شیرِکشمیر کی عدالتی ہار

شیرِکشمیر کی عدالتی ہار! (15)

شیخ عبدا للہ کی نظر بندی

شیخ عبدا للہ کی نظر بندی مئی ۶۴ ء سے ستمبر ۷۴ء تک طول کھینچ گئی۔ ا س کے مقابلے میں نہرو کی ”دو ستانہ گرفتاری“ کی ہنگامہ خیز کہانی اُوڑی کے ڈاک بنگلہ میں صرف دو دن بعد تاریخ کی دُھول میں تحلیل ہو گئی۔ اس دوران پنڈت جی کو دلی سے بلاوے آتے رہے۔ آخر کارمولانا ابوالکلام آزاد کے مشورے پر اپنی ’’حراست“ ختم کر کے اُنہیں گھر واپسی کرنا پڑی۔ا لبتہ دلی پلٹتے ہوئے نہرو نے مہاراجہ کو اپنے ایک برقیہ میں چیتاؤنی دی کہ وہ دوبارہ کشمیر آئیں گے۔ دلی میں نہرو نے بڑی دھوم دھام سے پریس کانفرنس کی۔اس میں کشمیر کی سیاسی صورت حال کو مخدوش بتاتے ہوئے اپنا سیاسی موقف دہرایا کہ تیزی سے بدل رہے ہندوستان کے پس منظر میں راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ یہی بات شیخ عبداللہ بھی اپنی باغیانہ تقاریر میں بہت مرتبہ اُجاگر کر چکے تھے اور اسی منطق کی بنیاد پر وہ بیع نامہ امرتسر کے خاتمہ پر اصرار کر رہے تھے۔ اس ”جرم“ کی پاداش میں ا نہیں پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔

نہرو کے کشمیر بیانیے کی مخالفت

نہرو کے کشمیر بیانئے کا بعض کٹر پنتھی کشمیری پنڈتوں نے بہت بُر امنا یا۔انہوں نے اس بارے میں بغیر کسی لاگ لپٹی کے اپنے ہم مذہب اور ہم نسل پنڈت جی پر بیک زبان غلط بیانی کر نے کا الزام لگایا۔ یہ بات زیر نظر رہے کہ ان ایام میں جہاں شمالی ہند کے اُردو اخبارات وجرائد شخصی راج کے سائے تلے ماہی بے آب کشمیر کے دردو کرب کی منظر کشی میں اپنا کلیجہ قلم و قرطاس کے سپرد کر رہے تھے، وہیں ہندی پریس ”کشمیر چھوڑدو“ تحریک کے خلاف اپنی زہر ناک پرو پگنڈا مہم زوروں پر چلا رہا تھا۔ اُ س نے آگے پر جا پریشد اور سنگھرش سمتی ایجی ٹیشن کے ہر دو موقع پر بھی اسی تاریخ کا اعادہ کیا۔ فرقہ واریت کا حامی ہندی پریس(آج کل کی زبان میں گودی میڈیا) بیع نامہ امرتسر پر خط ِتنسیخ پھیرے جانے کے مطالبے کو کشمیر کے ہندو مہاراجہ کے خلاف منظم سازش جتلا رہا تھا۔ اس آتشیں فضا میں شیخ کی حمایت میں نہرو کی کھلم کھلا پیش قدمی سے یہ تمام عناصر چیں بہ چیں ہورہے تھے۔ ان کے سینوں میں سوزش کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔

کانگریس کا مہاراجہ سے درپردہ رابطہ

نہرو کے کشمیر بیانئے سے ناراض لوگوں نے احتجاجاً سردار پٹیل اور نہرو کو مسلسل تاریں ارسال کیں۔ اور باتوں کے علاوہ یہ حضرات تشویش ظاہر کر رہے تھے کہ پنڈت جی کے بیانات سے کشمیری مسلمانوں کا کشمیری ہندوؤں کے تئیں سیخ پا ہونے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ بایں ہمہ کڑوا سچ یہ تھا کہ دشت ِسیاست کی سیاحی میں کئی دہائیاں گزارنے والی آل انڈیا نیشنل کانگریس نے کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔اس نے روزاول سے ہی کشمیر کے بارے میں بیک وقت دو متضاد سیاسی رویے ا ختیار کئے ر کھے تھے۔ کا نگریس نے ایک جانب شیخ کو نہرو کے ذریعے اپنے شیشے میں اُتروایا، دوسری جانب مہاراجہ کے ساتھ بھی در پردہ اپنی راہ ورسم بنائے رکھی۔ حد یہ کہ ایک موقع پر گول مول لفظوں میں گاندھی جی نے کو ئٹ انڈیا اور کوئٹ کشمیر کے در میان خط ِ امتیاز کھینچ کر وقت کے کشمیری وزیراعظم پنڈت رام چند کاک کو مہاراجہ موافق موقف سے تحریراً آگاہ کیا تھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ چشم ِفلک نے دیکھا کہ دو اعلیٰ کانگریسی لیڈر اچاریہ کرپلانی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل مہاراجہ کشمیر سے اپنی یاری دوستی کا حق ادا کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ نہرو کے دورہ کشمیر کے معاً بعد سردار پٹیل کی ایماء پر کانگریس صدر اچاریہ کرپلانی کا دورہ ئ کشمیر پر آنا اور یہاں سری نگر میں مہارا جہ کے حق میں بیان دینا، پارٹی کی اسی دورُخانہ پالیسی کا پتہ دیتا تھا۔

کشمیر چھوڑ دو تحریک کے غبارے سے ہوا

کر پلانی نے کشمیر میں یہ کہہ کر کشمیر چھوڑدو تحریک کے غبارے سے گویاہوا نکال کر رکھ دی تھی:

مہاراجہ کشمیر کوئی غیر ملکی نہیں ہے اور نہ وہ انگریز ہے کہ ا س کو یہاں سے نکالاجائے۔ مہاراجہ کو پورا پورا حق ہے کہ وہ کشمیر میں رہیں۔ انہوں نے کشمیر غداری یا خون خرانے سے حاصل نہیں کیا ہے۔ کا نگریس نے ہندوستان چھوڑدو کا نعرہ ا س لئے بلند کیا تھا کہ انگریز غیر ملکی تھا، لیکن مہاراجہ صاحب اسی مادرِ وطن کے سپوت ہیں۔ کشمیر چھوڑ دو کا نعرہ بے ہودہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ نیشنل کانفرنس کو یہ نعرہ ترک کر نا چاہیے۔ “ ان صریحی الفاظ میں کرپلانی نے مہاراجہ کی عیاں وبیاں حمایت کر کے ہوا کا رُخ ظالمانہ شخصی نظام کے مظالم سے ہٹا کر کسی ا ور ہی طرف موڑ دیا۔ کا نگریس کے اہم نیتا کی طرف سے ا پنے حق میں موافقانہ بیان بازی پر مہاراجہ کا دلی طورخوش ہونا لازمی تھا۔ اس سے ان کو نفسیاتی طور تسلی ہوئی کہ ہندوستان کے سیاسی قضا وقدر کی مالک جماعت اس کی پشت پناہ ہے۔

مہاراجہ کا پٹیل فنڈ میں چندہ

مہاراجہ نے اپنی خوشی اور تشکرکے اظہار میں پٹیل فنڈ میں مبلغ پچاس ہزار روپے کا چندہ بھجوادیا۔ اس فنڈ میں دوسرے راجہ مہاراجوں نے بھی چندے دئے تاکہ سیاسی حا لات کے مدو جزر میں کا نگریس کی آشیر واد اور اس کا مہر وماہ ان پر بنا رہے۔ خود ہی اندازہ کیجئے کہ آج سے پون صدی قبل ایک غریب ومفلوک الحال ریا ست کے مطلق العنان حکمران کی طرف سے پہلے شیخ کے خلاف مقدمہ بغاوت میں سرکار کی پیروی کر نے والے وکیل جے گوپال سیٹھ، بیر سٹر یٹر لاء کو دو لاکھ روپے کا بھاری معاوضہ ادا کیا گیا اور پھر سردار پٹیل کو اتنابڑا چندہ عطیہ دیا گیا، جب کہ ریاست کی بھوکی ننگی ناخواندہ رعایا محتاجی اور افلاس میں بے موت مر رہی تھی۔ یہ شاہ خرچیاں اس تلخ وتند حقیقت کا اظہار ہے کہ مطلق العنایت کس طرح عوام کا خون چوسنے کر نے میں بے نیاز ہوتی ہے۔ تاریخ کے پنوں میں یہ مایوس کن روایت بھی موجود ہے کہ چندے کی یہ خطیر رقومات بہت جلد فرقہ و ارانہ فسادات بھڑکانے میں پانی کی طرح بہائی گئی تھیں۔

کانگریس، بغل میں چھری منہ میں رام را م

بہرصور ت کا نگریس نے صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ ملکی پیمانے کے مسلم ایشوز میں ہمیشہ بغل میں چھری منہ میں رام رام والی پالیسی اپنائی۔ مہاراجی دور کے فیصلہ کن ایام میں بھی پارٹی کی پالیسی کبھی

مہاراجہ کی مخالفت اور شیخ عبدا للہ کی موافقت پر مرکوز ہو تی اور کبھی اس کا پہیہ اُلٹی گردش کر جاتا۔ تاریخ شاہد عادل ہے کہ کانگریس نے کشمیر میں روز اول سے آج تک اسی دوعملی کواپنائے رکھا۔ کر پلا نی کا بیان اسی کڑوی سچائی کا آئینہ دار ہے۔اس بیان کے ردعمل میں ہندی پریس،پنڈتوں، راجپوتوں، آرا یس ایس جموں وغیر ہم کی باچھیں کھل گئیں۔ان لوگوں کے واسطے یہ تریاق تھا۔ا یک عرصہ سے کشمیر چھوڑدو تحریک کی بیخ کنی اور مہاراجی نظام کے دفاع میں انہوں نے جو دھرم یدھ چھیڑ رکھا تھا، یہ اس کی جیت کا سندیسہ تھا۔چونکہ کا نگریسی ووٹ بنک ان لوگوں پر محیط تھا اس بنا پر یہ ان کی ناراضی مول لینے کا خواب وخیال میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا مسلم اکثریتی کشمیر میں اپنی کج ادائیوں کے توسط سے کا نگریس ہمیشہ رند کی رند بھی رہی اور پارسا بھی کہلائی۔

شیخ عبداللہ پر بغاوت کا مقدمہ

شیخ عبداللہ کے خلاف مقدمہ بغاوت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لالہ برکت رائے کی خصوصی عدالت میں جون ۶۴ء سے 10/ ستمبر ۶۴ ء تک چلا۔اس کی کل ملاکر اکتیس پیشیاں ہوئیں۔ مقدمہ پر اسی طرح جرح وتعدیل اور بحث وتمحیص ہوتی رہی جیسے امریکہ کی قید وبند میں نام نہاد خصوصی عدالت کے سامنے صدام حسین کا کیس لڑا گیا۔ شیخ صاحب کے وکیل صفائی آصف علی نے پھر بھی مہاراجی عدالت کے سامنے اپنے موکل پر لگائے گئے الزامات مسترد کر نے میں کوئی کمی نہ رکھی۔ انہوں نے عدالت میں اپنے موکل کے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید میں شیخ سے منسوب ایک مدلل جواب بزبانِ انگریزی پیش کیا۔ا پنے اس تاریخی جواب میں شیخ نے اسپیشل عدالت کے سامنے کشمیر کی قدرتی خوب صورتی، کشمیریوں کی ذہانت وفطانت، اُن کی غربت ناخواندگی، ان کی مظلومیت، نیشنل کا نفرنس کے عہدیداروں اور کارکنوں کی قید وبنداور عوام پر ڈھا ئے گئے ظلم وتشدد (واضح رہے کہ کوئٹ کشمیر موؤمنٹ کے دوران بیس کشمیری پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر لقمہئ اجل بن گئے مگر شخصی راج ایجی ٹیشن کے دوران کام آنے والوں کی تعداد بارہ بتا تی) کا نقشہ کھینچا تھا اور پھر کیبنٹ مشن انگلستان کے بیان مجریہ ۶۱ / اگست ۶۴ ء کاحوالہ دے کر کہا تھا کہ اس سے ہمارے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے کہ بر طانوی اقتدار اعلیٰ کے خاتمے پراور ہندوستان کا نیا آئین معرض ِ وجود میں آتے ہی راجواڑوں کے ساتھ طے پائے گئے تمام فرسودہ معاہدات وسندات کالعدم قرار پاتے ہیں، جن میں بیع نامہ امرتسر بھی شامل ہے۔

شیخ عبداللہ پر فردِ جرم عائد ، بغاوت کا مجرم قرار

مہاراجی عدالت کے روبرو اپنا سیاسی حق وا نصاف کے ساتھ پلیڈ کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے برابر تھا۔ شیخ صاحب کو بھی ا س سے عدل گستری کی کوئی اُمید نہیں تھی، حتیٰ کہ عام لوگ بھی جانتے تھے کہ شخصی عدالت اُنہیں راج گدی کے خلاف زبانی جنگ چھڑنے کی سزادے کر رہے گی۔ ا س لئے وکیل صفائی کی قانونی موشگافیوں کے باوجود عدالت نے ۶۵ صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں شیخ صاحب پر فرد ِ جرم عائد کر تے ہوئے شیر کشمیر کو بغاوت کا مجرم قرار دیا۔ اُن پرزیر دفعہ ۴۲۱/ الف، رنبیر پینل کوڈ مہاراجہ مخالف تین تقاریر پر فی تقریر تین سال قید محض کی سز اسنائی گئی، نیز ہر تقریر کے جرم میں پانچ پانچ سو روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالتی فیصلہ کے بعد شیخ کو بادامی باغ سری نگر کی فوجی چھاؤنی سے پہلے قلعہ باہو جموں منتقل کیا گیا، پھرریاسی اور بعد ازاں بھدرواہ جیل میں ٹھونس گیا اور آخر پر بادامی باغ سری نگر واپس لاکر ستمبر ۷۴ ء میں پُر اسرا رحالات میں غیر مشروط رہا ئی دی گئی۔

نوٹ: ش م احمد کشمیر کے آزاد صحافی ہیں ۔