ایک ہفتہ ایک سال اور پھر دس سال گزرگئے وہ چٹان دھکیلنے میں لگا رہا مگر چٹان تھی کہ ٹس سے مس نہ ہوئی یار لوگوں نے اسے سمجھا یا بھلے مانس تم یہ چٹان نہیں سر کا سکتے کیوں جان ہلکان کر رہے ہو۔وہ لوگوں کی باتیں سنتا رہا لیکن چٹان کو بھی دھکیلتا رہا جب لوگوں کے ٹھٹھے مذاق میں تیزی آگئی تو ایک دن اس نے سوچا واقعی ان دس سالوں میں تو چٹان ایک انچ بھی تو نہیں سرکی وہ سیدھا ہوا اور آسمان کی طرف منہ کر کے شکوہ کرنے لگایا اللہ یہ چٹان تو نہیں سرک رہی اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ”اے شخص ہم نے تمہیں اس چٹان کو دھکا دینے کا حکم دیا تھا سرکانے کا نہیں ……تم بس اسے دھکا دیتے رہو ۔

یہ کہاوت ہے تاہم اس میں ہمارے لیے ایک بڑا سبق‘وسیع پیغام موجود ہے کہ ہم معاشرے میں اپنے اپنے حصے کا کام یہ دیکھے بغیر کرتے رہیں کہ اس کا ہمیں کیا صلہ ملے گا۔صلہ دینے والی ذات تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے باقی کوئی کسی کو کچھ دینے کے قابل نہیں پس میں اپنے ان دوستوں سے یہی عرض کروں گا کہ میں ایک سپاہی ہوں جس کے ہاتھ میں اللہ نے قلم جیسا طاقتور ہتھیار عطا فرمایا ہے۔میرا کام میری ڈیوٹی ہے کہ میں اسے نیکی اور خیر خواہی کے کاموں کیلئے استعمال کرتا رہوں۔اپنے قلم کے ذریعے مظلوموں کی آہوں‘سسکیوں‘فریادوں‘آنسوؤں کو اپنے قلم کی سیاہی کے ذریعے موتی بنا کر پیش کرتا رہوں۔میں ایک مزدور ہوں جس کے ہاتھ میں قلم تھما دیا گیا ہے۔قلم چلانا میری ذمہ داری قرار دی گئی ہے ورنہ اس ذمہ داری سے آخرت میں عہدہ برآہونا بڑا مشکل ہے۔بے اثر کالموں کا قضیہ اپنی جگہ بھلا موذن کا کام تو اللہ کی کبریائی بیان کرنا اور دوسروں کو نیکی کی طرف دعوت دینا ہے کوئی اس کی دعوت پر لبیک کہے یا نہ کہے اس کا کام تو صدا لگانا ہے۔٭

٭٭٭