کشمیریوں کے ہمدرد ، یہ کون لوگ ہیں؟

یوں تو میں نے کبھی بھی ان موضوعات پر قلم نہیں اٹھایا کیونکہ یہ میری دلچسپی کا ایریا نہیں ہے لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے میں نے بہت باریکی سے اس چیز کا جائزہ لیا ہے کہ کچھ انجانے سے لوگ راولاکوٹ کمیونیٹیز کے پیجز پر بڑے خوشنما الفاظ استعمال کرکے، بہت ہی مہارت سے خبروں اور واقعات کو اپنے سانچے میں ڈھال کراور بظاہر کشمیریوں کے بہت بڑے ہمدرد بن کر ہماری نوجوان نسل کی بہت خطرنا ک برین واشنگ کر رہے ہیں اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔

قتل و غارت گری اور ظلم بھارتی افواج کرتی ہیں اور ان میں سے ہر واقعہ کا نزلہ یہ شاطر گروہ بالآخر پاکستان اور پاکستانی اداروں پر گرا دیتا ہے۔ یہ لوگ کن ملکوں میں بیٹھے ہیں؟ کشمیری یا مسلمان ہیں بھی یا نہیں؟ ان کی فنڈنگ کون کر رہا ہے؟ یہ بہت اہم سوالات ہیں جن کے جواب معلوم کرنا متعلقہ اداروں کی بہت اہم ذمہ داری ہے کیونکہ میرے مشاہدے اور اندازے کے مطابق ان چند لوگوں کا جاب ہی یہی ہے کہ سارا دن مختلف ناموں سے مختلف کثیر رکنی علاقائي فورمز پر ایسی پوسٹس کرنی ہیں اور ان پر کمنٹس کرنے ہیں۔ اب اگر یہ لوگ آٹھ دس کی تعداد میں بھی ہوں اور ہر ایک نے آٹھ دس آئي ڈیز بنا رکھی ہوں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو استعما ل کرکے کتنے بڑے پیمانے پریہ چند لوگ ہمارے بچوں کو فکری گمراہی، کنفیو‍ژن اور تباہی کی کس خوفناک دلدل میں دھکیل سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ اس گروہ کا بنیادی ہدف اپنے مطلوبہ علاقے کے لوگوں کو پاکستان اور پاکستان کے اداروں سے متنفر کرنا ہے۔جس کے لیے یہ خودمختاری، اس پار اور اُس پار، دونوں طرف کشمیری مر رہے ہیں جیسے اور بھی بہت سے ایسے الفاظ استعما ل کرتے ہیں۔ یہ کبھی اس پر بات نہیں کرتے کہ دونوں طرف کشمیریوں کو مارنے والا ب ھ ارت ہے۔ یہ کبھی آپ کو یہ نہیں بتاتے کہ آپ جو رات کو چین کی نیند سوتے ہیں دن کو مزے سے اپنے کام دھندے کرتے ہیں، آپ کی مائيں، بہنیں اور بیٹیاں آزاد اور محفوظ ہیں تووطن عزیز پاکستان کے کسی علاقے کا کوئي جوان اسلام کے رشتے کے با‏عث آپ کی کنٹرول لائن پرگولیوں کے سامنے کھڑا آپ کی حفاظت کر رہا ہے۔ یہ کبھی اس پر بات نہیں کرتے کہ اگر وہ وہاں نہ ہو تو آپ کے ساتھ کیا ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

اصل میں یہ اس کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ آپ کے ساتھ بھی وہی ہو جو بھارتی افواج وہاں کے کشمیریوں کے ساتھ کر رہی ہے۔ یہ دوستوں کے روپ میں بدترین دشمن ہیں۔ یہ آپ کی آزادی نہیں مانگ رہے، یہ اصل میں دشمن کی آپ تک رسائی کی آزادی مانگ رہے ہیں۔ یہ ہماری نسلوں کے ساتھ بہت خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے اور آپ کے محافظ بھائيوں کے درمیان منافرت اور غلط فہمیوں کی ایسی دیواریں کھڑی کردی جائیں کہ آپ کوسزا کے طور پر ان کی جھولی میں ڈال دیا جائے تاکہ آپ کا ابدی دشمن آپ کے جان، مال اورعزتوں سے کھیلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!میں اپنے ان دوستوں سے جو ان کے پھیلائے جال میں آ رہے ہیں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ بھی یہی چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟

میں حکومتی اداروں سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ قبل اس کے کہ آپکو انتہائي اقدامات اٹھانے پڑیں آپ دشمن کی چال کو سمجھ کر اسی کے میز پر اس کو الٹ کیوں نہیں دیتے۔ جو چال دشمن ہمارے ساتھ ہماری تباہی کے لیے چل رہا ہے کیا ہم وہی طریقہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اختیار نہیں کر سکتے؟ کیا ہمارے پاس ایسے دماغ موجود نہیں جو اپنے نادانوں کو حقیقت کا آئينہ دکھا سکیں اور ان پر واضح کر سکیں کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ کیا ہمارے ادارے اس سے نمٹنے کے لیے اپنے کچھ وسائل اور چند لوگ استعمال نہیں کر سکتے؟

میرے مسلمان ہم وطنو! آخر میں اقبال کا یہ شعر آپ کے لیے:

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں