کشمیری تشخص :سیاسی، ثقافتی اور قومی تناظر

زیر نظر موضوع پر میں نے کچھ عرصہ قبل انگریزی میں ایک مضمون لکھا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا پر مختلف تاثرات اوربحثوں کے پیش نظر میں نے سوچا کہ شاید اردو میں اس کو لکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس لیے یہاں انگریزی مضمون کاایک خلاصہ پیش خدمت ہے۔ شمس رحمان

معائدہ امرتسر

16 مارچ 1846 کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور جموں کے راجہ گلاب سنگھ کے درمیان امرتسر کے مقام پر ہونے والےمعائدے کے تحت برطانیہ نے وادی کشمیر اور ملحقہ علاقے گلاب سنگھ اور اس کی نرینہ اولاد کی خود مختار ملکیت میںدے دیے۔ اس معائدے کی حیثیت اور سیاست پر تب سے بحث جاری ہے اور جاری رہے گی۔ تاہم حقیقت یہ ہےکہ موجودہ ریاست جموں کشمیر اس معائدے کے نتیجے میں قائم ہوئی۔ مختلف دستاویزات کے مطابق اس کا پورا سرکارینام ' ریاست جموں و کشمیر و تبت ہا و اقصائی چن و علاقہ جات وغیرہ' تھا۔ تاہم جو نام اکثر استعمال ہوا وہ جموں و کشمیرتھا لیکن انگریزوں، مہاراجہ اور دیگر کشمیری احکام اور باشندوں کی طرف سے پوری ریاست کے لیے صرف کشمیر کااستعمال بھی عام تھا۔اس تناظر میں یہ دعویٰ بے جا نہیں ہوگا کہ اگر 1947 میں ریاست تقسیم نہ ہوتی تو کشمیری شناخت ہی اس کی عام سیاسیو قومی شناخت کے طور پر پروان چڑھتی۔ اور یہ کوئی کشمیر کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ دنیا کی کئی ایک کثیر الثقافتیاور کثیر القومی و قومیتی ریاستوں میں کسی ایک علاقے، ثقافت یا خطے کو قومی شناخت کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس کیصرف چند مثالیں یہاں پیش کی جارہی ہیں۔

ہندوستانی شناخت کی جڑیں

قریبی ہمسائے ہندوستان کو دیکھیں تو ہندوستانی شناخت کی جڑ بنیاد ' انڈس ' دریا میں ہے جو کہ ہندوستان کے کئی ایکدریاوں میں سے ایک ہے ۔ برطانیہ (Britain) کی وجہ تسمیہ قدیم زمانے میں بہت سے قبائل میں سے ایک قبائل برطان(Briton) میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ بھوٹان کا مطلب مقامی زبان میں تبتیوں کی جگہ بتائا جاتا ہے۔ بورکینا فاسو صحارائیافریقی ملک ہے جو پہلے پہل وولٹا بالا (اپروولٹا) کہلاتا تھا یعنی دریاۓ وولٹا کے اوپر کی زمین. پچاس فیصد مسلم اکثریتکے اس ملک کا نام دو زبانوں سے مشتق ہے. بورکینا مورے زبان سے ہے جسکا مطلب ایماندار آدمی اور فاسو دیؤلازبان سے ہے جسکا مطلب باپ کا گھر ہے. یعنی بورکینا فاسو کا مطلب ایماندار آدمیوں کے باپ کا گھر۔

قومی شناختوں کا ظہور

چین سنسکرت کے لفظ چین سے ہے. یہ مہابھارتا میں موجود ہے اور اس وقت کے اس علاقے میں قائم خاندان قین سےبنا ہے. چین کو پہلے کیتھے اور ختن بھی کہتے تھے. جبکہ اہل مغرب اسے سیریس یا سیریکا بھی کہتے تھے ۔ مقامی طور پر اسملک کا نام "زھونگو" ہے جس کا مطلب مملکۃ وسطی ہے۔ ان مثالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک کیپہچان وہاں بسنے والی تمام ثقافتوں یا زبانوں یا علاقوں کی عکاسی نہیں کرتی ۔ خاص طور سے وہ ممالک جہاں ایک سےزیادہ زبانیں، مذاہب اور علاقائی شناختوں سے وابستہ ہے ۔ مختلف قومی شنا ختیں اپنے اپنے مخصوص مقامی حالات کیروشنی میں پروان چڑھی اور ارتقاء پذیر ہوئی ہیں ۔ اور جیسا کہ مذکورہ مثالوں میں دیکھا جاسکتا ہے ملکوں کی قومیشناخت کا منبع یا جڑ بنیاد کوئی ایک صفت نہیں ہے۔ بعض قومی شناختیں کسی قبیلے کے نام پر ہیں، بعض کسی حکمرانخاندان کے نام سے ، بعض کسی ملک کے کسی ایک جغرافیائی خطے کے نام پر اور بعض کسی ثقافت یا زبان کی مماثلتسے ۔ اور تمام قدیم ممالک کی شناختوں کی کہانیاں قدیم ماوارئی یا مافوق الفطرت قصے کہانیوں میں ہی ملتی ہیں۔

کشمیر کی وجہ تسمیہ اور تاریخی روایات

اب اس تناظر میں دیکھیں تو کشمیر کی وجہ تسمیہ کے ساتھ بھی ایک ایسی ہی قدیم کہاوت منسوب ہے ۔ اس کے مطابق موجودہ وادی کشمیر کبھی ایک جھیل تھی جس میں ایک جل بھاو رہتاتھا جو آس پاس کے پہاڑوں پر رہنے والے افراد کو تنگ کرتا تھا جنہوں نے کشپ دیو سے مدد مانگی جس نے ایک مقامغالباً نارہ مولا سے کاٹ کر پانی بہا دیا اور جل بھاو کو مار کر لوگوں کو اس سے نجات دلائی اور اس کے نام پر کشپ مر اورپھر بتدریج کشمیر بن گیا۔ ایک کشمیری قلمکار نے حال ہی میں اس کو مشرق وسطیٰ کے ایک قبیلے کاش کی طرف سے آبادکیے جانے پر کاش مر اور پھر کشمیر کی توضیح پیش کی ہے۔ لیکن مقامی لوگ تو اسے اب بھی کشیر کہتے ہیں اور گلگتبلتستان والے بھی۔ اور ایک دعویٰ یہ ہے مقامی طور پر اس کا نام کشیر ہی تھا لیکن باہر سے آنے والوں نے اسے مختلف ناموں سے پکارا اور ان میں سے کشمیر زیادہ مشہور ہو گیا اور یہ بھی کشمیر سے مراد تب بھی صرف وادی کشمیرنہیں تھی بلکہ ملحقہ علاقوں کے لیے بھی اس کو حوالے کی شناخت کے طور پر بیان کیا جاتا تھا۔ تاہم یہاں اہم نقطہ یہہے کہ کشمیر کی شناخت کی بنیاد زمین کا خطہ تھا یعنی یہ جغرافیائی شناخت تھی۔جس کو شاید کاشری زبان بولنے والوں نےکشیر کہا ۔ وہ یہاں کب آباد ہوئے اس کے بارے میں میرا علم فلحال محدود ہے ۔ کیونکہ اگر جھیل والی کہاوت کو مانلیا جائے جو جیالوجیکل حوالوں سے بھی اس حد تک ثابت ہوتی ہے کہ پہلے یہ خطہ پانی میں تھا اور پانی کے انخلاء کے بعدیہاں انسانی آبادیاں بسیں تو عین ممکن ہے کہ یہ کہانی یہاں آباد ہونے والوں نے تخلیق کی ہو۔ لیکن تاریخ سے تو یہ بھیحوالے ملتے ہیں کہ یہاں کے ابتدائی آبادکار ناگا اور پشاچہ لوگ تھے ۔ ظاہر ہے ان سب مظاہر پر مزید تحقیق کی ضرورتہے۔

جغرافیائی و ثقافتی شناخت سے سیاسی شناخت تک کا سفر

یہاں ان حوالوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کشمیر ی بنیادی طور پر ایک جغرافیائی شناخت تھی اور تاریخ کے کسی عہدمیں کاشری زبان بولنے والوں کی اکثریت کی وجہ سے ثقافتی شناخت میں جذب ہو گئی ۔ لیکن چونکہ کشمیری عنان حکومت قدیم عہد سے زین العابدین بڈشاہ کے زمانے تک کئی بار اپنے مرکزی علاقوں سے نکل کر دور دراز تک پھیلی اور جباس کا اقتدار پھیلا تو شناخت نے سیاسی شناخت کا روپ دھار کر وسعت بھی حاصل کی۔ اور موجودہ ریاست جموںکشمیر کے قیام تک کشمیری شناخت ایک واضح سیاسی شناخت بن چکی تھی جو ان تمام لوگوں کی شناخت تھی جو وادیکشمیر میں رہتے تھے یا جہاں تک ان کی حکومت جاتی تھی وہ کشمیری ماتحت علاقے کہلاتے تھے۔ اور وادی کشمیر میں بھیاور وسیع تر کشمیری حکمرانی میں آنے والے علاقوں میں بھی مختلف زبانوں اور نسلوں اور مذاہب اور علاقوں کے لوگشامل تھے۔ اگرچہ اس زمانے میں ثقافتی ، لسانی اور قومی شناختوں کی وہ حیثیت اور اہمیت نہیں تھی جو آج ہے۔ تاہمیہاں اہم بات یہ ہے کہ کشمیری شناخت کی اس وسعت اور مضبوطی کی وجہ سے جب موجودہ ریاست قائم ہوئی تو اسکے نام میں کشمیر کو اور دیگر خطوں کے ناموں کو شامل کیا گیا اور اس کو صرف جموں ریاست نہیں قرار دے دیا گیا۔

سو سالہ مہاراجہ عہد اور ریاست کی تشکیل

اس عہد کے بعد کے سو سالہ مہاراجہ راج کے دوران اس ریاست کی قومی شناخت دو سطحوں پر پروان چڑھی ۔ ایک اوپر سے یعنی حکومتی اقدامات اور اعمال کے ذریعے اوردوسرے نیچے سے یعنی عوامی سیاست اور ادب کے ذریعے۔ اوپر سے دیکھیں تو انتہائی رسمی طور پر پوری ریاست کانام لکھا جاتا تھا جیسا کہ مظفر آباد کے ایک پل پر آج بھی ریاست کا پورا نام لکھا ہوا ہے ۔ ریاست جموں و کشمیر وتبت ہا ، اقصائی چن اور علاقہ جات وغیرہ اور سرکاری طور پر جموں و کشمیر لکھنے کا رواج زیادہ تھا لیکن بے شمار تاریخیحوالے موجود ہیں جہاں سرکاری دستاویزات اور خط و کتابت میں مہاراجوں نے بھی ریاست کو کشمیر لکھا اور انگریزاحکام نے بھی۔ اوپر سے باشندہ ریاست کا قانون وہ اہم ترین اقدام تھا جس نے پہلی بار اس پوری ریاست کےباشندوں کو ایک قانونی حیثیت فراہم کی۔ اس کے بعد اس ریاست کے باشندے انگریزی علاقوں یعنی برطانویہندوستان سے قانونی طور پر الگ ہو گے۔ دیگر قوانین اور جو کچھ بھی رسل و رسائل اور ذرائع مواصلات تھے ان کےذریعے اس ریاست کے خطوں میں ابلاغ اور اشتراک کے ایک ایسے عمل کا آغاز ہوا جس نے جدید قوم اور قومیریاست کی تشکیل میں اہم اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم جدید قومی تشکیل صرف اوپر سے نہیں قرار پاسکتی ۔ اسکے لیے اہم ترین تقاضا عوامی شرکت ہوتا ہے۔

عوامی مزاحمت کی تحریکیں

یوں تو ریاست جموں کشمیر میں بھی کئی بغاوتیں ہوئیں جن کو ریاستی احکام نے کچل دیا اور ریاست کے وجود سے پہلےبھی وادی اور جموں اور ریاست کے دیگر علاقوں میں کئی ایک بغاوتوں اور حملوں اور فتوحات اور مفتوحات کی طویلتاریخ پائی جاتی ہے ۔ ان میں پندرھویں صدی میں سنٹر ایشیائی غلبے کے خلاف تازی بٹ کی قیادت میں ایک ایسی بغاوتبھی شامل ہے جس کو عوامی بغاوت قرار دیا جاسکتا ہے ۔ لیکن یہ سب بغاوتیں حکمرانوں کے لیے تھیں ۔ کبھی بھیحکومت میں عوامی شراکت ان کا مقصد نہیں تھا۔

1930 میں پہلی بار ریاستی اور حکومتی امور میں عوام کی حصہ داری کے مطالبات کی بنیاد پر عوامی بغاوت کی گئی۔ اگرچہشروع میں اس کا ریاست سے تصادم ہوا اور ریاست نے عوام کو بزور طاقت و تشدد کچلنے کی کوشش کی لیکن جلد ہیتحریک نے جدید عوامی سیاسی راستہ اختیار کرتے ہوئے ریاست کی تاریخ کی پہلی سیاسی جماعت قائم کر کے ذمہدارانہ یعنی جمہوری نظام حکومت کا مطالبہ کیا ۔ 1932 سے 1947 تک اس عوامی تحریک کی کوکھ سے مختلف سیاسیجماعتیں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں اور مہاراجہ ہری سنگھ نے بھی بتدریج طاقت کو عوامی نمائندوں تک منتقل کرنےکے کچھ قابل قدر اقدامات کیے۔ خاص طور سے اسمبلی کا قیام اور اس کے منتخب کردہ ارکان کی تعدا میں بتدریج اضافہ۔اس عرصے کے دوران نیچے سے یعنی عوامی سیاست میں سے ریاست کی جو سیاسی شناخت فروغ پذیر ہوئی وہ بھیکشمیری ہی تھی اور سیاسی کارکنان کے لیے کشمیری کا مطلب کاشری زبان یا وادی کشمیر تک محدود نہیں تھا ۔بلکہ اسسے مراد پوری ریاست تھی۔ نیا کشمیر جو کہ ریاست کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس نے پیش کیا ، اس وقتاس کانفرنس کا صدر میرپور کا سردار بدھ سنگھ تھا، اس میں کشمیر سے مراد پوری ریاست تھی اور اس میں ریاست کی مختلف زبانوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ افراد ، جماعتوں اور نظریات سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن سیاسی اعمالprocesses کو پیش نظر رکھ کر دیکھیں تو کشمیری پوری ریاست کی سیاسی اور قومی شناخت بننے کے راستے پر ارتقاء پذیرنظر آتی ہے۔

1946 میں جب مزدور کسان کانفرنس نے اپنے کنونشن میں آزاد کشمیر کا تصور پیش کیا تو وہ بھی صرف وادی کشمیر کیآزادی کا تصور نہیں تھا۔ ریاست کی سیاست کے عظیم انقلابی بابا کرشن دیو سیٹھی جس سیاسی کشمیر کی بات کرتے ہیںوہ بھی پوری ریاست پر محیط ہے ۔

ریاست کی تقسیم کے کشمیری شناخت پر اثرات

تاہم جب ریاست تقسیم ہو گئی تو کشمیری شناخت کے اس ارتقائی سفر کو ایک شدید دھچکا لگا۔ صرف کشمیری شناخت کوہی نہیں بلکہ ریاست کے اندر ارتقاء پذیر جمہوری عمل درحقیقت بھارتی اور پاکستانی قبضے کا پہلا شکار تھا۔ اب ایکطرف الحاق پاکستان اور دوسری طرف الحاق ہندوستان کے علاوہ تمام کشمیری نظریات کفر اور غداری قرار دے دیےگئے۔ اور جموں و لداخ میں بتدریج کشمیری شناخت کو وادی کے مساوی سمجھا جانے لگا اور قومی شناخت ہندوستانیسمجھی جانے لگی۔ اسی طرح پاکستان میں بھی پاکستانی شناخت کو سرکاری طور پر قومی شناخت کے طور پر پیش کیاجانے لگا ۔ تاہم خود مختار ریاست کے نظریے کے دوبارہ ظہور نے دونوں اطراف بھارتی اور پاکستانی تشخص کے متبادل کشمیری شناخت کو سیاسی و قومی شناخت کے طور پر اجاگر کیا ۔ تاہم یہ بھی ماننا پڑے گا کہ خود مختاری کے اسنظریے کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست وادی اور آزاد کشمیر کے علاوہ دیگر خطوں کو اس سیاست اور نظریے کے ساتھجوڑنے میں ناکام رہی۔ اب بھی آر پار کشمیری تشخص کو ایک ثقافتی تشخص یا صرف وادی کے سیاسی تشخص تک محدودکرنے کی آوازیں موجود ہیں اور آزاد کشمیر میں قبائلی شناختوں کو انتخابی سیاست میں استعمال کرنے کے رحجان نے ایکحلقے میں کشمیری شناخت کو مستقبل کی شناخت کی حیثیت دے دی ہے یعنی جب کشمیر آزاد ہو گا تو ہم کشمیر ی ہیں ۔لیکن آزاد کشمیر کے باشعور اور آزادی پسند حلقوں میں کشمیری ایک سیاسی اور قومی شناخت ہے نہ کہ ثقافتی شناخت جوصرف وادی تک محدود ہے ۔

کشمیریت : حقیقت یا سر اب

بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ قومی سیاسی تشخص کی تشکیل اور فروغ میں بنیادی اہمیت مشترکہ سیاسی مقصد کو حاصل ہوتیہے۔ شناخت بذات خود کچھ بھی نہیں ہے جب تک کہ معاشرے کی معاشی ، سماجی، سیاسی و ثقافتی ترقی میں اس کےتمام عوام اور ان کی دیگر تمام شناختوں کو شمولیت اور احترام حاصل نہ ہو اور ان کو اپنے اپنے دائروں میں تسلیم نہ کیاجائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور قومی شناخت کی حیثیت سے کشمیری شناخت کا ریاست کی دیگر علاقائی ،مذہبی، ثقافتی اور قبلائی شناختوں سے کوئی مقابلہ یا مخاصمت نہیں ہے۔ تمام دیگر شناختیں بشمول کشیری یا کاشریشناخت بھی ریاست کشمیر کی شناختیں ہیں اور تمام زبانیں بشمول کوشر زبان ریاست کشمیر کی زبانیں ہیں ۔ تاہم یہصرف ایک نظری دعویٰ ہے جس کو عملی شکل صرف ایک ایسی سیاست ہی دے سکتی ہے جس کو اس نظری دعوے کاادراک حاصل ہو ۔ اس کے بغیر ریاست نہ تو متحد ہو سکتی ہے اور نہ متحد رہ سکتی ہے اور ریاست کے اتحاد کے بغیرریاست کی آزادی کا تصور بھی محال ہے۔ متبادل یہ ہے کہ تمام خطے انڈیا یا پاکستان میں ضم ہو جائیں گے۔ قومیشناخت بھارتی اور پاکستانی ہو گی اور دیگر شناختیں بتدریج ہمسایہ بڑی شناختوں میں ضم ہو جائیں گی اور قومی امکاناتہیں کی باشندہ ریاست کا قانون بھی ختم ہو جائے گا اور ریاست ایک قصہ پارینہ بن جائے گی۔