تاریخ کا بدترین کرفیو

بھارتی فوج نے تلاشی مہم کے دوران کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے باوجود اقوام متحدہ نے بیانات دینے کے سوا کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران کئی کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا لاپتہ افراد بھارتی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے مقبوضہ کشمیر میں فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پتھر برسائے واضح رہے کہ صفاک بھارتی فوج مظائرین کی جانب سے پتھراؤ کے خلاف گلہ کرتی رہی ہے بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہے ۔

ایک سابق بھارتی وزیر نے بھی مودی سرکار کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مشورہ دیا ہے اور اپنے بیان میں واضح کہا ہے کہ بھارت کو 5 اگست 2019 کے غیر آئینی فیصلوں کو منسوخ کرنا چاہیے اس ضمن میں اہم امر یہ ہے کہ 13 برسوں کے بعد مقبوضہ وادی کے سابق کٹھ پتلی وزراء بھی اس عمل کی صداقت کو تسلیم کرنے پر متفق ہوئے قیام پاکستان کا دو قومی نظریہ بالکل درست تھا اور بھارت سے جموں کشمیر کا الحاق غلط اور غیر منصفانہ فیصلہ تھا بھارت سرکار نے معاہدہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے بھارت کے تمام غیر کشمیری شہریوں کو مقبوضہ وادی میں ہی آباد ہونے اور جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی تھی اور کٹھ پتلی سیاست دانوں کو قید و بند کی نذر کردیا تھا ۔۔

اہم امر یہ ہے کہ ان سیاستدانوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور رہائی کے بعد حالات میں ان کے چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں کہ مودی سرکار نے ریاست کا زبردستی نقشہ بدل دیا ہے کشمیر کی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ کا عہدہ ختم کیا جا چکا ہے اقتدار کے مزے لیتے ان حکمرانوں پر اب یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ ریاست کے تین ٹکڑے ہوچکے ہیں جو ہو رہا تھا غلط تھا نیز کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اس سلسلے میں ان رہنماؤں کے کردار میں احتجاج کی ایک جھلک بھی دکھی ہے رہائی کے بعد محبوبہ مفتی صاحب نے پریس کانفرنس سے بھارتی جھنڈا یہ کہتے ہوئے ہٹا دیا کے اس جھنڈے سے کشمیر کا کوئی تعلق نہیں رہا ان کٹھ پتلی رہنماؤں کو اب اس امر کا احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ غلط کیا اور اپنے غیر قانونی فیصلوں اور جابرانہ اقدامات سے کشمیر کو مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ۔

مودی سرکار کے کشمیریوں کے ساتھ دھوکے نے ان سیاستدانوں کو دو قومی نظریہ کی اہمیت بخوبی سمجھا دیں بھارت جس سرزمین پر دھوکہ دہی سے قابض ہے اسی سرزمین کے لوگوں نے بھارت کو طویل آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے دھول چٹانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے بھارت امریکا سے جدید مواصلاتی نظام کے حصول کا خواہاں ہے اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا ہے اہم امر یہ ہے کہ بھارت خطے میں امن نہیں جنگ چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ تیزی سے غیر ضروری اقدامات بروئے کار لانے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے زمین کے ملکیتیی قوانین بدلنے کو جنگی جرم قرار دیا ہے اس سلسلے میں حریت رہنماؤں نے بھی احتجاج کیا اور کہا کہ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ وادی میں زمین کے حصول اور ملکیت کا حق دینا مقامی باشندوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مہذب دنیا کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لیے آواز بلند کریں نیز اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے اور عملی اقدامات بروئے کار لائے کشمیر متنازع علاقہ ہے بھارت حقائق مسخ کرکے ہڑپ نہیں سکتا عالمی برادری کو چاہیے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کیلئے کردار ادا کرے تاریخ کی بدترین کرفیو کے بعد وادء غم والم کی داستان بنی ہوئی ہے مقبوضہ وادی کے گلی کوچے خون سے رنگے ہیں بھارتی فوج کے مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے کشمیری عزم و ہمت کی داستان بنے ہوئے ہیں ظلم و ستم ڈھائے جانے کے بعد بھی حق کے حصول کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے خون کے نذرانے دے کر ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔

اس سلسلے میں پاکستان کشمیریوں کے موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے مقبوضہ وادی کے عوام کی سفارتی اور اخلاقی جنگ لڑ رہا ہے اس ضمن میں ہر پلیٹ فارم پر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے گا مودی سرکار نے کشمیر کی حیثیت بدلنے کی کوشش کی زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول امر ہے مقبوضہ وادی کے عوام طویل عرصے سے کرفیو کی زد میں ہیں سخت پابندیوں کے باوجود اپنے سچے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں مقبوضہ وادی میں مودی سرکارکے مجرمانہ اقدامات پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے اپنا جائز کردار ادا کریں