پونچھ میں ادب کا احیاء

پونچھ آسمان ادب کے روشن ستاروں چراغ حسن حسرت ، پریم چند اور منشی محمد دین فوق کا حوالہ ہے - پریم چند کے سینکڑوں افسانے پونچھ اورکشمیر کے فطری مناظر اور سماجی صورت حال کے عکاس ہیں -تقسیم ہند کے بعد پنجاب ،بنگال اور سندھ کی طرح پونچھ کے سینے پر تقسیم کی لکیر کھنچ گئی جس کے نتیجے میں پریم چند “ان “ کے ہوگئے اور “ چراغ حسن حسرت “ نے لاہور کو مسکن بنا لیا - بعد آزاں ان کے بیٹے ظہیر جاوید نے ادبی اور صحافتی ورثے کو سنبھالے رکھا- پونچھ کی آزاد سرزمین میں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی نے اقبال کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ کرکے اردو ادب پرایک احسان عظیم کیا ہے -

پروفیسر شیخ محمود احمد نے اسلام اور اقتصادیات کے تقابلی جائزے کے موضوع پر ۱۹۵۳ میں جو ایک شاہکار انگریزی تصنیف لکھی وہ آج بھی اکنامکس کی ایک ریفرینس کتاب ہے -جب یہ نابغہ روزگار ہستیاں اپنی ادبی تخلیقات کا ورثہ چھوڑ کر دار بقا کو سدھار گئیں تو آزاد پونچھ کی دھرتی واقعی بنجر ھوگئی -بشیر حسین جعفری اس خطے میں اردو ادب کا آخری چراغ تھے -ایسے میں میرے اساتذہ کرام پروفیسر سید حسین خاموش اور پروفیسر مقصود حسین راہی جیسی گنی چنی ہستیاں تھیں جنھوں نے اردو ادب کے قومی منظر نامے پر خطہ پونچھ کے نام کو زندہ رکھا -وہ قومی روزناموں کے ادبی ایڈیشنوں میں برابر چھپتے رہے - پروفیسر سید حسین شاعری کی دنیا میں پہلے مضطر رہے ، پھر کچھ اس طرح خاموش ہوۓ کہ ابدی خامشی کی چادر اوڑھ لی-

پیر پنجال کے اس پار پریم چند کی ادبی روایت کو اردومیں بڑی آن بان کے ساتھ بڑھایا گیا -ڈاکٹر لیاقت جعفری پونچھ کےوہ قابل فخر سپوت ہیں جن کے منفرد لہجے کا چرچا ہندوستان سے لے کر ساری دنیا کے اردو شناسوں میں ہوتا ہے-مقبوضہ پونچھ مادری زبانوں گوجری اور پہاڑی کے لئے بھی خاصی زرخیز ثابت ہوئی ہے جہاں مقامی زبانوں میں قابل رشک کام ہواہے-

تقریباً دو دہائیاں قبل آزاد پونچھ کے قلب راولاکوٹ سے جب دھرتی کے نام سے ایک جریدہ نکلا تو اس پر ادبی سےزیادہ سیاسی چھاپ تھی اس لئے کہ اس وقت زمانے کا یہی چلن تھا -دس سال قبل جب دھرتی نے جریدے کا پیرہن اتار کر روزنامہ کا روپ دھارا تو گویا کھردرے مزاجوں کی سرزمین پر ادب کی بازیافت ہوئی ۔ اس خطے کی ادبی دنیا کی کیا سیاہ بختی تھی کہ محمد کبیر خان نے ادب کا بیج تو وادی پرل میں بویالیکن اس کا پودا پردیس میں جا کر ہمہ یاراں دشت اورمرحب قاسمی کی صورت میں برگ وبارلایا -کبیر خان کی تصانیف میں کشمیر کا تاریک جغرافیہ، چاندچہرے ، پہاڑ لوگ، منہ شگافیاں ، تیرے رستے میں روشنی ہو، باپ بیٹی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ دھرتی کا اعجاز ہے کہ محمدکبیر خان دوبارہ منصہ شہود پر آۓ-ڈاکٹر صغیر خان کی کتابوں کے چرچے تو تھے ہی انھوں نے اپنے منفرد انداز کےذریعے ادبی کالموں کی دم توڑتی روایت کو حیات نو بخشی -

ہمارے شفیق استاد ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے فکر اقبال کی آبیاری میں ننئ راہیں تلاش کیں -تعلیمی اورادبی جریدے ارقم نے اپنی جدت اور ندرت کے ذریعےملک کے موقر ادبی حلقوں سے داد سمیٹی - راولاکوٹ کی بیٹی رابعہ رزاق نے ڈرامہ نگاری میں قدم رکھتے ہی قبول عام کا سفر طے کرلیا جس کی ایک جھلک ڈرامہ سیریل ’’ہارا دل‘‘ میں نظر آئی- نثر نگار قمر رحیم اور ڈاکٹر ممتاز صادق نے اپنے اپنے انداز میں مقامی ثقافت اورکرداروں کی دل نشین صورت گری کر کے قارئین کے دل میں گھر کر لیا - ممتاز غزنی نے ماضی کی معدوم ہوتی روایات اور ثقافت کو لفظوں کے موتیوں کی صورت محفوظ کیا- سفر نامے میں جاوید خان کی تحریروں نے چونکا دیا کہ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی ۔ ,اورنگ زیب یوسف نے اسلام اورعصر حاضر کے مباجث کو اپنی تصنیف میں نئے اندازمیں سمویا ہے -حبیب حسین شاہ بحالی جمہوریت کی تحریکو ں کے سر بستہ رازو ں کے امین ہیں جو مکمل کتاب کے متقاضی ہیں- خود نوشت سوانح نگاروںمیں جہاں داد خان ,سردار ایوب خان ،انور عباسی.اور پروفیسر یعقوب شائق نے حصہ ڈالا ، نقی اشرف تقسیم کے وقتکے دل خراش واقعات کا دوسرا چہرہ سامنے لائے -امریکہ میں مقیم عزالہ حبیب نے ہجرت در ہجرت کےساتھ ساتھ کالم نگاری سے شاعری تک کا سفر طے کیا –سلیم گردیزی نے علاقائی سیاست کے ساتھ ساتھ انگریزی سفر نامے کو اردو کے قالب میں ڈھا ل کر اردو قاری کو انگریزی ادب کی لذتوں سے آشنا کرایا - نوجوان محقق جاوید حیات نے سائنسی اور اکیڈیمک تحقیق کو انگریزی کتاب میں سمودیاجبکہ پروفیسر خالد اکبر اور پروفیسر ذوالفقار نے سنجیدہ مسائل کے تجزیے اور تفہیم کو نئے اسلوب سے آشنا کیا-شاعری میں حمید کامران، شہزاد شائق ، لیاقت لیئق ، نادرہ آرزو ، بشیر صدیقی ،شکیلہ تبسم ، ،فاروق حسین صابر, پروفیسرشفیق راجہ.پروفیسر عبدالحق مراد.دلشاد اریب.شہباز گردیزی.عبدالرزاق بیکل.تقویم طائر.سید جعفر حسین گیلانی اخضر,لیاق تشعلان ،اسرار ایوب وغیرہ جیسے شعرا کی نئی کھیپ کی اٹھان ادبی مراکزسے دور آباد خطہ پونچھ میں شعر وادب کے ایک روشن مستقبل کا پتہ دیتی ہے -ادب کے شید ائی کاروان ادب کے ان مسافروں کی مزید تخلیقات کے منتظر ہیں-

پھول کا قافلہ نہیں رکتا

جشن باد صبا نہیں رکتا

جب سوکھ جاتے ہیں

اور آتے ہیں اور آتے ہیں