جب ارجہ میں موت کا رقص جاری تھا

ماہ صیام کی پندرہویں صبح جب زیادہ تر لوگ سحری نوش فرمانے اور نماز و ذکر کے بعد محو استراحت تھے سدھن گلی سے ایک مسافر گاڑی دنیا سے بے نیاز خستہ خال شاہراہ پر فراٹے بھرتی اپنی منزل کی جانب تیزی سے رواں دوان تھی گاڑی کی چال ڈھال اور اس میں سوار مسافروں کے دمکتے چہروں سے بخوبی عیاں تھا کہ انہیں بہت جلدی ہے کہیں پہنچنے کی اور کوئی انکا شدت سے منتظر ہے ۔۔۔۔۔!!! مسافر گاڑی میں سوار کچھ مسافر اپنی زندگی کا نیا کیرئیر شروع کرنے جا رہے تھے تو بعض پنچھی مدتوں بعد اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے تھے اور آمدہ عید کے پر مسرت لمحات اپنی فیملی اپنے پیاروں کے ساتھ بیتانے کے سہانے سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے بڑی بے تابی سے سفر کٹنے، منزل ملنے کے متلاشی تھے سفر تو پھر سفر ہے ان بدقسمت افراد کو بھلا کیا معلوم تھا کہ قدرت ان کے ساتھ ارجہ کے خونامی نالہ میں کیا کھیل کھیلنے والی ہے اور وہ اس خوفناک اور خونامی کھیل کے بعد واقعی اپنی اپنی منازل کو ضرور پہنچیں گئے مگر اس پار نہیں۔۔۔۔۔۔ اُس پار جہاں سے کبھی کوئی نہیں لوٹا رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ان خوش بختوں کو رب کریم کی طرف سے عشرہ مغفرت میں شہادت کی خلعت پہنائی جانی ہے یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا رب کریم کے فیصلے بھی بڑے ہوتے ہیں جنہیں بظاہر سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس میں کہاں۔۔۔! یہی تو وہ جلدی،بے صبری کے لمحات تھے جس کے پس منظر میں مسافر گاڑی کا ڈرائیور کھنڈرات سڑکوں کو بھی گویا موٹر وے سمجھ کر اپنی کھٹارہ گاڑی کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ دوڑا رہا تھا اور پھر ارجہ کے مقام پر فیصلے کی گھڑی تھی مسافر گاڑی کا ڈرائیور جنت کے نظاروں کو دیکھتے ہی مبعوت ہو کر نیند کی وادی میں کھو گیا اور گاڑی کھنڈر شاہر ا ہ سے اتر کر جنت کی شاہراہ پر فراٹے بھرنے لگی یوں ارجہ میں ایک خونیں صبح کا آغاز ہوا جہاں نالہ ماہل میں ہر طرف موت کا بڑی بے رحمی کے ساتھ رقص جاری تھا مسافر گاڑی کے حادثہ کے نتیجہ میں روزے دار سسک سسک کر،بلک بلک کر دم توڑ رہے تھے اور اپنے رب کی بارگاہ میں شہادتوں کے خلعت پہن کر حاضری دے رہے تھے ظالم دنیا و سماج سے منہ موڑ کر اپنی دائمی کامیابی اور حیات جاویداں کا تاج اپنے سر پر سجانے کی وجہ سے خوشی سے جھوم رہے تھے جبکہ دوسری طرف اپنے پیاروں راج دلاروں،لاڈلوں کی ٹریفک حادثہ میں المناک اموات پر نہ صرف ارجہ، باغ شہر،سدھن گلی، بیر پانی اور دیگر شہروں میں قیامت صغرٰی کا منظر تھا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ تھا لوگ گھروں سے بھاگ بھاگ کر نالہ میں پڑی نعشوں، بکھرے انسانی اعضاء کو سمیٹ رہے تھے اور حادثہ میں زخمی ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد کیلئے ہسپتالوں میں شفٹ کیا جا رہا تھا۔

ارجہ میں اک خونیں صبح کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا جب مسلمان رمضان المبارک کے نصف مبار ک مہینہ کی با برکت ساعتوں سے فیض یاب ہو چکے تھے اور باقی نصف مہینہ گزارنے کے نہ صرف متمنی تھے بلکہ عیدلفطر کے پر مسرت لمحات کو اپنے پیاروں کے ساتھ منانے کی منصوبہ بندی بھی ہو رہی تھی مگر انسان کی ضروری نہیں ہر خواہش ہر تمنا دنیا میں پوری ہو اللہ تعالی جو بندہ مومن سے ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے وہ بھلا اپنے پیاروں کیلئے برا کیوں سوچے گا کچھ فیصلے جو رب کریم کی طرف سے بندے کیلئے اور ہر دیکھنے والی آنکھ کیلئے نہ صرف ناگوا محسوس ہوتے ہیں مگر ان فیصلوں کو رب کی منشاء و مرضی سمجھ کر انہیں خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہئے کیونکہ اللہ رب العزت نے خود اپنی کتاب قرآن مقدس میں واضح کر دیا ہے،،کہ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو،،

ارجہ ٹریفک حادثہ میں شہید ہونے والے افراد کے ورثاء سے بس اتنی ہی گزارش کروں گا کہ آپ کے پیارے جس دائمی منزل کے راہی بنے ہیں ایک دن ہمیں بھی اسی طرف ضرور سدھارنا ہے کیونکہ یہ ہمارے رب کا فیصلہ ہے کہ،، ہر ذی روح نے آخر ایک دن موت کا مزا چکھنا ہے،، موت کا جام تو سب نے پینا ہے بس کوئی جلدی پی رہا ہے تو کسی کی جام پینے کی باری میں کچھ دیر ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ارجہ کے خونامی نالہ میں حالت روزہ میں دم توڑنے والوں کو جو اعزاز اللہ نے شہادت کا بخشاء ہے کیا اس اعزاز کو میں اور آپ بھی حاصل کر پائیں گے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ذرا اس بارے میں بھی ہمیں سوچنا ہے اور اللہ نے زندگی کے جو لمحات ہمیں عنایت کئے ہیں ان سے فائدہ اٹھا کر ہم نے بھی اپنی سیرت اور مثالی کردار کے ذریعے خود کو اس قابل بنانا ہے کہ کل جب اپنے رب کے حضور حاضر ہوں تو ہمارا رب ہم سے اپنی خوشنوی کا اظہار کرے اور یقینا جو لوگ صبر اور نماز سے کام لیں گے اور جو لوگ روزے کی حالت میں اپنے رب کے ہاں حاضر ہونگے رب تعالیٰ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اللہ رب العزت نے اسی لئے تو فرمایا تھا کہ،، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، جس آدمی کو رب تعالیٰ خود جزا دینے کی خوشخبری سنائے تو پھر وہ جزاء بھی کیا مقام و مرتبہ کی حامل ہو گی جب ہم اس پہلو کو سوچیں گے تو تمام دنیاوی تفکرات سے بالا تر ہو جائیں گے۔کیونکہ رب کی رضا و خوشنودی سے بڑھ کر کوئی بھی چیز ابن آدم کو نجات نہیں دلا سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

اللہ سے دعا ہے کہ ارجہ ٹریفک حادثہ میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثاء کو صبر جمیل عطا فرمائے اور انہیں یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت و حوصلہ دے آمین۔