بھوک

افسانچہ

میں مین روڈ کے ساتھ ہی ایک کریانہ اسٹور کے پاس بائیک کھڑی کر کے دوسری طرف واقع ایک دوست کی موبائل شاپ پر جانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں تھا ۔ دراصل ہیوی ٹریفک کے باعث یہ سڑک پار کرنا میرے لیے ہمیشہ سے ہی مسئلہ رہا ہے ۔ اوپر سے گاڑیوں کا دھواں ، پریشر ہارنوں کا شور اور بھکاریوں کی بھانت بھانت کی بولیاں سن سن کر اچھا خاصا آدمی بھی چکرا کے رہ جاتا ہے ۔ پچھلے پانچ ،سات منٹ میں کئی قسم کے بھکاری اپنی اپنی مرضی منشاء کے مطابق میرے پاس بھی آئے اور ” اللّہ بھلا کرے “ کا روایتی جواب سن کر مایوس لوٹ گئے ۔ ایسی جگہ پر جیب کتروں کا بھی خدشہ رہتا ہے جو مختلف شکل و صورت میں اپنے شکار کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ اکثر سادہ لوح اور پہلی دفعہ اس گنجان آباد اور تعفن زدہ علاقے میں آنے والے حضرات جیب خرچ سے بھی محروم کر دیے جاتے ہیں۔

میں ٹریفک کے کم ہونے کا مسلسل جائزہ لے رہا تھا کہ اچانک ” بھائی صاحب ۔ ۔ ۔! میرے بچے بھوکے ہیں ، خاوند بیمار ہے ۔ گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ اللہ کے نام پر کچھ دے دیں“ کی آوازیں کسی مانوس لب و لہجے میں میرے کانوں سے ٹکرائیں ۔ آواز چونکہ جانی پہچانی لگ رہی تھی ۔ پیچھے مڑ کے دیکھا تومیلے کچیلے برقعے میں ملبوس ایک درمیانی عمر کی خاتون کھڑی تھی ۔ ہماری نظروں کا ملنا تھا کہ وہ پلک جھپکتے ہی بھیڑ میں غائب ہو گئی ۔ اور میرے ذہن پر بیس برس پرانے الفاظ ” تمہارے پاس تو زہر کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں ، میں نے بھوکا مرنا ہے جو تم سے شادی کروں گی ؟ “ اور آج کے وہی الفاظ جو چند لمحے پہلے میری سماعت سے ٹکرائے تھے، ہتھوڑے کی طرح بجنے لگے ۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ بیس سال پہلے جسے اپنی بھوک کی فکر تھی وہ آج اپنے بچوں اور بیمار شوہر کی بھوک مٹانے کے لیے فکر مند ہے ۔ کم بخت بھوک انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔