سلیم نازبر یلوی

۳ اکتوبر ۹۹ ء کی رات بھیگ گئی اور دوسرا پہر شروع ہو گیا،دیکھتے ہی دیکھتے راولپنڈی کے عسکری ادارہ قلب میں سناٹا اتر آیا۔ گھر جانے سے پہلے میں آخری مرتبہ سی سی یو وارڈ کے اس کمرے کی جانب بڑھا جہاں بردارم سلیم ناز موت سے جنگ لڑ رہے تھے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی وردی پوش ڈاکٹر نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ میرے چہرے پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گیا۔ "سی ٹی سکین رپورٹ آ چکی ہے۔"ڈاکٹر نے کہا۔ "پھر "میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔"پھر.....زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے۔"میجر ڈاکٹر نے اپنے کندھے اچکائے،یہ اس کے لیے معمول کی بات تھی۔

"دیکھیے! ہم ان کے لیے ہر علاج بہم پہنچا سکتے ہیں،وسائل کی بات بھی نہیں لیکن.....لیکن ان کی لیفٹ سائیڈ مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے، دماغ کا پچہتر فیصدی حصہ متاثر ہے اور ان کا دل..... "یہ کہہ کر ڈاکٹر نے کاغذوں کا ایک پلندہ میرے سامنے ڈال کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں اس پلندے کہ محض گھور کر رہ گیا۔ ڈاکٹر کی ساری بات جو اشاروں میں تھی،میرے لیے سمجھنا مشکل نہ تھا لیکن".......لیکن "کے بعد میں بھی کچھ نہ سوچ نہ سکا۔ نڈھال قدموں سے وارڈ سے نکلا، عسکری ادارہ قلب کی پارکنگ میں جانے کتنی دیر بیٹھا رہا۔ کیا سلیم بھائی کی زندگی خطرے میں ہے؟میں نے سوچا، کئی بار اپنے آپ سے سوال کیا۔ ہر دفعہ دل ماننے سے انکار کر دیتا۔ خیالات کا ایک ہجوم تھا۔ یادوں کی ایک طویل فلم دماغ کی سکرین پر چلنے لگی۔

یہ تیرہ برس پرانی بات ہے، جب سلیم ناز کا پہلا کیسٹ مارکیٹ میں آیا، یہ ایک بالکل نیا تجربہ تھا، الیکٹرانک میڈیا پر فحاشی کے مقابل پہلی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ یہی وہ ایام تھے جب مقبوضہ کشمیر کے کہساروں سے اکادکا لوگ بیس کیمپ آتے۔ واپس جانے لگتے تو سلیم ناز کے کیسٹ ساتھ لے جاتے۔ افغانستان میں سلیم ناز کے انقلابی ترانوں کی گونج ابھی باقی تھی کہ کشمیر کے افق سے بھی عسکری جدوجہد کا سورج طلوع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی سلیم ناز کا کیسٹ "اب کشمیر کی باری ہے"کے نام سے منظرعا م پر آگیا۔ انہی ایام میں سلیم بھائی سے تعارف ہوا اور یہی تعارف بھائی چارے میں ڈھل گیا۔ وہ کراچی سے لاہور اور لاہور سے راولپنڈی منتقل ہو گئے اور افشاں کالونی راولپنڈی میں ہم ایک دوسرے کے ہمسائے بھی بن گئے۔ اس عرصے میں آپ نے کشمیر کے صوتی محاذ پر یکا و تنہا جہاد کا آغاز کیا، آڈیو کیسٹ کا معاملہ ہو یا ویڈیو فلم کا، سلائیڈ شو کا تذکرہ ہو یا سٹیج ڈرامے کا، آپ نے خود لکھا،کمپوز کیا،ایکٹ کیا،ایڈٹ کیا، ریکاڈ کیا اور عام کیا۔ ان کے گھر میں شام کب ہوتی اور صبح کب طلوع ہوتی، میں کئی برس کی ہمسائیگی کے باوجود اندازہ نہ کر پایا۔ رات گئے معلوم کرتے توپتہ چلتا ابھی دفتر میں ہیں۔ صبح سویرے معلوم کریں تو خبر ملتی دفتر جا چکے ہیں۔ کئی مرتبہ تو ایسا ہوتا کہ وہ ریکاڈنگ میں اتنے منہمک ہو جاتے کہ گھر والوں کو خبر نہ ہوتی۔ ایسے میں واپس نہ آتے۔ سلیم ناز کی اس ادا کو بعض دوست لاپرواہی سے تعبیر کرتے لیکن جو ان کو قریب سے جانتے ہیں انہیں خبر ہے کہ وہ اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت رکھنے والے انسان تھے۔

"حزب المجاہدین"کے نام سے آڈیو کیسٹ کا مرحلہ تھا۔ مظفرآباد سے چالیس کلو میٹر دور جنوب کے جنگلوں میں ایک بڑے گروپ کے ساتھ اس کی ریکارڈنگ ہوئی۔ بیس روز گزر گئے۔ سلیم نا مسلسل ریہرسل کرتے رہے، آخری روز جب مظفرآباد آئے تو ان کے چہرے پر مشقت کے واضح آثار تھے۔ کسی نے کہا ناز صاحب سو جائیں، انہوں نے جوابا "اپنے ہی شعر کا مصرعہ پڑھا -

جب وادی میں جنگ بپا ہو ایسے میں کیا سونا ہے

1992ء میں سلیم ناز مرحوم لاہور سے منتقل ہو کر راولپنڈی کے پی آئی (کشمیر پریس انٹرنیشنل) کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ یہاں انہوں نے آڈیوو ویڈیو شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے وہ تاریخی کام کیا جس کیچرچے دور دور تک سنے گئے۔ یہی وہ عرصہ ہو جس میں آپ نے آٹھ سے زآئدآڈیو کیسٹ "اب کشمیر کی باری ہے"دس ہزار کی تعداد میں مقبوضہ کشمیر بھجوایا گیا۔ یہی کیسٹ تھاجس نے کشمیر کے جلاد صفت گورنر جگ موہن کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا۔"سرحد پارسے ایسے کیسٹ بھجوائے گئے ہیں جن کو مردے بھی قبروں میں سن لیں تو اٹھ کر آزادی کے نعرے لگانا شروع کر دیں۔"

1990ء میں کے پی سے شعبہ آڈیو بوجوہ ختم کر دیا گیا تو سلیم نازپھر لاہور منتقل ہو گئے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل کراچی میں ان کے چھوٹے بھائی عابد پرویز قتل کر دیے گئے جس کی وجہ سے وہ شدید صدمے سے دو چار تھے۔انتہائی کسمپری کی حالت میں جب وہ لاہور جا رہے تھے تو میں نے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی، کہنے لگے"مجھے غم روزگار ہر گز نہیں، صرف ایک بات کا دکھ ہے کہ میرے لیے کشمیر کا کام سب کاموں پر مقدم ہے۔ اب اس جہاد میں حصہ کیسے لوں گا۔"صحت کی حالت بہت اچھی نہ تھی۔ پونچھ ہاوٗس راولپنڈی کی چوتھی منزل تک لفٹ کے ذریعے جاتے تھے لیکن جب لفٹ خراب ہوتی (جو کہ اکثر خراب رہتی) تو چوتھی منزل تک پہنچتے پہنچتے برا حال ہو جاتا۔

ایک مرتبہ ایک دوستکے اصرار پر انہیں آمادہ کر لیا کہ اپنا علاج کرائیں۔ ہم انہیں عسکری ادارہ قلب (AFIC)لے گئے،ڈاکٹر سے ہم نے تعارف کرایا تو اس نے انتہائی محبت کے ساتھ ان کو چیک کیا۔ مختلف ٹیسٹ کرائے۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں لکھ کر دیں اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ دل کے ایک والو میں سوراخ ہے۔ ابھی دوائیاں استعمال کریں جب کبھی ضرورت محسوس ہوئی تو متبادل علاج تجویز کریں گے اور ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ کم از کم چھہ ماہ بعد دوبارہ چیک کرانا ہو گا۔ پھر مدت گزر گئی۔ سلیم ناز نے کبھی بھول کر بھی ذکر نہ کیا۔ ایک روز میں ان کی ڈیجیٹل ڈائریکٹری سیکھ رہا تھا۔ اچانک اس کی سکرین پر ایک تحریر آگئی۔

"میں دل کا مریض ہوں،کسی وقت،کہیں بھی بے ہوش ہو سکتا ہوں، اگر آپ مجھے کہیں ایسی حالت میں دیکھیں منتظم صغیر قمر سے فون نمبر.........پر رابطہ کریں۔"

میں نے کہا۔"ناز صاحب! اس طرح کی وصیتیں لکھنے سے بہتر نہیں کہ علاج کرائیں "کہنے کو میں کہہ گیا تھا لیکن مجھے جواب بھی معلوم تھا۔ "بھائی! اتنے مہنگے علاج کون کرائے، کشمیر آزاد ہو گا تو پھر علاج کرائیں گے۔"

مالی لحاظ سے کبھی بھی اس پوزیشن میں نہ رہے کہ دال روٹی سے کچھ بچا لیں۔ ایک اہلیہ کراچی میں ایک راولپنڈی میں، دونوں کے لیے اخراجات کا اہتمام کرتے، کچھ بچا کر کراچی میں اپنی ماں کو بھیجتے۔ بظاہر ان کی حالت سے کبھی اس کا اندازہ لگانا نا ممکن تھا لیکن ان کی وفات کے بعد ان کی مفلسی اور کسمپرسی کا اندازہ کرنا ہر گز مشکل نہیں تھا۔ کشمیر کیمحاذ کا ایک بے نوا سفید پوش مجاہد جس نے کشمیر کی دیواروں کو اپنے انقلابی کلام اور خوش الحانی سیزبان عطا کر دی تھی،ذاتی زندگی میں اتنا بے کس ہو گا کبھی سوچا نہ تھا۔ محض ڈیڑھ مرلے کے ایک پلاٹ کے سوا ان کی وراثت کچھ نہیں تھی اس پلاٹ پر وہ آخری دنوں میں گھر تعمیر کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔۔۔کیا ڈیڑھ مرلہ اور کیا گھر؟آخری عرصے میں تقریبا"ڈیڑھ برس لاہور میں رہے، طرح طرح کے کام انہیں سوجھتے رہے۔ ہر بار مشورہ بھی کرتے، لاہور میں آئس کریم کی ایک چھوٹی سی مشین لگائی لیکن چلا نہ پائے، ایک عزیز کو کرائے ہر دے دی خود ایک پرانی سوزوکی پک اپ خرید لی اور لاہور شہر کے گلی کوچوں میں مختلف اداروں کی اشیاء سپلائی کرنے لگے۔ اس کام سے کچھ کما تو لیتے لیکن کشمیر کے حوالے سے پروگرامات اور ترانوں کی تیاری کے لیے نکل جاتے۔ کئی ہفتوں تک سوزوکیکھڑی رہتی بالاخر یہ کام بھی ٹھپ ہو گیا۔ یہ حالات نہ قابل برداشت تھے۔

کشمیر کی تحریک کے رہنما بھی ان کی ابلاغ کے محاذ پر کمی محسوس کرتے تھے۔ آخر کارکچھ احباب کی ذاتی دلچسپی سے وہ ایک مرتبہ پھر کشمیر کے صوتی محاذ سے وابستہ ہو گئے۔ اس مرتبہ ان کی مالی مشکلات کا حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی اور الحمدللہ وہ اس قابل ہو گئے کہ یکسو ہو کر اس محاذ پر کام کر سکیں۔ تین ماہ کے قلیل عرصہ میں آپ نے سینکڑوں ترانے، درجنوں ڈرامے اور خاکے تیار کر کے ہوا کے دوش پر وفا شعاروں کے مورچوں تک پہنچائے۔ اب ایک مرتبہ پھر روزانہ ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ہمارے ادارے کے لیے ان کا ایک نیا کیسٹ "نوجوان چل"تیاری کے آخری مراحل میں تھا۔ حضرت بلال ؓ کی ایک تصوراتی خود نوشت کا پہلا باب بھی ریکاڈ کرچکے تھے لیکن اس کتاب کا پیرا یہ ایسا ہے کہ وہ ریکارڈنگ شروع ہونے کے چند منٹ بعد رونا شروع کر دیتے، یوں بہت محنت کے بعد بھی صرف ایک باب ہی ریکارڈ ہو سکا۔

ایک شام سلیم ناز صاحب کو نزلہ زکام کی وجہ سے بخار ہو گیا ہے۔ اگلی شام دوسری خبر ملی ناز صاحب کو ٹائیفیڈ ہو گیا اور وہ CDA ہسپتال اسلام آباد میں داخل ہیں۔ میں اگلے روز ہسپتال پہنچ گیا اس وقت وہ شدید بخار کی کیفیت میں تھے دیکھتے ہی بے چیں ہو گئے، مجھ سے ہی پوچھنے لگے۔کدھر ہیں قمر بھائی کیوں نہیں آئے؟"

میں نے قریب ہو کر انہیں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو بے اختیار مجھے گلے لگا کر ماتھا چوم لیا۔ پھرآنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری ہو گئی اور ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے۔"اے اللہ! کشمیر کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کر دے۔""اے اللہ!ہماری نیتیں خالص اور عمل کھرے کر دے۔" "اے اللہ!میر ی بیماری اور مشکلات کے بدلے میں کشمیر کے مسلمانوں کو سہولت نصیب فرمادے۔" اے اللہ!جو لوگ تیرے دین کی سربلندی کے لیے اس ملک میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ان کی مشکلیں آسان فرما دے۔" اے اللہ! ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے اور اگر یہ ہدایت کے قابل نہیں تو ان سے اختیارات چھین لے،ان سے عوام کو نجات دلا... "اے اللہ!کشمیرکے شہیدوں کے صدقے، آزادی کی نعمت عطا کر".دعا کے بعد کئی لمحے تک سکوت طاری رہا۔ ہر دیکھنے والا مشورہ دیتا کہ آرام کریں، اچانک کہنے لگے۔"قمر بھائی!میں نے زندگی کا آخری ترانہ لکھ دیا،ایسا لکھا کہ کبھی لکھا نہ گیا تھا۔" "آخری“پر سب نے اعتراض کیا "آپ ٹھیک ہوں گے تو اور کئی ترانے لکھیں گے۔"

"نہیں بھائی!اتنا اچھا ترانہ، مجھ سے کبھی لکھا نہیں گیا، میری خواہش تھی کہ آخری ترانہ ایسا ہی خوب صورت ہونا چاہیے اور پھر ترنم سے پڑھنے لگے۔

جبیں سے نور برساتی چلی آتی ہے آزادی

مچلتی جھومتی گاتی چلی آتی ہے آزادی

یہی ان سے آخری بات اور یہی ان کا آخری ترانہ تھا۔۳ اکتوبر کی صبح ان کے دل کے ٹیسٹ لیے گئے تو تشویش ناک حد تک دل کا والو رس رہا تھا۔فوری طور پر ایمبولینس پر AFICمنتقل کیے گئے۔گیارہ بارہ منٹ کے اس تیز رفتار سفر کے دوران انہیں آکسیجن لگا دی گئی تھی۔اسی سفر کے دوران وہ بے ہوش ہو گئے۔عسکری ادراہء قلب میں منتقلی کے بعد ہوش میں نہ آئے دایاں ہاتھ اور ٹانگ مسلسل ہلانے لگے، داہاں ہاتھ بھی سر پر مارتے تھے ڈاکٹروں نے بتایا کہ بائیں جانب فالج کا شدید حملہ ہے اور انتہائی خطرے کی صورت حال ہے۔۴ اکتوبر کی صبح ابھی طلوع ہو رہی تھی اور میں سی سی یو وارڈ میں پہنچ چکا تھا۔مجھے دیکھتے ہی ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے کہا۔"آپ کے مریض کی حالت اچھی نہیں آپ اگلے انتظامات کریں۔"

"اگلے انتظامات"میں نے حیرت سے اسے دیکھا اس نے مجھے یوں گھورا جیسے وہ کہہ رہا ہو "کیا میں کل سے مذاق کر رہا ہوں۔" دس بج کر تیس منٹ پر میں نے ناز صاحب کو آخری نظر دیکھا ان کی سانس اکھڑ چکی تھی، لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔میں بوجھل قدموں دفتر پہنچا،چند منٹ ہی گزرے تھے کہ وہ اطلاع پہنچ گئی جسے سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہ تھا۔

سلیم ناز اب اس دنیا میں نہیں تھے۔جیسے کسی نے انہیں خبر کر دی تھی، ایسی تیاری کے ساتھ وہ اللہ کے پاس گئے کہ مجھے بے اختیاری انہی کے شعر یاد آگئے میرے خدا زمیں پہ جا بجا میرا ہی خون ہے

مگر مجھے نہ خوف و ڈر نہ غم نہ کچھ جنون ہے

مجھے تو اپنی قبر میں سکون ہی سکون ہے

میری لحد میں خود و رنگ و نور کی بارات ہے۔۔۔!!

کشمیر کی قیادت نے انہیں شاعر حریت کا خطاب دیا تھا،اس شاعر حریت نے وصیت کی تھی کہاگر کشمیر کی آزادی سے قبل اس کی وفات ہو جائے تو اسے امانیت کے طور پر پاکستان میں دفن کیا جائیاور جب کشمیر آزاد ہو جائے تو اسے سری نگر کے مزار شہیداں میں منتقل کر دیا جائے۔کشمیر کا یہ عاشق زار،شاعر حریت راولپنڈی کے ڈھوک کالاخان قبرستان میں محو استراحت ہے۔