محبت کی وادی میں ارمانوں کا خون

مون سون کے بادل گر ج کے آتے ہیں تو چیل کے درختوں کے اس پار پہاڑوں پر بھگولے اڑنے لگتے ہیں۔ ایسے میں دل بے قرار ہو جاتا ہے اور اپنی وادی یاد آتی ہے جہاں آج تاحد نطر سبزہ پھیلا ہے۔ایٹمی کہوٹہ کے اس پار سر سبزو شاداب پہاڑوں کے بیچوں بیچ ایک سڑک بل کھاتی مسجدوں کے شہر کوٹلی میں داخل ہوتی ہے۔ دریائے جہلم کو عبور کرتے ہی سکڑے منظر نظروں کے سامنے پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں جیسے بند کلی کھلنا شروع ہو تی ہے اور آہستہ آہستہ پھول بن جاتی ہے۔ نظروں کے سامنے ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت منظر ابھرتا ہے۔ چھوٹے بڑے ٹیلوں پر نرم و نازک گھاس کی ہریالی ‘ بلند و بالا چوٹیوں پر دراز قامت چیڑھ کے درخت ‘ بلندیوں سے پستیوں کو اترتی ڈھلانوں پر جنگلی زیتون ‘ خوبانی ‘ انجیر‘ توت ‘ ناشپاتی ‘لوکاٹ اور کہیں کہیں سیب کے درخت دور دور تک پھیلی آبادی اور آبادی کے خوب صورت طرز تعمیر سے آراستہ عمارتیں جو یہاں کے مکینوں کی آسودگی کا کھلا اشتہار ہیں۔ ادھر آبادی نظر آتی ادھر اس کے دامن میں ایک چھوٹی سی خوب صورت مسجد کے گنبد و مینار اﷲ کی کبریائی بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ کوٹلی شہر سے کوئی تیس کلومیٹر ادھر یہ وادی سکڑنا اور مسجدیں بڑی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔کوٹلی شہر سے تین کلومیٹرادھر ایک چھوٹی سی سڑک بل کھاتی دائیں طرف مڑ جاتی ہے اور آپ کی گاڑی وادی بناہ کی طرف رواں دواں ہے۔ یہاں سے روانگی کے ساتھ ہی مسافر محسوس کرتا ہے کہ وہ پھر تنگی سے فراخی کی طرف گامزن ہے۔ ارد گرد کی پہاڑیاں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں ‘ چیڑھ کے درخت دور دور ہونے لگتے ہیں۔ مناظر بدلتے چلے جاتے ہیں۔ سبزہ دور تک پھیلتا چلا جاتا ہے اور نگاہوں کے سامنے یک دم دوسری فلم چلنے لگتی ہے۔

وادی بناہ آپ کے سامنے ہے۔آزاد کشمیر کی سب سے بڑی وادی جہاں زندگی گلاب کے پھولوں کی طرح کھلتی ہے ‘ جس کے دامن میں ہر یالی ہے جمال و بہار ہے ‘ جس کے کھیتوں سے سونا اگلتا‘جس کے چشمے امرت پانی ابلتے ہیں ‘ جس کے باسی محبت و انس کے پیکر ہیں ‘ جہاں کی صبحیں ‘رعنائیاں بکھیرتی اور شامیں حسن کا پیکر بن کر پہاڑوں پر جلوہ گر ہوتی ہیں ‘ جہاں کے لوگ اپنی قوت و شجاعت کی مثال ہیں۔ گھبرو جوان جو کبھی دیہی میلے میں کبڈی اور کشتی کے لیے میدان میں اتر آئیں تواپنی بہادری کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ جہاں کے بوڑھے الجھی گھتیاں سلجھانے کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ جہاں کی خواتین وفا شعاری کی مثال ہیں لیکن اس وادی دل ربا میں کبھی کبھی موت کا سناٹا بھی اتر آتا ہے۔

جب سوچتا ہوں کہ اس وادی کا آدھا حصہ بھارتی تسلط سے آزادی کےلئے بے تاب ہے۔ اس سوچ کے ساتھ ایسی دھوپ اترنے لگتی ہے کہ پھول مرجھانے لگتے ہیں ‘ ابلتے چشموں کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں۔ امر ت پانیوں میں زہراترجاتا ہے ‘ کھیتوں میں بھوک اگلنے لگتی ہے۔ ہریالی نوکیلے کانٹوں کا روپ دھار لیتی ہے۔حسن و رعنائی کے چہرے پر کالک جم جاتی ہے۔ گھبرو جوان جانے کہاں چلے جاتے ہیں ‘ جہاں دیدہ ہستیاں ‘مصلحتوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔پھر یہاں کے منظر بھی بدلنے لگتے ہیں اور وادی بناہ کے دامن میں کڑوے ذائقے اتر آتے ہیں۔ جب رام گڑھ کی بلندیوں سے پیر بڈیسر کی چوٹی چنگس کے دامن سے بھارتی نفرت کے دھانے کھول دیتے …. تب اس وادی محبت سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی۔جب کشمیر کے کہساروں میں جواں لاشے گرتے ہیں تو یہاں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کسی کے دل میں ٹیس نہیں اٹھتی۔ وادی کے امجد اور عبدالماجد جیسے درجنوں اس وادی کے دوسرے حصے میں جان دے کر قربان ہو جاتے ہیں تب بھی زندگی کی روانی میں فرق نہیں آتا‘ جذبات میں تلاطم برپا نہیں ہوتا۔ تب مجھے بے اختیار وادی بناہ کے دراز قامت اور مدبر حاجی چوہدری محمد صادق یاد آتے ہیں۔

وہ اپنی زندگی کی ہر خواہش پر کشمیر کی آزادی کو ترجیح دیتے ہیں اور وادی بناہ کی بے حسی پر کڑھتے اور سیاسی نظام کی یرغمالی پر بے تاب ہو کر کہتے ہیں۔” اپنی تو زندگی کا مقصد ہی کشمیر کی آزادی ‘ اگر ایسا نہیں ہو تو اس زندگی کا کیا فائدہ ہے ؟“

اس وادی دلفریب کے تعلیم یافتہ جوان کڑھتے ہیں۔ مفادات اور قبیلوں کی سیاست کا رونا روتے ہیں ‘ سرکاری اداروں کی نا اہلی اور حکومتوں کی بے بسی کا ماتم کرتے ہیں۔ سیاست کاروں کی جہالت اور تنگ دلی کی بات کرتے ہیں۔ منتخب ایوانوں میں بیٹھنے والے مفادات کی جنگ میں یہاں کے جرات مند مکینوں کو چڑیوں کی طرح دانے پر گرنے کا خوگر بنانا چاہتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر بڑے بڑے ہنگامے کھڑے کرنے کے درپے سیاست کار اپنی بقا کی جنگ عوام کے خرچ پر لڑتے اور عوام کو لڑاتے ہیں۔ برادری اور قبیلے سے ماورا سوچنا اپنی سیاسی موت سمجھنے لگتے ہیں۔

ایسے میں جب کوئی بڑے پن کی بات نہ کرے تو پھر رام گڑھ کے اس پار سے توپوں کے دھانوں سے نکلنے والے گولوں کی فکر کیا کم نہیں ہو جاتی۔ دل تنگ ہو جائیں اورنظریں محدود ہو جائیں تو پھر افق تا افق پھیلی وادیاں یوں ہی سمٹنے لگتی ہیں۔پھر قبیلے برادری سے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔ رعنائیوں بھری اس وادی کے مکینوں کو اپنی بقاءکے لیے فیصلہ کرنا ہوگا۔ اپنی زندگی کا مقصد جانے کے لیے کوئی مسیحا تلاش کرنا ہوگا۔ وادی بناہ کے مکینوں کو ماجد اور امجد جیسے شہیدوں کا لہو بھلانا نہیں چاہیے۔ انہیں اپنی زندگی کے لیے جنگ کی تیاری ہر حال میں جاری رکھنی چاہیے۔ یہ محض گھاس کٹائی کی جنگ نہیں۔ سروں کی فصلیں کٹانے والے جاں نثاروں کو گھاس کٹانے اور مفادات کی آگ بڑھکانے سے کوئی تو روکے۔

اس وادی کے مکین جن کی آدھی نسل اور سارے ارمان پیر بڈیسر کے اس پار رہ گئے تھے جہاں برسوں کے بعد بھی گھر جلتے ‘ کھلیان اجڑتے اور انسان موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں۔ جہاں کی کوئی صبح پر بہار نہیں جہاں کی کوئی شام دلربا نہیں۔ جہاں کے مکینوں کی حسرت ناک نگاہیں مدت سے اس وادی کے آزاد انسانوں کو دیکھ رہی ہیں جو اپنی دنیا میں گم ہو چکے ہیں۔ اس وادی کے سیاست کار جن کو قبیلے برادری اور مفاد پرستی سے آگے کی کوئی منزل نظر نہیں آتی۔ جن کی ساری تگ و تاز مظفر آباد کے عارضی ایوان اقتدار تک ہے۔ اس وسیع وادی کے مکین تو اتنے تنگ نظر کبھی نہ تھے کہ اتنے حقیر مقاصد کے لیے اپنی صلاحیتیں ضائع کرتے رہیں۔

کاش! اس کے مکینوں کو کوئی آئینہ دکھا سکتا تو وہ اپنی حقیقت پہچان سکتے۔

برسات کا موسم آتا ہے ‘ بادل جھوم جھوم کے آتے ہیں تو چیل کے درختوں کے اس پار بادل بھگولے بن کر اڑنے لگتے ہیں۔ا یسے میں خونی لکیر کے اس پار بسنے والے یاد آتے ہیں۔ جو وادی بناہ میں بسنے والے اپنے عزیزوں کو حسرت سے دیکھ رہے ہیںاور وادی بناہ کے مکین حسرت سے ریاست ان قائدین کی راہیں دیکھ رہے ہیں،جن کے لمبے لمبے دعوے بڑے بڑے وعدے،جن کی جان پرسوز تقریریں،لچھے دار گفتگو اور برسوں کی بے حسی اس غلامی کا اصل سبب ہے۔برس ہا برس بیت گئے،ان وادیوں میں وہ سورج طلوع نہیں ہوتا جس کی روشنی ان بند کلیوں کو پھول بنا دے جو پھوٹتی تو ہیں لیکن پھول بننے سے پہلے مرجھا جاتی ہیں۔

( صغیر قمر امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)