کرشنا مہتا کی کتاب " ایک ماں کی سچی کہانی " پر پابندی

کرشنا مہتا کی کتاب " ایک ماں کی سچی کہانی " پر پابندی اور پورے سچ کی اہمیت

سوشل میڈیا پر ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرشنا مہتا کی کتاب " ایک ماں کی سچی کہانی " پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مظفر آباد کے کچھ پولیس افسران نے یہ کتاب فروخت کرنے والے کتب فروشوں کو اس کی فروخت سے منع کیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کتاب پر پابندی کسی باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے عائد کی گئی ہے یا کچھ پولیس افسران نے کتاب کو پڑھ کر یا کسی کے کہنے پر اس کو " آزاد" کشمیر کے عوام کے لیے مضر گردانتے ہوئے اس کو کتاب گھروں سے اٹھوانے یا وہاں فروخت نہ کیے جانے کی مہم چلائی ہے ۔

کتاب پر پابندی قابلِ مذمت

حقیقت جو بھی ہو ہر صورت میں قابل مذمت ہے ۔ اگر پولیس والے اپنی نظریاتی سوچ کے لیے یا کسی کے کہنے پر اپنی وردی کا اس طرح سے استعمال کر رہے ہیں تو یہ بھی غیر قانونی کام ہے اور اگر کوئی نوٹیفکیشن جاری کر کے اس کتاب پر پابندی عائد کی گئی ہے تو وہ بھی درحقیقت آزادی اظہار پر پابندی ہے کیونکہ کرشنا مہتا ریاست جموں کشمیر کے ایک پولیس افسر کی بیوی تھی اور جو کچھ اس نے 1947 میں دیکھا وہ لکھا ۔ اس نے انگریزی میں لکھا اور آزاد کشمیر کے ایک نامور محقق ، مرتب ، مصنف اور پبلشر محترم سعید اسد نے اس کے ترجمے کا انتظام کروایا جو آزاد کشمیر کے ایک اور نامور ، وطن دوست اور ترقی پسند دانشور اور سیاسی کارکن محترم پروفیسر خلیق احمد نے انتہائی خوبصورت انداز میں سر انجام دیا۔ اس کتاب کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی؟ جو لوگ مذہب اور حب الوطنی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس معاملے میں جن کی حب الوطنی کی بنیاد کشمیر نہیں بلکہ پاکستان اور وہ بھی فرقہ واریت کی آبیاری کرنے والی پاکستانی قوتیں ہیں وہ کہیں گے کہ اس کتاب کو اہمیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو اہمیت دینے والے کشمیر پر بھارتی موقف کے حامی ہیں یا بھارتی ایجینٹ ہیں یا پاکستان کے دشمن ہیں اور سنتالیس میں کشمیر کے اس حصے کی آزادی میں پاکستان کے کردار کے منکر ہیں ، وغیرہ وغیرہ۔

کیا ہم ہماری تاریخ کے اہم ترین سالوں اور واقعات کو بھول جائیں ؟

تاہم سیاسی و سماجی علوم کے ایک طالب علم ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ اس کتاب کو اہمیت اس لیے دی گئی کہ یہ آزاد کشمیر کے بارے میں ہے ۔ آزاد کشمیر کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم پہلو کے بارے میں جس کی پوری تصویر موجودہ اور آنے والی نسلوں تک پہنچے گی تو کسی ایک طرف کی کہانی سُن کر ان کے دماغوں کو یک طرفہ نفرت سے بھرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس زمانے پر ایک اور کتاب کشن بال گپتا نے بھی ابھی حال ہی میں لکھی ہے ۔ اس کتاب میں بال گپتا اپنی یاد وں کے ذریعے میرپور میں ہندووں اور سکھوں کے قتل عام کی روئیداد بیان کرتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہماری تاریخ کے اہم ترین سالوں اور واقعات کو بھول جائیں ؟ بالکل نہیں ۔ کیونکہ ایسا ممکن نہیں ۔ مگر قتل عام فقط غیر مسلموں کا ہی تو نہیں ہوا تھا۔ جو لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جموں شہر اور گردونواح کے علاقوں میں قتل کر دیے گئے اُن کے بارے میں کوئی کیوں نہیں لکھتا؟ یہ بہت ہی جائز اور لازمی سوال ہے ۔

میموری لین ٹو جموں

جموں کے اس قتل عام کے بارے میں ہم بچپن سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ پڑھنے کے لیے کچھ مختصر سے نعرہ باز اور نفرت آمیز آرٹیکل بھی ملے عمر کے مختلف سالوں میں اور مختلف اخبارات و رسالوں میں ۔ تاہم اگر کوئی ایماندارانہ تحریر ملی تو وہ خالد حسن مرحوم کی مختصر سی کتاب ' میموری لین ٹو جموں ' جو کہ " جموں کہ اک شہر تھا' کے نام سے ترجمہ ہوئی۔ اس کتاب میں ذاتی یاداشتوں کے ذریعے جموں کے قتل عام کی روائیداد بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب سے اور پانچ نومبر کو جموں قتل عام پر دستیاب دیگر تحریروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ریاستی باشندوں کو قتل کر دیا گیا ۔ تاہم ہزاروں لوگ جموں سے بچ کر آزاد کشمیر یا پاکستان کے مختلف علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو گے تھے جس طرح کشن بال گپتا اور ان کے سولہ سو ہندو ساتھی میرپور سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور جس طرح کرشنا مہتا بچ گئیں ۔ تاہم جموں سے بچ کر آنے والوں میں سے خالد حسن مرحوم کے علاوہ کسی کا کچھ لکھا ہوا کم از کم میری نظر سے نہیں گذرا۔ پروفیسر اسحاق قریشی مرحوم اور جسٹس یوسف صراف مرحوم نے مختصر تحریرں لکھیں ۔

جو کچھ دیکھا جو کچھ بیتا وہ لکھیں

اس سال کے اوائل میں اپنی دادی مرحومہ کی میت کو ان کی وصیت کے مطابق اپنے گاوں میں دفنانے کے لیے گیا تو سعید اسد سے بھی ملاقاتیں رہیں۔ اپنی کتاب " آزاد کشمیر اور بڑٹش کشمیریز" کے حوالے سے ۔ اس دوران کرشنا مہتا اور کشن بال گپتا کی کتابوں کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی کہ ان کو حکمران اور حکام کی طرف سے کس طرح سے لیا جائے گا ۔ میں نے ان سے بھی یہ بات کہی تھی اور جن لوگوں نے اس پر پابندی عائد کی ہے اور جو لوگ اس اور اس طرح کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے حق میں ہیں ان سے بھی عرض کروں گا کہ دنیا بھر میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جبری پابندیوں کے فوری فواہد تو شاید کچھ ہو جائیں تاہم بعد ازاں ان کے بیانک نتائج سامنے آجاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل میرے خیال میں یہ ہے کہ اور لو گ بھی اپنی یاداشتیں لکھیں ۔ وہ افسران اور وہ شہری اور سیاستدان جو اس وقت ان سارے ہنگاموں میں موجود تھے لکھیں ۔ ایمانداری اور اس سوچ کے ساتھ کہ اللہ کے ہاں جان دینی ہے۔ سچ لکھیں ۔ جو کچھ دیکھا جو کچھ بیتا وہ لکھیں ۔ اپنی آنے والی نسلوں تک اپنی تاریخ کے اس انتہائی باب کے بارے میں سچ سچ معلومات پہنچانے کے لیے لکھیں ۔ اور جہاں تک غیر مسلموں کے قتل عام کی بات ہے یہ ایک انتہائی شرمناک باب ہے ہمارے تاریخ کا ۔ اس پر ہم سب کو اپنے غیر مسلم ہم وطنوں سے معافی مانگنی چاہِے ۔۔ تاہم یہ اس قتل عام کا صرف ایک پہلو ہے۔ جموں میں جو قتل عام ہوا اور اس سے بچ کر جو مسلمان نکل آئے ان کو اپنی یاداشتیں بھی کرید کرید کر لکھنی چاہیں ۔ اگر وہ خود نہیں لکھ سکتے تو لکھاری ان کے پاس جا کر ان کی یاداشتوں کو ریکارڈ کریں اور ایمانداری سے لکھیں ۔ سعید اسد صاحب کوبھی میں نے یہی تجویز دی تھی ۔ اور جموں میں جو غیر مسلم ریاستی باشندے ہیں ان کو مسلمانوں کے اس قتل عام پر معافی مانگنی چاہیے۔

کوئی حب الوطنی نہیں تھی

ریاست کے مختلف حصوں میں ہونے والے اس قتل عام کے بارے میں یہ حقیقت سمجھنا انتہائی ضروری ہے ، سم سب لوگوں کے لیے ، کہ یہ بنیادی طور پر ریاست میں آباد مختلف مذاہب کے باشندوں کے درمیان صدیوں سے قائم رشتوں کو توڑنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے کوئی مذہب اور کوئی حب الوطنی نہیں تھی۔ یہ خالصتاً فرقہ وارانہ مفادات کے لیے فرقہ وارانہ قوتوں اور فرقہ وارانہ نظریات کی بنیاد پر انسانوں سے نفرت کرنے والوں نے کیا اور کروایا تھا۔ ان میں مسلمان بھی تھے ، غیر مسلم بھی ، کشمیری بھی اور بھارتی و پاکستانی بھی۔ یہ نفرت کا اظہار تھا اور اس نفرت کا نہ تو اس وقت کوئی مذہب اور وطن تھا اور نہ اب ہے۔ اس نفرت کی جڑوں تک پہنچنا ہو گا اور اس نفرت کو استعمال کر کے جو انسانیت کو پھونکنا چاہتی ہیں ان قوتوں کے خلاف ریاست کے تمام باشندوں کو ایک ہونا ہو گا ۔ اپنے اپنےمذاہب میں پائی جانے والی محبتوں اور وطن کی محبت اور انسانی سماج میں انسانیت کے راج کی محبت اور ایسا سماج تعمیر کرنے کی محبتوں کو لے کر ایک ہونا ہو گا۔

ریاست جموں کشمیر کی تقسیم کے عہد کی تاریخ کا پورا سچ سامنے لانا ہو گا

صرف ہندو سچ ، سکھ سچ، پنڈت سچ، مسلمان سچ، جموں کا سچ، میرپور کا سچ یا پاکستانی سچ یا بھارتی سچ ہی نہیں پورا سچ ۔۔۔ جو سچ کے سب ٹکڑوں کو جوڑ کر نظر آتا ہے ۔ تاریخ کے اس پورے سچ کی کوکھ سے ہی آج ہمارے حال کا پورا سچ بھی سامنے آ جائے گا۔ یہ پورا سچ وادی ، جموں ، لداخ ، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے سچ کو سن کر اور جان کر اور سمجھ کر اور اس کو جوڑ کر دیکھنے سے سامنے آئے گا۔ کشمیر کا پورا سچ کسی ایک خطے ، جماعت، نظریے یا شخصیت کے پاس نہیں ہے ۔ سب کے پاس ٹکڑے ہیں اور ان کو جوڑنے کا فریضہ محققین ، صحافیوں ، مصنفین ، ناشروں ، ڈرامہ نگاروں اور مورخوں، شہری تنظیموں اور فنکاروں کو ادا کرنا ہو گا۔ اس لیے سعید اسد صاحب اور سب لکھنے والو لکھو مزید لکھو ، چھاپو اور چھاپو مگر ایک بات سمجھ لو کہ کسی ایک ٹکڑے کو پورا سچ بنا کر مت پیش کرو کیونکہ ایسا کرنے سے تم بھی نفرتوں پر پلنے والی سیاستوں کی آبیاری کے مرتکب ہو جاتے ہو۔