عکس خیال

عکس خیال

راحت فاروق ایڈووکیٹ

معاشرتی رویوں کی آگ میں جھلسنے والی مظلوم عورت کئی بار مرتی اور سانسوں کی گنتی پوری کرنے کیلئے دوبارہ زندہ ہونے پر مجبور ہوتی ہے اور اپنے ان مسائل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ کل آبادی کا 52% خواتین پر مشتمل ہے جبکہ 5%سے بھی کم عورتیں زمین پر مالکانہ حقوق رکھتی ہیں عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے 2012کی عورتوں کے خلاف تشدد رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد کے 25.5%واقعات اور تیزاب پھیکنے کے 26.51%واقعات درج ہوئے جوسر اقتدار طبقات اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کیلئے لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہیں۔محض قانون سازی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سماجی سطح پر پائے جانے والے تصورات اور رویوں کی اصلاح ضروری ہے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اہم فیصلہ ساز اداروں میں کلیدی عہدوں پر خواتین کو تعینات کیا جائے جو خواتین اسمبلی میں موجود ہیں یا دیگر کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں ۔عملی طور پر ان کی موجودگی اور اس کے ثمرات کا نظر آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آزاد ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ ہر محکمہ میں خواتین کا کوٹہ مخصوص کیا جائے یہ المیہ ہے کہ کشمیر کونسل جیسے اہم ادا رے میں اور ریاست کے اہم ستون اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی موجود ہی نہیں اسی طرح علیحدہ پولیس اسٹیشنز کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کے وراثتی حقوق کے شعور سے آگاہی دی جائے اور قرآن پاک کے اس متعین کردہ حق کو ہر حال میں ممکن بنایا جائے۔ اگرچہ عشق رسول کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے حقوق دیے جائیں تو معاشرہ عروج کی بلندیوں پر اورامن کا گہوارہ بن سکتا ہے دوسری طرف خواتین کو بھی اپنے حقوق کاشعور اور فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔آج ہمارے انحطاط پذیر معاشرے کو اخلاقی پستی سے باہر لانے کیلئے محمد بن قاسم اور محمود غزنو ی جیسے بہادر اورجری انسانوں کو وجود بخشنے اور تربیت کرنے والی ماؤں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس دن کو محض رسم کے بجائے دعوت عمل قرار دے اس کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔