چشمِ لبریز میں جمال اتار

غزل

چشمِ لبریز میں جمال اتار

دل کے زخموں پہ اندمال اتار

کم نصیبوں پہ، ہجر زدگاں پر

اب کوئی آیتِ وصال اتار

تیری مٹھی میں چاند، سورج ہیں

اب جلا یا بجھا، اچھال ، اتار

میری پوروں سے میرا لمس اٹھا

میرے ہونٹوں پہ اپنے گال اتار

یہ تری شرم تیرا گہنا ہے

میرے حجرے میں سارا مال اتار

مَیل کے جیسے جم گیا غم بھی

دل کی دیوار سے ملال اتار

اپنی آنکھوں سے خوب شور مچا

اپنے ہونٹوں سے سب سوال اتار

تیرے دربار میں چلے آئے

خلعتیں بخش چاہے کھال اتار

اپنی غزلوں سے اس کے نقش بنا

نت نئے رنگ کے خیال اتار