ریاست کے آزاد اور مقبوضہ حصوں کے انتظامی ڈھانچے

ہندوستان کے قانون کے تحت ریاست پر اختیار

ہندوستان نے اپنے آئین کی دفعہ ایک کے شیڈول نمبر 1 کے تحت ”ہندوستان کے زیر قبضہ ریاست“ کو ہندوستانی سر زمین قرار دیکر اپنا صوبہ بنایا ہے جس سے واضح طور ریاست کے آزاد حصے ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر کی تعریف میں نہیں آتے ان علاقوں کو پارلیمنٹ آف انڈیا کے الیکشنز کے حوالہ سے بھی آئین کی دفعہ 81کی رو سے نکالا گیا ہے - مقبوضہ ریاست کا ہندوستانی آئین کے ساتھ تعلق آئین کی دفعہ 370 کے ذریعہ ہے اور ہندوستانی آئین کے جو حصے مقبوضہ ریاست میں نافذ کرنے مطلوب ہوتے ہیں وہ اسی دفعہ کے تحت ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ نافذ کیئے جاتے ہیں ان کے لیئے ہندوستان کے آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی- نہ صرف یہ بلکہ متعلقہ دفعات کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعہ ہی ضروری ترامیم کے ذریعہ نافذ کیا جا سکتا ہے تاہم دفعہ 370 کی روح کے مطابق ہندوستانی آئین کے صرف وہی حصے ریاست میں ایکسٹنڈ کیئے جا سکتے ہیں جو دستاویز الحاق ریاست سے مطابقت رکھتے ہوں - اسی طرح ان تمام امور پر قانون سازی کا اختیار بھی پارلیمنٹ آف انڈیا کو حاصل ہے جو دستاویز الحاق ریاست سے مطابقت رکھتے ہوں - اسی کی آڑ میں وہ تمام قوانین بنائے گئے ہیں جن کے تحت تحریک آزادی کو کچلنے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہندوستان کے آیئن کی کشمیر پر دفعات

ہندوستان کے آئین کے صرف مرکز سے تعلق رکھنے والی دفعات کا اطلاق کشمیر پر کیا گیا ہے جبکہ ریاست کے اندرونی معاملات ریاست کے اپنے آئین کے تحت چلائے جاتے ہیں جس کا نفاذ 1957 میں کیا گیا ہے - اس سے قبل ریاست میں 1939 کا آئین ترامیم کے ساتھ نافذ تھا - ہندوستان کی باقی ریاستوں کے معاملات ہندوستانی آئین کے حصہ VI کے تحت دیئے گے طریقہ کار کے مطابق چلائے جاتے ہیں جبکہ اس حصہ میں شامل دفعہ152 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستانی ریاستوں کی تعریف میں شامل نہیں کیا گیا ہے - ہندوستان میں ریاستوں کے حوالہ سے پارلیمنٹ کو دفعہ 3 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عام قانون کے تحت کسی بھی ریاست کو تقسیم کر کے الگ ریاست قائم کر سکتی ہے یا ان ریاستوں کو تقسیم کر کے نئی ریاست یا الگ الگ ریاستوں کا آپس میں ادغام بھی کیا جا سکتا ہے یا ریاستوں کے حدود گھٹائے بڑھائے جا سکتے ہیں جبکہ ریاست جموں و کشمیر کی حد تک ہندوستان کے آئین کی اس دفعہ کو اس ترمیم کے ساتھ ریاست پر ایکسٹنڈ کیا گیا ہے کہ ریاست کے حدود میں ریاستی اسمبلی کی رضامندی کے بغیر پارلیمنٹ میں کوئی بل پیش بھی نہیں کیا جا سکتا- اس تناظر میں ہندوستانی آئین کے تحت بھی مقبوضہ ریاست اس طرح کا ہندوستانی حصہ نہیں ہے جیسا کہ باقی ریاستوں کو سمجھا جاتا ہے جو اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ ریاست کا مقبوضہ حصہ مسلمہ طور متنازعہ ہے- مجھے ان کشمیری لیڈروں کی اس منطق کی سمجھ نہیں آتی ہے کہ ہندوستان پہلے ریاست کو متنازعہ تسلیم کرے پھر بات ہو سکتی ہے جبکہ ہندوستان کا آئین ہی اس کو متنازعہ کہتا اور سمجھتا ہے تو اس کے اٹوٹ انگ کے زبانی دعوے چہ معنی دا رد ان کا یہ دعوی اپنے آئین کے ہی خلاف ہے اور اس کو یو این سلامتی کونسل نے بھی رد کر دیا ہے -

پارلیمنٹ کے لیئے ممبران کا انتخاب

ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں 1950 سے 1967 تک بالواسطہ اور اس کے بعد براہ راست پارلیمنٹ کے لیئے ممبران کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ گورنر اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری صدر ہندوستان کشمیر کے آئین کے تحت ہی کرتے ہیں اور کشمیر کے ہائی کورٹ کو یہ بیک وقت ریاستی اور ہندوستانی آئین کے تحت writ کے اختیارات حاصل ہیں - اسی طرح مرکزی اور ریاستی حکومت کشمیر ہائی کورٹ کے سامنے ہندوستان اور کشمیر کے آئین کے تحت بیک وقت جواب دہ ہونے کے علاوہ سپریم کورٹ انڈیا کے پاس بھی جواب دہ ہیں ۔

آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں مربوط آئین نہیں

ریاست کے آزاد حصوں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کے برعکس کوئی مربوط آئین نہیں ہے - گلگت بلتستان میں تو کافی عرصہ تک فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز نافذ رہے جس کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر اور وقتاً فوقتاً منسٹری کشمیر افیئرز مرکز یا صوبوں میں نافذ قوانین کو ایکسٹنڈ کرتی رہی وہاں کے لوگوں کی انتھک کاوش اور جدوجہد کے بعد اب وہا ں آزاد کشمیر کی طرز کا آئینی ڈھانچہ بنایا گیا ہے جو آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 کے طرز پر ہی نہیں بلکہ اس کی تصویر کا دوسرا رخ ہے جس کو گلگت بلتستان گورننس آرڈر کا نام دیا گیا ہے - اس طرح ریاست کے ان دونوں حصوں میں ایک جیسا سسٹم نافذ کر کے ریاست کے ان حصوں کو مربوط کیا گیا ہے تاہم فرق یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیر اعظم کے برعکس گلگت بلتستان میں گورنر اور وزیر اعلی کے نام coin کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ علاقے پاکستا ن کا صوبے ہیں حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہے محض اشک شوئی ہے- کوئی بھی علاقہ پاکستان کے آئین کی دفعہ نمبر 1 کے تحت صوبے کے طور درج کرنے کے بغیر صوبہ نہیں بنایا جا سکتا جس کے اس کے علاوہ بھی اور کئی تقاضے ہیں جن میں اہم ترین نیشنل اسمبلی اور سینٹ میں نمائیندگی ہے- تاہم ریاست کے ان ہر دو حصوں کو سسٹم کے لحاظ سے ایک گرڈ پر لا کر الگ الگ یونٹس کے طور چلانے کا عزم کیا گیا ہے جو خوش آئیند ہے اور کئی کشمیری لیڈروں کے اس تاثر کی بھی نفی ہے کہ ان علاقوں کو الگ کر کے پاکستان میں ضم کیا گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کے مترادف ہے -

آزاد کشمیر کا حکومتی ڈھانچہ

آزاد کشمیر کا حکومتی ڈھانچہ کراچی ایگریمنٹ سے ترقی کرتا کرتا 1970 اور پھر 1974 کے ایکٹ کے تحت چلایا جا رہا ہے - 1970 کے ایکٹ کے تحت آزاد کشمیر کو سلامتی کونسل کی قرارداوں کے مطابق مکمل اندرونی خود مختاری حاصل تھی جبکہ 1974 کا ایکٹ تضادات کا مجموعہ اور اس میں اختیارات کا ارتکاز مرکز کی طرف ہے - نافذ العمل آئین کے تحت ماسوائے ان امور کے جو آئین کے جدول iii میں درج ہیں - بقیہ امور کی نسبت قانون سازی کا اختیار آزاد کشمیر کی اسمبلی اور ان امور کی نسبت ایگزیکٹو اتھارٹی بھی آزاد کشمیر حکومت کو حاصل ہے جبکہ جدول نمبر 3 میں درج جملہ امور کے بارے میں قانون سازی اور انتظامی اختیارات آزاد جمو ں و کشمیر کونسل کو حاصل ہیں جن کی نسبت ایگزیکٹو اتھارٹی پرائم منسٹر پاکستان کو چیئرمین آزاد کشمیر/ گلگت بلتستان کونسل کے نام سے حاصل ہے - قانون سازی کے لیئے آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان اسمبلی اپنی اپنی کونسل کے لیئے چھ نمائیندوں کا انتخاب کرتی ہیں جن کے علاوہ پرائم منسٹر پاکستان جو بلحاظ عہدہ کونسل کے چیئرمین ہیں پارلیمنٹ پاکستان کے پانچ ممبران کوشامل کرتے ہیں - ابھی تک گلگت بلتستان کی کونسل کا کوئی وجود نہیں جبکہ آزاد کشمیر کونسل جس کا اجلاس سال میں ذیادہ سے زیادہ دو بار وہ بھی چند گھنٹوں کے لیئے ہوتا ہے جس میں بغیر بحث و تمحیث آنکھ جھپکنے میں قانون سازی کی جاتی ہے- گلگت بلتستان کے گورننس آرڈر کے تحت کونسل اور اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات متعلقہ شیڈول میں درج ہیں اور جن امور پر ان اداروں کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ان کی ایگزیکٹو اتھارٹی بھی ان ہی کے پاس ہے - البتہ جو معاملات ان شیڈولز میں درج نہیں ہیں ان کے اختیارات حکومت پاکستان کو حاصل ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے آئین کے تحت جو امور کونسل کی قانون سازی کی لسٹ میں شامل نہیں ہیں وہ آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت کے دائرہ اختیار میں ہیں لیکن آئین کی دفعہ 31(3) اور 56 کے تحت حکومت پاکستان کو آزاد کشمیر اسمبلی اور کونسل پر بالا دستی حاصل ہے -

آزاد اور مقبوضہ حصے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت متنازعہ

ریاست کے آزاد اور مقبوضہ حصے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت متنازعہ ہیں اور ان کا فیصلہ یہاں کے لوگوں کی آزاددانہ رائے سے ہی ہونا ہے - سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ریاست کے مہاراجہ کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ کیئے گئے مبینہ الحاق نامہ پر مبنی الحاق کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس کا یہ الفاظ دیگر مطلب ہے کہ سلامتی کونسل نے ریاست کا ہندوستان کے ساتھ الحاق تسلیم نہیں کیا ہے البتہ جس حصے پر اس کا قبضہ ہے اس کو ٹروس ایگریمنٹ کے مطابق رائے شماری ہونے تک تسلیم کیا گیا ہے اس طرح پاکستان کے زیر انتظام ریاست کے آزاد حصوں پر بھی پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر ہی 1949 کے سیز فائیر ایگریمنٹ کے تحت حد بندی کی گئی ہے جس کو شملہ معاہدہ کے تحت لائین آف کنٹرول کا نام دیاگیا ہے جس کا تحفظ اس معاہدہ کے تحت ہر دو ممالک پر لازمی ہے -

ہندوستان کے اقدامات سے ریاست کی متنازعہ حیثیت قطعاً متاثر نہیں ہوتی

سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود ہندوستان نے اپنے آئین کے تحت 1950 میں ریاست کے مقبوضہ حصے کو اپنی ریاستوں میں شامل کر کے 1954 کے آئینی آرڈر کے تحت مرکز سے متعلقہ دفعات کو کشمیر پر ایکسٹنڈ کر دیا ہے - سلامتی کونسل نے تو مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی جانب سے 1957 میں پاس کیئے گئے آئین کو بھی 1957 کی قرار داد کے تحت مسترد کر دیا ہے جس کی تحت ریاست کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ قرار دیا گیا ہے - یہ سارے معاملات اس وقت تک U.N. میں زیر تصفیہ ہیں لیکن ہندوستان نے اس کے باوجود ریاست کو قومی دھارے میں شامل کیا ہے مگر اس سے ریاست کی متنازعہ حیثیت قطعاً متاثر نہیں ہوتی کیونکہ سلامتی کونسل اور کشمیری عوام نے اس کو نہیں مانا تاہم یہ ڈیفکیسٹو پوزیشن ضرور ہے- سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ریاست کے آزاد حصوں کی حیثیت بھی ویسی ہی ہے جیسا کہ مقبوضہ حصے کی - فرق یہ ہے کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو تسلیم کر کے ریاست کے ان حصوں کو نہ تو اپنا صوبہ بنایا ہے اور نہ ہی کسی صوبے کا حصہ لیکن ان حصوں کی بین الاقوامی‘ قانونی اور آئینی حیثیت یہ ہے کہ یہ پاکستان کا حصہ ہیں اور اس وقت تک پاکستان کا حصہ رہیں گے جب تک پوری ریاست کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعہ نہیں ہو جاتا- مملکت پاکستان کے حصے کے طور ان علاقوں کے لوگوں کے انسانی اور شہری حقوق متنازعہ نہیں صرف علاقے متنازعہ ہیں لہذا پاکستانی شہریوں اور دیگر انتظامی یونٹس کی طرح ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کر کے حق خودارادیت کے مطالبہ کو تقویت ملے گی جو بنیادی اور انسانی حقوق کا حصہ ہے - اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر یہ ہندوستانی پروپگنڈہ بے اثر ہو جائے گا کہ ان علاقوں کو پاکستان کے اندر بنیادی حقوق حاصل نہیں -

آزاد حصے قومی دھارے سے الگ کیوں؟

اس حقیقت میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ان علاقوں کا نظم و نسق حکومت پاکستان کے کنٹرول کے تحت چل رہا ہے - یہاں پر جو بھی حکومتی سیٹ اپ بنایا جاتا ہے وہ پاکستان کی طرف سے دیئے گئے یا منظور شدہ قانون اور اس کے بعد اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے زیر نگرانی ہی کام ہوتا ہے - حکومت پاکستان کی بنائی گئی سیاسی اور انتظامی پالیسی کے تحت ان علاقوں کو پاکستان کے دیگر انتظامی یونٹوں کی طرح ہی چلایا جاتا ہے لیکن اس میں ان علاقوں کی کوئی نمائیندگی نہیں ہے جو پالیسی سازی میں بطور آئینی اور قانونی فریق کے طور شامل ہو- جب یہ علاقے پاکستان کا حصہ ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا تو ان کو قومی دھارے سے الگ کیوں رکھا جا رہا ہے؟ جبکہ یہاں ملک گیر سیاسی جماعتیں بلاواسطہ اور بالواسطہ اوپریٹ کر رہی ہیں - مملکت پاکستان کا وزیر اعظم ان علاقوں کا چیف ایگزیکٹو ہے اور وہ تمام امور بطور چیئرمین بلا شرکت غیرے سرانجام دے رہا ہے جو بحثیت وزیر اعظم پاکستان ملک کے باقی حصوں کے لیئے دے رہا ہے- ان علاقوں کے آئینی وستاویز کے تحت نہ نیشنل اسمبلی کے ان پانچ ممبران نے حلف لیا ہے جو ان علاقوں کی کونسل کے ممبر نامزد کیئے جاتے ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم پاکستان نے حلف لیا ہے اس لیئے ان علاقوں کی نسبت اختیارات کے استعمال میں نہ تو وزیر اعظم پاکستان ان علاقوں کی اسمبلی یا پارلیمنٹ آف پاکستان اور نہ ہی سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس جواب دہ ہے - یہ ایسے معاملات ہیں جن کا حقیقت پسندی‘ سنجیدگی اور زمینی حقائق کی روشنی میں ادراک کر کے سٹریم لائن کرنے کی ضرورت ہے ۔