کرداروں کا حلیہ اور موٹی موٹی باریکیاں

کہانی کا آئیڈیا پکالینے کے بعد،کوئی بھی کہانی یا ناول لکھتے وقت،سب سے پہلا کام کرداروں کی تشکیل ہے،کیوں کہ عام طور پر کہانی،افسانے،ڈرامے،ناول اور فلم میں ہم سب کچھ (یعنی اپنی کہانی) اپنے بیانیے کے ذریعے یا اپنے کردار وں کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ہم عمومی طورپراپنے تخلیق کردہ کرداروں کے ذریعے اپنا مطمع نظر پیش کرتے ہیں۔کردار کی زبان سے مکالمے کے طور پر،اُس کی حرکات و سکنات سے،اُس کے" ایکشن" سے یا ا س کے خد و خال سے....،اس لیے کرداروں کی تشکیل کرتے وقت،اُن کو خود بھی اچھی طرح جاننا اور قاری کے ذہن میں اس کا تخیل مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔

اِس کے لیے سب سے پہلے ذہن میں یا کاغذ پر کرداروں کی تشکیل کرلی جائے۔اُن کی بنیادی معلومات ذہن نشین کر لی جائیں۔اُن کی خاصیتیں،خوبیاں،خامیاں اِکھٹی کر لی جائیں۔یہ بیان پچھلی،یعنی میری پہلی پوسٹ میں ہوچکا ہے،کہ کرداروں سے انٹرویو کیسے اور کیوں لیا جائے،اور کیسے اُن کو ایک دوسرے سے مختلف کیا جائے۔ اب آجائیں اِس جانب کہ اپنے اِن تخلیق کردہ کرداروں کو اپنی کہانی،ناول یا طویل افسانے میں بیان کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا ضرور ی ہے۔جس سے آپ کے کرداراور کہانی زیادہ بہتر ہوجائے گی۔اس کی دل کشی اور محاسن میں اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ کسی بھی کردار کی تفصیل بیان کرتے وقت یا ان کو اپنی کہانی میں پیش کرتے وقت اِن کی جسمانی اور جذباتی تفصیل بھی ذہن میں رکھنا اَز حد ضروری ہے،کیوں کہ اِسی کی بنیاد پر آپ کے کردار انوکھے،منفرد اور یاد گا ر ہو سکتے ہیں۔ہماری کہانیوں، گانوں، نظموں اور مضامین کے کردار ہی اصل میں ہماری تحریر کو مجسم اور بھرپور بناتے ہیں،اور ہم جن لفظوں اور طریقوں سے اپنے کردار کو پیش کرتے ہیں،وہ لفظ ہی اِن کرداروں کو زندہ جاوید بناتے ہیں۔یاد رہ جانے والا بناتے ہیں۔

بعض اوقات ہمارے کردار ہی،ہمارے لئے پلاٹ، تھیم، مزاج، خیال، اور جذبات کا بہت زیادہ بوجھ بھی اُٹھاتے ہیں، لیکن یہ کردار اُس وقت تک ذہنوں پر نقش پر نہیں ہوتے،کہانی کے تاثر کو بھرپور نہیں بناتے،جب تک کہ ہم اُنہیں کہانی میں اُس انداز میں بیان نہ کریں،جو اُن کا حق ہے۔

جب تک ہم اِن کرداروں کو کو الفاظ کا روپ نہیں دیتے،وہ ہوتے ہی نہیں، اُن کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ اُن کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔اُن کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔لیکن جوں ہی پہلی بار ہم اُن کا محض نام لکھتے ہیں،وہ معرض وجود میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

جیسے ہی ہم نے کہانی لکھنا شروع کی اور صر ف ایک فقرہ لکھا۔ ”شاہدہ بہت پریشان تھی...“

یا ہم نے کسی کردار کے بارے میں پہلا فقرہ یوں لکھا:سلیم سبزی والا گلی میں آیا اور اس کی بھونڈی آواز گونجنے لگی....“

یا ہم نے لکھا”وہ دُبلا پتلا سا لڑکا سائیکل چلا رہا تھا....“لیجیے کردار وجود میں آنا شروع ہو گئے،اپنا آپ دکھانے لگے۔آپ کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کرنے لگےاورآپ کو اکسانے لگے کہ کچھ اور بتا ؤ کہ ہم نے کیا کیا....ہم کون ہیں،اور اس کہانی میں کیا کر رہے ہیں،کیوں کر رہے ہیں اور کیسے کر رہے ہیں۔اب آپ کو معلوم ہے کہ اس کردار کی دیگر معلوما ت کیا ہیں۔؟

آپ اس کردار کو کہانی لکھنے سے پہلے (اِنٹر ویو کے ذریعے....یا دماغ میں موجود بنیادی خاکے کے ذریعے سے)جانتے ہیں تو اس کی تفصیل یا اس کی مناسبت سے فقرے بننا شرو ع ہو جائیں گے۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کردار محض نام نہیں رہیں گے....،نام سے آگے بڑھ کردر اصل کردار میں ڈھلنا شروع ہو جائیں گے اور کہانی میں اپنا خاص اثر چھوڑنے لگیں گے۔کہانی کو ۤگے بڑھانے لگیں گے ۔

وہ جینز یا شلوار قمیض پہنے ہوں گے... دو پٹی والی چپل یا جوتے پہنے ہوں گے،یا اسکول کی وردی (یونی فارم) میں ہوں گے۔دھوتی اور کرتے میں ہوں گے۔وہ کوئی ہنگامہ کریں گے،یا چیخیں گے،چلائیں گے۔اونچی آواز میں بولیں گے،مست قہقہے لگائیں گے یا خاموش رہیں گے۔محض آنکھوں سے باتیں کریں گے۔کسی کو پریشان کریں گے،کسی سے خوش ہوں گے،کسی کی مدد کریں گے،کسی کی مدد لیں گے۔کسی سے پیار جتائیں گے،یا کسی سے ناراض ہوں گے۔وغیرہ وغیرہ....

مگر یہ سب کچھ وہ اپنے کردار کے بنیادی خاکے کے مطابق ہی کریں گے۔کردار کا وہ بنیادی خاکہ جو کہانی کے مطابق آپ نے پہلے ہی ذہن میں یا کاغذ پر تشکیل دے رکھا ہو گا اور اگر اس خاکے سے ہٹ کر کچھ بالکل الگ کریں گے تو اس سے کہانی میں ٹوئسٹ پیدا ہو گا۔یا پھر کہانی کم زور ہو گی۔

مثال کے طور پر یوں سمجھ لیں کہ آپ کا کردار بھکاری ہے،بھیک مانگ کر پیٹ پالتا ہے،مگر کہانی کے کسی موڑ پر،اپنے کردار سے ہٹ جاتا ہے، اچانک ہی دن بھر کی کمائی خاموشی سے کسی یتیم اور بھوکے کے حوالے کرکے خود بھوکا سو جاتا ہے۔آگیا نا کردار کے عمل کی تبدیلی سے ٹوئسٹ ....

آپ کے یہ کردار اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کریں گے،جیسی بھی زندگی گزاریں گے، شادی کریں گے یا اکیلے جیئں گے۔ اپنے بچوں کی پٹائی کریں گے یا ان کو گلے لگ الگا کر والہانہ پیار کریں گے۔غرض وہ جو کچھ بھی کریں گے، وہ ہم پر منحصر ہے۔

ہم جوچاہیں ان سے کر والیں،یہ ہم پر،یعنی لکھنے والے پر منحصر ہے۔اِس لیے میں یہاں کچھ ”موٹی موٹی باریکیاں“ بتانا چاہتا ہوں جو نئے لکھنے والے اپنے کردار لکھتے وقت،یا ان کی تفصیل بیان کرتے وقت ذہن میں رکھیں گے تو اِس سے اُنہیں فائدہ ہو گا۔

وگرنہ جیساچلتا ہے چلنے دیں،لکھتے لکھتے یہ سب چیزیں آخر کار آپ بھی سیکھ ہی جائیں گے،جیسا کہ ہم سیکھ رہے ہیں،اور دوسرے بہت سے اچھا لکھنے والے سیکھ چکے ہیں۔موٹی موٹی باریکیاں....پہلی باریک بات کردار کے حلیے کی وہ تفصیل جو مکمل طور پر جسمانی اوصاف کے بیان پر منحصر ہوتی ہے۔ جس کو میں ”مکمل تفصیلی خاکہ“کہتا ہوں۔یعنی آپ کردار کا ”مکمل تفصیلی خاکہ“ ضروربیان کریں،کہ یہ خاکہ لکھتے وقت آپ کے اپنے ذہن میں کردار کی ایک شکل متعین ہو جاتی ہے اور اس کے اوصاف ظاہر کرنے یا شناخت کرنے میں،دوسرے کرداروں سے ممتاز کرنے میں آسانی رہتی ہے۔

میں آپ کو مثال دے کر سمجھاتاہوں-سلیم ایک طویل قامت،اوسط کاٹھی اور درمیانی عمر کا شخص تھا۔اس کی آنکھیں بھوری اور بال سرمئی تھے۔عام طور پر وہ جینز اور شرٹ پہنتا تھا۔“لیجیے کردار کا حلیہ بیان ہو گیا۔مگر سچ کہوں،یہ مزے دار حلیہ نہیں ہے۔یہ انتہائی غیر سنجیدہ اور محض خانہ پری کی تفصیل ہے ادھورا حلیہ ہے۔اس بیان سے کوئی ”خاص“کردار ذہن میں نہیں آتا۔اِس کو میں ”مکمل تفصیلی خاکہ“ نہیں کہہ سکتا۔ابھی آپ کی سمجھ میں آجائے گا،اور آپ بھی یہی کہیں گے۔

آپ خود بتائیں... کیا پولیس اس حلیے کے شخص کو آسانی سے تلاش کرسکتی ہے...؟

آپ کا قاری حلیے کی اس تفصیل سے کوئی شکل اپنے تصور میں دیکھ سکتا ہے۔؟یہ ایک کم زور خاکہ ہے،اس میں نہ تو کوئی خاص اور منفرد شناختی علامت ہے،نہ کوئی ٹیٹو،نہ کوئی پیدائشی نشان یا زخم وغیرہ کا نشان...نہ کوئی دوسری ایسی چیز جس سے اس کو دوسروں سے ممتاز کرنے میں آسانی ہو...ہم اس حلیے کو آسانی سے کسی زندہ آدمی کی بہ جائے گتے،یا لکڑی سے بنا ہوا ”کٹ آؤٹ“ کہہ سکتے ہیں محض....ہاں.... میں یہ ضرورمانتا ہوں کہ اس حلیے میں جو بتایا گیا ہے وہ بالکل درست ہے۔وہ شخص ایسا ہی ہو گا جیسا بیان کیا گیا ہے۔مگر ہم اس کو ایک منفرد کردار نہیں کہہ سکتے۔کوئی بھی اس کردار کو آسانی سے یاد نہیں رکھ سکتا۔اپنے ذہن میں اس کردار کی شکل نہیں بنا سکتا۔

ہمیں کچھ اور بھی ایسا اسپیشل بتانا پڑے گا کہ پڑھنے والے کو اپنے تصور میں اس کی شکل بنانے میں آسانی رہے۔پھر جوں ہی کردار کا نام سامنے آئے وہ اپنے تخیل میں اس چہرے کو،اس حلیے کو اس کردار کو دیکھ لے۔آپ کا کردار اس کے لیے شناخت کرنے،اور یاد رکھنے میں آسان ہو جائے۔

جب ہم کہانی یا ناول میں کسی کردار کو بیان کرتے ہیں تو، حقیقت میں صرف اس کی معلومات ہی کافی نہیں ہوتی، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ معلومات کتنی درست ہیں۔معلومات کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تفصیلات،یا یوں کہہ لیں کہ موٹی موٹی باریکیوں کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔جو ہمارے حواس کو اپنی جانب مبذول کراتی ہیں،متوجہ کرتی ہیں،یا ہمیں اُس سے جوڑ دیتی ہیں۔

محض لیبل لگانے والے جملے (جیسے طویل قامت، درمیانی عمر اور اوسط کاٹھی) ہمارے ذہنوں میں کوئی واضح "امیج" نہیں لاتے۔ یاد رکھیں کہ زیادہ تر لوگ بصری سراغ کے ذریعے کسی پر اپنا پہلا تاثر بناتے ہیں....، لہذا بصری تصویر کشی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کرداروں کو بیان کرنا سمجھ میں آتا ہے۔اور مناسب بھی معلوم ہو تا ہے۔

اس حلیے میں ”بھوری آنکھیں“ ایک مناسب شروعات کہی جا سکتی ہے، لیکن یہ بھی کافی نہیں ہے۔

کیا وہ ہلکی بھوری ہیں.... یا گہری بھوری ہیں...؟

مطلب یہ ہے میرے دوستو کہ یہاں،اس مرحلے پر ایک عام سی صفت بھی کردار کی تفصیل کو مضبوط کرسکتی ہے۔پڑھنے والے پر گہرا اثر چھوڑ سکتی ہے،اس کے تخیل کو متحرک کر سکتی ہے۔اوراگر یہ صفت ایک استعارہ بنا کر پیش کی جائے تو کیا کہنے....مثال کے طور پر ہم لکھ سکتے ہیں کہ:

”اُس کی چمکتی ہوئی بھوری آنکھیں،اُس کی بلی کے جیسی بھوری آنکھیں.... یا پھر اس کی بلوریں بھوری آنکھیں .... یا پھر اس کی کمان دار بھری آنکھیں ... یا پھر اس کی خوابیدہ بھوری آنکھیں .....

مطلب یہ کہ جب آپ اپنے کردار کا حلیہ بیان کرتے وقت اس میں صفات کا تڑکا لگائیں گے تو بات میں وزن پیدا ہوگا.... حلیہ نارمل سے مختلف ہو گا،اور پڑھنے والا اپنے امیج یا تصور کو پختہ کرتا جائے گا۔اس کے دماغ میں کردار کی مثبت یا منفی شبیہہ بننے لگے گی۔استعاروں اور صفات سے قاری کا "ویژول" بہتر ہو جائے گا۔

یاد رکھیں کہ جب ہم اپنے کردار کو”ڈسکرائب“ کرتے ہیں تو اس کی سرسری معلومات کافی نہیں ہوتیں،اس کے ساتھ ساتھ کوئی تشبیہہ کردار کے تصور کو مزید توانائی فراہم کر تی ہے۔لیکن حد سے زیادہ تشبیہات کا استعمال کردار کے حلیے کو مضحکہ خیز بھی بنا سکتا ہے۔اس ضمن میں توازن کا راستا اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔.....

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کردار کی تفصیل بتاتے وقت صرف صفات کے ذریعہ کسی شبیہہ کا تصور پختہ کرنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ صفتیں ”کلیشے“ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔(کلیشے کی وضاحت تفصیل طلب ہے۔اس بارے میں بھی مضمون جلد پیش کروں گا)اپنے کردار کی صفات (منفی یا مثبت) بیان کرتے وقت اس بات کی بھی خیال رکھیں کہ اگر آپ ایسی تشبیہات استعما ل کریں کہ جو بالکل انوکھی ہوں،لوگ اس کے بارے میں زیادہ جانتے نہ ہوں،و ہ بہت کم مستعمل ہوں تو کردار کی شبیہہ تخلیق کرنے میں قاری کو مشکل پیش آئے گی اور آپ کی محنت ضایع ہو جائے گی۔

یعنی آپ کو عام فہم تشبیہات استعمال کرنی ہیں تاکہ لوگ فوری طور پر اپنے ذہن کے پردے پر اس کی شبیہہ بنالیں۔پرانے اور گھسے پٹے،یا متروک استعارے اور تشبیہات بھی استعمال نہ کریں،کوئی ایسی سامنے کی بات کریں کہ ذہن میں فورا تصور واضح ہو جائے۔مثال کے طور پر:”مضبوط کسرتی جسم .... بانس کے جیسا لمبا قد... جسے ہم کبھی ”سرو قد“ بھی پڑھا کرتے تھے،مگر سرو ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا... اس لیے صفت کی تشبیہ کسی اور سامنے کی چیز سے کی جائے،کچھ بھی ہو سکتا،کچھ بھی سوچ سکتے ہیں....یا اگر تحریر بڑوں کے لیے ہو تو پھر تشبیہات کچھ افسانوی طرز کی بھی ہو سکتی ہیں .... یہ ضرور ہو کہ تشبیہ کسی اسیی شے سے دی جائے جو دراصل موجود ہو،تصوراتی چیزوں کی تشبیہہ سے اجتناب کریں،اب اگر آپ قیقنس کی راکھ سے،ا س کے آنسووؤں کو یا جنت کے پھل سے کسی کے رخساروں کو تشبیہہ دیں گے تو ظاہر ہے یہ چیزیں کسی نے دیکھی نہیں ہیں،اس لیے تصور پرفیکٹ نہیں ہو گا۔ایک کہانی میں پڑھا اس کی آواز درد انگیز تھی۔"ایک کہانی میں پڑھا" اس کا چہرہ چاند کی دیوی کی طرح روشن تھا ... اس کی آنکھیں، شیطان کی آنکھ جیسی تھیں.... ا س کے بال ہوا کے لہراتے آنچل کی مانند تھے...."

خود بتائیں،ان سے کیا ذہن میں آئے گا۔

اس کی بہ جائے یوں مناسب ہو گا۔”اس کی آواز سے درد چھلکتا محسوس ہوتا تھا۔وہ بولتی تھی تو لگتا تھا کوئی بچی رو رہی ہے....،یا اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن تھا۔اس کی آنکھیں سانپ کی آنکھوں جیسی تھیں،وغیرہ وغیرہ ....“

کوشش کریں کہ اپنے کردار کی جسمانی ساخت اور عادات کو وضاحت سے بیان کریں اور اپنے کردار کا تصوراتی کاکہ واضح کریں۔”مکمل تفصیلی خاکہ“ کو ذہن میں رکھیں۔ جیسے میں نے کبھی اپنی ایک کہانی میں لکھاتھا:

”میرے والد کے بال، فوجی کٹ ہوا کرتے تھے....کانوں کے قریب سے ہلکے سفید یا سرمئی اور گدی کی طرف سے بالکل سفید،ماتھا چوڑا اور سپاٹ تھا... کان کے قریب ٹھوڑی تک چاند کی شکل کا گولائی میں، زخم کا ایک نشان تھا جو کسی جنگ میں انہیں تحفے کے طور پر ملا تھا۔ناک کی نوک کسی چھوٹی سی پہاڑی کی طرح اوپر کو اُٹھی تھی،اور ناک کی ہڈی اونٹ کے کوہان کی طرح درمیان سے اُبھری ہوئی تھی۔ وہ ہکلا کر بولتے تھے اور بولتے وقت اپنا کان کھجلاتے اور بار بار ہونٹوں پر اپنی خاکی وردی جیسی بے رنگ مٹیالی زبان پھیرتے تھے۔اب دیکھیں کردار کی شکل واضح ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ زخم کا نشان آنکھوں کے سامنے لہرا جاتا ہے۔بالوں کی کٹنگ تک تصور میں اُبھر جاتی ہے۔

(جاری ہے)