درختوں کا اجتماعی قتلِ عام

میں اَپر دیر کے ایک دور دراز جنگل کے وسط میں کھڑا ہوں۔میرے ارد گرد بے کراں خاموشی میں یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے ارد گرد زمین پہ بے شمار دائرے پڑے ہوں۔ زمین سے چھ سات انچ باہر نکلے ہوئے۔۔۔۔جڑوں سے ابھی تک اپنا رشتہ استوار کئے ہوئے یہ وہ باقی ماندہ کٹے ہوئے درختوں کے گول گول تنے ہیں۔یوں لگ رہے ہے جیسے شہرِ خاموشاں میں بے شمار بے گورو کفن لاشوں کا ایک سلسلہ ہو جو بغیردفن کئے کھلے آسمان کے نیچے پڑے حضرت انسان کی سنگ دلی اور بے حسی پر نوحہ کناں ہوں اور جو زبان ِ ِ حال سے نہ صرف مجھے اپنے انسان ہونے کا طعنہ دے رہے ہوں بلکہ تمام نوعِ انسانیت کو آئینے میں اشرف المخلوقات کی شبیہ دکھا دکھا کر اُ س کو اُسی کا لرزہ خیز مستقبل دکھانے کی کوشش کر رہے ہوں اور ساتھ ساتھ اُسی انسان کی کم عقلی اور سنگ دلی پر بھی یہ کہتے ہوئے لعنت بھیج رہے ہوں کہ کیاجنگل کے درختوں کا اجتماعی قتلِ عام اس طرح کیا جاتا ہے؟ کیا یہ سب تمھاری ضرورت تھی یو پھر پیسہ کمانے کی ہوس؟ تمھارے بڑے بھی تو درخت کاٹا کرتے تھے اور اس سے اپنے لئے ضروریات ِ زندگی مہیا کیا کرتے تھے لیکن کیا وہ ایک ہی جگہ پر اکٹھے اتنی ہی تباہی مچایا کرتے تھے؟کیا سینکڑوں درختوں کو کاٹ کھانے کے بعد تم نے اسی طرح ایک بھی درخت لگایا؟میرے پاس ان بے زبان سوکھے ہوئے مردہ درختوں کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

والدین کی اکثر نصیحتوں کو پسِ پشت ڈال کر زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے والے نوجوان کی طرح ہم بھی یہی سمجھتے رہے کہ زندگی تو بس یاروں دوستوں، ہنسنے ہنسانے، پارٹیوں، اور گھومنے پھرنے کا ہی نا م ہے اور یہ جو دقیانوسی سوچ کے پرانے لوگ ہمیں نوجوانی ہی میں بوڑھا بن کر زندگی کو ذمہ داری سے گزارنے کی بار بارتاکید کر رہے ہیں ان کو شاید خوشی و سرشاری کے ان لمحات سے کبھی لطف اندوز ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔لیکن ایسا نہیں تھا۔وہ یہ سب بہاریں دیکھ اور محسوس کر کے آئے تھے اور حیات کے پیچیدہ اور مشکل ترین مراحل سے گزرتے وقت نادیدہ اور پُر خار رکاوٹیں عبورکر نے کے بعد ہی ہمیں اِن خطرات سے آگا ہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔

یہی حال ہمارے پیارے وطن کے خوش مزاج اور زندگی سے راضی باسیوں کا بھی ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے ماحول، اُ سے کو درپیش خطرات اور ہماری صحت مند اور خوشحال ذہنی اور جسمانی کیفیت کے لئے اس کی اہمیت کے بارے میں ترقی یافتہ ملکوں کے سائنسدان، ماحولیات اور سائنس کے ماہرین بار بار ہمارے قدرتی وسائل، جنگلات، پانیوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے ہمیں گلا پھاڑ پھاڑ کر سمجھاتے رہے لیکن ہم ان کی اِس چیخ و پکار پر کان دھرنے کی بجائے اُلٹا ا ن کا مزاق یہ کہہ کر اڑاتے رہے کہ یہ مالدار ملکوں کے چونچلے ہیں۔

1980؁ء کی دہائی سے ماحولیاتی تعلیم، جنگلی حیات کے تحفظ اور جنگلات کی کٹائی کے نقصانات جیسے موضوعات سے منسلک ہونے اور اور عام معاشرتی سطح پر اس کی ترویج کرنے کے باوجود میں ماحول کی تباہی کے معدودے چند ایک مضمرات مثلاً سڑکوں پر دھویئں اور کاربن کی زیادتی، شہروں سے گزرنے والی نہروں میں گٹروں کے پانی کی ملاوٹ،فضا اور ہوا میں زمینی سرگرمیوں کے باعث مضر ِ صحت گیسوں کے انظمام اور زمین کی زرخیزی کو متاثر کرنے والی پلاسٹک اورزہریلے مواد کے ملاپ سے ہی واقف ہو سکا۔ اگرچہ میرا تعلق ماحولیاتی تعلیم کے شعبے سے تھا اور میرا زیادہ تر وقت سکولوں میں اس آفت کے بارے میں آگاہی پھیلانے سے تھا تا ہم مجھے خود بھی یقین نہیں تھا کہ یہ بلا اتنی جلدی دنیا کو اپنے گھیرے میں لے لے گی کیونکہ قدرتی نظام کے باعث زمینی اور ہوائی تبدیلیوں کا دورانیہ اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں سالوں پر تو محیط ہوتا ہی ہے درحقیقت مجھے اس امر کا ادراک بھی نہایت موہوم ساہی تھا کہ یہ قدرتی آفت نہ صرف آ چکی ہے بلکہ اب نہایت تندہی سے اپنے پنجے گاڑنے میں مصروف ہے۔ گرین ایفکیٹ، زمینوں کا سرکنا، جنگلی حیات کا یا تو دیگر علاقوں کی جانب ہجرت کرنا یا خوراک کی کمی سے ناپید ہوجانا، ہو ا کی کثافت اور معیار زندگی کے لئے خطرے کا باعث بننے والے اسباب وغیرہ کا ذکر صرف کتابوں، لیکچروں، چند ایک مخصوص مقامات کی تصویروں اور چند ایک ایسے جانوروں یا پرندوں کی معدومیت تک محدود تھا جن کو ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے

ماحولیاتی بربادی کے عملی نظارے دیکھنے اور اس پر تحقیق کرنے کا اتفاق یا تو 2005 ؁ء کے زلزلے کے بعد ہوا یا پھر سندھ میں آبی گزرگاہوں کو تعمیراتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے بعد ہوا جو نہ صرف میں نے دیکھا بلکہ دنیا نے دیکھا اور ترسیل و ابلاغ کے نمائندوں نے دنیا کو دکھایا۔

آج اگر سائنسدان ہمیں قطبی گلیشئر کے پگھلنے، سمندر کی سطح میں خطرنا ک اضافے، ہوا کی کثافت اور انسانی زندگی پر ا س کے تباہ کن اثرات کے خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں تو ہمیں اس کو نہ صرف سنجیدگی سے لینا ہوگا بلکہ اجتماعی طور پر وہ تمام تدابیر اختیار کرنی ہوں گی جس سے یہ عمل نہ صرف سست ہو سکے بلکہ آخرکار قدرتی نظام کے تحت اپنی قدرتی رفتا ر سے جاری رہ سکے۔

مظفرآباد کے خوبصورت شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر قدرت کا عظیم تحفہ ”مچھیارہ نیشنل پارک“ ہو سینڈ پِٹ کے خوبصورت تِمر کے جنگلات، خیبر کے بلند و بالا پہاڑ ہوں یا چترال گول نیشنل پارک کے چلغوزے اور مارخور کے مسکن ہوں، صحرائے تھر کے وسیع و عریض ریگستان ہو ں یا ہزارے اور خیبر پختونخواہ کے مری اور نتھیا گلی کے جنگلات ہوں،ہر جگہ انسان اپنے ذاتی مفاد اور ھل من مزید کے چکر میں قدرت کے ان خوبصورت اور قیمتی وسائل کی بے دریغ تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ کہیں جنگلات کے وزیر خود ہی جنگل کے قیمتی اور پرانے درختوں کی کٹائی کر کے آسائشِ زندگی میں مزید وسعت اور اضافے کی تگ و دو میں ہے اور کہیں وقتی لطف کے لئے نایاب جانوروں کا شکار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف خود حکومتی کارندے سینکڑوں سال پرانے دیار اور چیڑ کے درختوں کے سودے کر رہا ہے دوسری جانب جنگلات کی زمین کو سوسائیٹیوں اور کالونیوں میں تبدیل کر کے جنگل میں رہائش پذیر جنگلی حیات پر زمین تنگ کر رہا ہے۔ زیادہ پریشانی اُس وقت ہوتی ہے جب خود جنگل اور قدرتی وسائل کے رکھوالے ہی ان کے درپے ہوں کیوں کہ جو باز پرس کرنے والے ہیں اُن سے کون باز پرس کرے گا؟

زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ جو ممالک اپنے تیئں اپنے ملک اور علاقے کے ماحول کو بحال کرنے اور بہتر بنانے کے کام میں جُتے ہوئے ہیں، اُن کی کاوشیں بھی ہم لوگوں کی بے احتیاطیوں کے باعث رائیگاں جائیں گی۔ یہ ہوا، یہ مٹی، یہ دریاؤں کا پانی اور فضا کسی سرحد کی محتاج نہیں اور نیلگوں آسماں پر زمین کے گرد حفاظتی کُرہ (اوزون) کسی ایک علاقے یا ملک کو تحفظ نہیں دے رہا ہے۔ بعینہِ یہی کُرہ اگر کسی جگہ پر ٹوٹ کر سورج کی نقصان دہ شعاعوں کو زمین کی طرف دھکیلنے لگا تو اُس کی زد میں کوئی ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا آئے گی۔ اسی لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر ہمارے مختلف ماحولیاتی منصوبوں کے لئے رقم بھیجتے ہیں اور ہم اُن پیسوں کو بھی جھوٹی رپورٹوں، تصویروں اور تقریروں کی صورت میں یہ کہہ کر لوٹاتے رہتے ہیں کہ بس۔۔۔۔اس سے زیادہ یہاں اور کچھ ممکن نہیں۔ ہم نے ماحول کوتباہ کرنے والے تمام اجزاء کا نہ صرف خاتمہ کر دیا ہے بلکہ آنے والی کئی صدیوں تک ماحول کو خراب کرنے والے اجزاء کی جراٗت نہیں کہ وہ یہاں قدم رکھ سکیں۔