حقیقی عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کیا ہے؟

اشتعال، ہیجانیت و جذباتیت کا لاوا مذہبی تنظیمیں اور سیاسی عناصر کھولاتے ہیں۔ جہالت اس پر پٹرول کا کام کرتی ہے۔ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و سلم سے زبانی کلامی عشق جتلانے کے عمل میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ا طاعت و اتباع کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ جان بوجھ کرعشق رسول میں ہیرو سازی کی مثالیں ڈھونڈی جاتی ہیں کہ جگر مراد آبادی اور سعادت حسن منٹو اور فلاں فلاں کے منہ سے شراب کا جام لگا ہوا تھا انہوں نے حاضرین میں کسی کی زبان سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین پر مبنی کوئی جملہ سنا تو شراب کے نشے میں 'عشق رسول' کی آمیزش ہوئی اور شراب کا پیالہ اس آدمی کے منہ پر دے مارا۔ جگر نے تو شاید آخر عمر میں شراب سے تائب ہو کر مولانا اشرف علی تھانوی رح کی بیعت کر لی تھی۔ تاہم اصل موضوع یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و شریعت کی پامالی پر جن کی غیرت نہیں جاگتی اور اس روش کو جو توہین رسالت نہیں سمجھتے ان کے کسی ہیجانی عمل کو عشق رسول کا نام دے کر اس کے ساتھ افسانوی تقدیس منسوب کرنا بڑا برا تصور ہے۔ اس سے اس معاشرے کی حقیقی دینی روح پامال ہو رہی ہے۔ عشق رسول کی یہ جعل سازی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک کھلا فاسق و فاجر شخص کسی مخالف سے اپنے بدلے لینے کے لیے اس پر توہین رسالت کا الزام لگا دے تو مذہبی جماعتیں اور معاشرے کا ہیجان زدہ طبقہ فورا 'ملزم' کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے میدان میں اتر آتا ہے۔

یاد رکھیے کہ اگر ریاست اور حکومت کا سربراہ اور اس کے وزراء نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و سیرت اور حضور کی لائی ہوئی شریعت کے باغی ہیں تو وہ نبی کی توہین کرتے ہیں۔ سیاست دان اگر جھوٹ، مکر اور بد عنوانی کا شکار ہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کر رہے ہیں۔ اگر عدالتوں میں بیٹھے ہوئے جج نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے قائم کردہ معیارات پر عدل نہیں کر رہے تو وہ حضور پاک کے گستاخ ہیں۔ اگر بیوروکریسی اور عسکری اداروں سمیت کے نیچے سے اوپر تک سرکاری کارندے دیانت و امانت اور صداقت و راست بازی سے عاری ہیں تو وہ توہین رسالت کے مرتکب ہیں۔ یہاں تک کہ جو علماء حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے نام پر لوگوں کو بھڑکاتے اور لڑاتے ہیں اور معاشرے کی صحت مند فضا میں نفرتوں اور فرقہ وارانہ تعصبات کا زہر پھیلاتے ہیں وہ آسیہ ملعونہ سے بھی بڑے گستاخ رسول ہیں۔

معاشرے کے اندر ناموس رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے تحفظ اور احترام کا حقیقی تصور اجاگر کرنا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و سیرت کی سب سے بڑی خدمت اور دفاع حرمت رسول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ خدا را معاشرے کو ہیجانیت و جذباتیت کی آگ سے بچائیں اور حب و عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حقیقی معیارات متعارف کرائیں۔ جب کوئی چاہے اپنے بدلے لینے کے لیے کسی پر توہین رسالت کا الزام لگا دے اور لوگ الزام لگانے والے کی شخصیت میں جھوٹ اور فسق و فجور کو نظر انداز کر کے ٹوٹ پڑیں، اس روش پر بریک لگانے کی ضرورت ہے۔ علماء قیامت کے روز صرف اس رجحان کو پروان چڑھانے کے جرم میں خدا کے غضب کا شکار ہوں گے۔ اس وقت دفاع حرمت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اصل طریقہ یہی ہے کہ لوگوں کو رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و سیرت سے جوڑا جائے۔