کیا یہ دین کی تشکیلِ جدید ہو رہی ہے؟

ہمارے سامنے جو دینِ عيسى علیہ السلام ہے کیا یہ وہی ہے جو آنحضرت لے کر آئے تھے؟ نہیں ہر گز نہیں۔ پھر وہ دین کہاں گم ہوا؟ خود عیسائی محققین اور بائیبل کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ سینٹ پال نے جناب عیسی کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ کر ایسا کیا سے کیا کر دیا کہ اب عیسائیت میں جو کچھ ہے یہ پالزم ہے۔ یہ کام کیا اس کھلی شرارت و خباثت سے ہوا جو آج عیسائی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی تعلیمات کے خلاف میں کیا جا رہا ہے؟

نہیں بلکہ سینٹ پال نے بڑی مہارت سے عقیدت کے روپ میں اپنا اثر جمایا اور آہستہ آہستہ حضرت عیسی علیہ السلام کو عیسائی مذہب سے ایسا نکالا کہ اب اس مذہب کے ہر فرقے پر مسیح علیہ السلام کی نہیں بلکہ پالزم کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ یہ باتیں میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ مذاہب کی شکل دو راستوں سے بدلتی ہے۔ ایک بیرونی اثرات ایسے حلول کرتے ہیں کہ مذہب کی اصل تعلیمات ان کے تیزابی اثرات میں زائل ہوتی جاتی ہیں۔ تاریخ میں یہودیوں کے کچھ قبیلوں کے گم ہو جانے کا ذكر ہے۔ وہ قبیلے کسی جنگل میں موت کے گھاٹ نہیں اتارے گئے تھے بلکہ جن غالب قوموں کے اندر وہ رہ رہے تھے ان کی تہذیب و ثقافت اور کلچر کا رنگ لیتے لیتے بالکل غالب قوموں کے رنگ میں ڈھل گئے تھے۔ انہی کی زبان بولنے لگے تھے۔ انہوں نے انہی غیر قوموں کا لباس اور تراش خراش اور طرز بود و باش اختیار کر لی تھی۔ یوں آہستہ آہستہ وہ اپنی شناخت کھو بیٹھے۔ یہی ان کا گم ہونا تھا۔

ہم اپنے نبی اور اپنی کتاب اور اپنے دین پر غیروں کے حملوں پر برہم ہوتے اور بہت آگ بگولا ہوتے ہیں۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کو عقیدت اور محبت اور عشق کے نام پر ایک ایک کر کے اصل دفتر سے نکالتے جا رہے ہیں اور بہت کچھ ایسا دین بنا کر شامل کرتے جا رہے ہیں جس کی نہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم دی اور نہ وہ بطور دین ہمیں سکھایا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوہ اور صحابہ کرام کا تعامل اور روایات ہمارے سامنے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ پچاس ساٹھ سال پہلے 12 ربیع الاول کا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے دن کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔ دیہاتوں میں 'بارہ وفات کا درود' کہلوایا جاتا تھا۔ وہ بھی جہالت کی تراشیدہ رسم تھی لیکن وفات کی نسبت سے کوئی جشن، کوئی میلہ، کوئی رونق، کوئی ہاو ہو اور گہما گہمی اور رنگا رنگی نہیں ہو سکتی تھی۔ برادران مذہب نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے موت اور وفات کے الفاظ منسوب کرنے کو توہین سمجھا۔ اس لیے دینِ عيسى کی تقلید میں 'بارہ وفات' کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم میں بدل دیا۔ پہلے پہل یہ دن سادہ انداز میں منایا جاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کا پھیکا پن دور کرنے کے لیے اس میں رنگ بھرا گیا اور جلوسوں کی بہار آنے لگی۔ یہ رجحان ترقی کرتے کرتے اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ دو مشروع و مسنون عیدیں اس کے مقابلے میں گویا کچھ نہیں رہی ہیں۔ اس رجحان نے عشق کے نام پر اور زور پکڑا۔ پہلے جو جشن ایک 12 ربیع الاول کو منایا جاتا تھا وہ اب پورے مہینے پر پھیل گیا ہے۔ پھر اس میں ایسی ایسی حرکات اور روایات کی آمیزش ہو رہی ہے کہ اصل دین کی روح ہی نکل رہی ہے۔

سیاست میں پاپولرزم کو برا سمجھا جاتا ہے۔ مقبولیت کے جنون نے سیاست کو فساد کا گڑھ بنا دیا ہے۔ وہی پاپولرزم اب مذہب کے راستے آگے بڑھ رہا ہے۔ جماعت اسلامی جیسی دینِ خالص کی علم بردار جماعت بھی اس رو میں بہہ نکلی ہے۔ اس کے ہاں بھی مرکزی سطح پر میلاد کانفرنسیں منعقد ہونے لگی ہیں۔ اہم افراد جس محلے اور بستی میں رہتے ہیں وہاں انہیں ایسی تقریبات میں اہمیت ملتی ہے تو ان کا اصلاحی اور تطہیری و تربیتی شعور بجھتا جاتا ہے۔ وہ ان رجحانات کے سامنے سر خم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ سیاسی مقبولیت کا ایک راستہ بن گیا ہے۔ فرانس اور یورپ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خاکے بنانے والوں کے لیے معاشرے کو مذہبی قائدین آتش فشاں بناتے ہیں لیکن خود معاشرے اور قوم کی سطح پر تعلیمات نبوی کو جس طرح خاک میں ملایا جا رہا ہے یہاں ہماری غیرت، دینی شعور اور عشق و عقیدت سب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ یہی حال رہا تو عوامی سطح پر دس بیس سال بعد ایک بالکل نیا دین رائج ہو چکا ہو گا اور سیاسی اور دینی جماعتیں سیاستی پاپولرزم کے تحت خود اس نئے دین کا پرچار کر رہی ہوں گی۔ یہاں کسی سینٹ پال کی ضرورت نہیں ہے۔ اب گلی گلی میں اسلام کا حلیہ بگاڑنے والے 'سینٹ پال' ہیں۔ حالات جس نہج پر جا رہے ہیں کچھ عرصہ بعد میلاد کے جشن اس وقت سے کہیں زیادہ پر جوش اور والہانہ ہوں گے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات اسی طرح پس پشت ڈال کر گم کی جائیں گی جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات محو ہو گئیں اور کرسمس کی تقریبات لذيذ سے لذيذ تر اور رنگین سے رنگین تر ہو رہی ہیں۔ سید الابرار صلی اللہ علیہ و سلم کی اصل تعلیمات اور حقیقی تصویر پیش کرنے والے بیچاروں کو نکو بنا دیا جائے گا۔ وہ اس سماجی مذہب کے ماننے والوں کے دباو میں ایسے آئیں گے کہ یا تو ان کے سامنے سر جھکا دیں گے یا معاشرے میں منہ چھپاتے پھریں گے۔