آج تک لوٹ کر وہ تو آئے نہیں

آج تک لوٹ کر وہ تو آئے نہیں

نیلم اور جہلم کی جل ترنگ روانیوں کے اوپر دھند کے چلتے ہوئے دریا اور سرسبز مخملیں بلند پہاڑوں کے حصار میں گہرے سُرمئی بادلوں کے ہم آغوش وادی مظفرآباد کا حسن دلوں کے تار چھیڑ رہا تھا۔مظفرآباد شہر کی انفرادیت اس کا قدرتی حسن ہی نہیں اس کے باسیوں کی نظریاتی ثابت قدمی ، باہمی اخلاص ومروت اور مملکت خدادادپاکستان اور ملت پاکستان سے شدید جذباتی وابستگی بھی ہے۔بالخصوص 1990 کی دہائی میں کشمیر کی تحریک مزاحمت اور پھر8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلہ کے موقع پر پاکستانیوں کے بے قرار اور بے ساختہ ا یثاراور گہرے نقوش قدم نے محبت کا جو زمزم بہایا تھا وہ تا قیامت ہمارے قومی مستقبل کے گلستان کو سیراب کرتا رہے گا۔ غالباً بر صغیر کی تاریخ میں یہ پہلی واردات ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ہندوستانی فوج اور مودی سرکار کی طرف سے آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے جبکہ کشمیری اب سر دھڑ کی بازی لگا کر حصول منزل کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور آزادی کے قریب تر ہیں ۔ اس وقت ضرورت تھی کہ پوری پاکستانی قوم اور حکومت متحد اور یکسو ہو کر ان کے ساتھ کھڑی ہو۔لیکن وطن عزیز پاکستان میں نو وارد سیاستدانوں کی اکھاڑ پچھاڑ ، ڈالروں اور جائیدادوں کی گنتی اور ہوسِ اقتدار میں ایک دوسرے کو ملیا میٹ کرنے کی سیاسی اور قانونی جنگ نے ملک میں عدم استحکام اور سیاسی انتشار کا جو ماحول پیدا کیا ہے اس نے ملک کے پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا کے علاوہ عوامی سطح پر بھی دہشت گردی کے خلاف خطرناک اور بے مثال جنگ اور محاذ کشمیر کو تقریباً پس پشت ڈال کر صرف دوسرے درجے کی خبروں تک محدود کر دیا ہے۔ان حالات میں پاکستان اور پاکستانی قوم کی عظمتوں کی یادہانی کے علاوہ قومی اتحاد اور فروغ محبت کے ساتھ اپنے اصل قومی احداف اور آزادی ِ کشمیر کے ساتھ تکمیل پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے پہلے قدم کے طور پر دلوں کو جوڑنے کی خاطر آزاد کشمیر کے زرد صحافت کے خلاف بر سرپیکار، درد مند صحافیوں کی تنظیم پریس فار پیس نے13 اگست کی شام نیلم ہوٹل میں جشن پاکستان کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا ۔ جسے چوہدری محمد لطیف ایڈیشنل چیف سیکرٹری ریٹائرڈ ، سینئیر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اور بیگم تنویر لطیف تمغہ امتیاز نے سپانسر کیا۔اس تقریب کے مہمان خصوصی دلوں کو جوڑنے کا ہنر رکھنے والے قلمکار اور محفل آرائی کے شمس و قمر روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کے ایڈیٹر جناب ڈاکٹر ذاہد حسن چغتائی تھے جوبطور خاص جشن پاکستان کی تقریب کو رونق بخشنے کے لیے انتہائی مصروفیت کے لمحات میں مظفرآباد تشریف لائے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے ہر دلعزیز رہنماآزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن جناب ایڈوکیٹ شہزاد رشید چوہدری نے تقریب کی صدارت فرمائی۔س تقریب کا منفرد اور خوبصورت پہلو یہ تھا کہ پریس فار پیس نے بطور خاص اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ جشن پاکستان کے سلسلہ میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے ممتاز رہنما تقریب میں شرکت فرمائیں جنہوں نے فراخدلی کے ساتھ اس عوامی تقریب کو پزیرائی بخشی۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ایڈوکیٹ سپریم کورٹ خواجہ فاروق احمد، پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما شوکت جاوید میر ، مسلم لیگ ن کی خاتون رہنما ایڈوکیٹ سپریم کورٹ راحت فاروق ، لیبریشن لیگ کے سینئیر نائب صدر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ عبدالطیف میر ، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنما ایڈوکیٹ زاہد اکرم ، سینیئر ایڈوکیٹ سابق صدر بار ایسوسی ایشن اقبال رشید منہاس اور سینیئر ایڈوکیٹ بلقیس منہاس نے اس تقریب کو رونق بخشی جبکہ مسلم کانفرنس کے رہنما جناب مرتضیٰ گیلانی یوم پاکستان کی ریلی کے سلسلہ میں اور جماعت اسلامی کے جناب شیخ شکیل الرحمان بھی یوم پاکستان کی تقریبات کے سلسلہ میں مصروف تھے۔ علاوہ ازیں ریاست کی اعلیٰ شخصیات ، دانشوروں ، ماہرین تعلیم، شعرائ، سینیئر بیورو کریٹس اور تمام شعبہ ہائے علم و دانش کے سرکردہ ماہرین نے تقریب میں شمولیت فرمائی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جناب فرحت میر صاحب 14 اگست کو یوم پاکستان کی سرکاری تقریبات کی نگرانی کی مصروفیات کے باوجود اپنی بیگم صاحبہ کے ہمراہ تشریف لائے۔اس اعتبار سے یہ ایک انتہائی طاقتور اجتماع تھا جو دلوں کو جوڑنے اور اعلیٰ ترین قومی مقاصد کے حصول کے لیے اعتماد باہمی اور احترام و یگانگت کے سنہری اصولوں کے فروغ کے ساتھ مکمل فکری ہم آہنگی اور اتحاد و یکسوئی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے عزم کی تجدید کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ان احداف کے ساتھ اعلیٰ تریں شخصیات کی شرکت اس کی سو فیصد کامیابی کی دلیل ہے۔ہم نے تو صرف آواز دی تھی اور قوم کی آنکھوں کے چاند ستارے ، اعتماد اور محبت کی مسکراہٹیںاور گرمجوشی کا امرت بانٹنے جشن پاکستان کی تقریب میں پہنچ چکے تھے۔تقریب کا آغاز ڈویژنل ڈایریکٹر کالجز جناب پروفیسر ابراہیم قاضی کی روح پرور تلاوت سے ہوا جبکہ نعت رسول مقبول ؐسے ایڈوکیٹ قاضی فہد نے دلوںکو عشق رسول ؐ سے منور کیا۔نظامت کے فرائض گرلز ڈگری کالج اٹھمقام کی لیکچرار سمیرا کاشف نے ادا کئے اور اس منفرد تقریب میں تقریروں کے بجائے وقفے وقفے سے محبت فاتح عالم کے مختصر پیغامات کے علاوہ آزا کشمیر کے معروف فنکاروں نے قومی نغموں اور اآزاد کشمیر کے معروف شعراء کے لکھے ہوئے ترانوں سے وطن کی محبت کے سر بکھیرے ۔ بیگم تنویر لطیف تمغہء امتیاز چیئرپرسن پریس فار پیس کے کلمات تشکر اور استقبالیہ کے بعد آزاد کشمیر کے ہر دل عزیز موسیقار راجا انور نے سابق سیکرٹری حکومت اور ممبر آزاد جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن جناب اکرم سہیل کی نظم جو انہوں نے کمان پل چکوٹھی سے سرینگر کی طرف بذریعہ دوستی بس جانے والے پہلے قافلہ امن کو رخصت کرنے کی تقریب میں پڑھی تھی انتہائی دلگداز انداز میں گائی۔ دلوں میں اترنے والی اس نظم نے محفل پر سناٹا طاری کر دیا۔ (جاری ہے)