کشمیر نما

میں نے زندگی میں جو تھوڑی بہت کتابیں پڑھی ہیں اُن میں سے بہت کم ایسی تھیں کہ جنھوں نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہو،میرے قدم روک لیے ہوں مگر کچھ روز قبل ایک کتاب مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی ،بھیجنے والے نے ساتھ لکھا تھا ’’اوے اِسچ پھاسی آدیسے۔ 1بجی آ راتی ناں‘‘۔ جونہی میں نے یہ کتاب پڑھنی شروع کی تو اس خوبصورت تحریر نے یک دم جکڑ لیا، مجھے احساس ہوا کہ میرا دوست اس میں پھنس گیا تھا،میں تو دھنس گیا ہوں۔ــ اس کتاب کا نام ’’کشمیر نما‘‘ ہے جو وادیٗ پرل کے ایک ادیب جنابِ ڈاکٹر ممتاز صادق کی غالباََ اوّلین تصنیف ہے۔

یہ کتاب ہماری خِطے کی تہذیب و ثقافت،رہن سہن،تاریخ،جغرافیہ،رُسوم ورواج،غرض انسانی زندگی سے جُڑی ہر چیز کا ادبی چاشنی سے بھرپور بیان ہے۔یہ ہمارے سماج کی ایک خوبصورت جھلک ہے۔ کتاب کا قاری اگر اُسی خطے سے تعلق رکھتا ہے جس کی محبت فاضل مصنف کے لیے باعثِ تخلیق بنی تو وہ ہماری طرح بچپن میں لوٹ جاتا ہے اور کتاب پڑھتے پڑھتے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا جاتا ہے اور کتاب میں لکھی ہماری تہذیب میں آنے والی جدّت کی دلنشین کتھا اپنے سامنے برپا ہوتی محسوس کرتاہے۔ اس کتاب کا جو باب اور جو صفحہ اُٹھا کر دیکھیں،جس خوبصورتی سے الفاظ کو پرویا گیاہے،جو منظر کشی کی گئی ہے اُس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ کتاب نہیں خوبصورت تصاویر کا البم ہے ۔اس البم کی ہر تصویر دل موہ لینے والی ہے۔یہ کتاب ہمارے ہاں تخلیق ہونے والے ادب میں ایک انتہائی خوبصورت اضافہ ہے۔’’کشمیر نما‘‘ کے منظرِعام پر آنے کے بعد میں یہ کہے بِنا نہیں رہ سکتا کہ ممتاز صادق اسمِ بامسمیٰ ہیں۔اُنھوں نے کمال بے باکی سے ہمارے معاشرے میں پائی جانیوالی تلخ و شیریں باتوں کو ہوبہو قلمبند کیا ہے اور ایسا کرتے ہوئے ایک منفرد ادبی زبان وبیان برتاہے۔عہدِ حاضر کے معروف شاعر جنابِ وسیم بریلوی نے کہا تھا کہ ’کون سی بات کب کہاں کیسے کہنی ہے، یہ سلیقہ ہوتو ہر بات سُنی جاتی ہے‘۔مجھے یقین نہیں ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے ہاں بھی ہربات سُنی جاتی ہو مگر ’’کشمیرنما‘‘پڑھنے کے بعد یقیناََ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فاضل مصنف جیسا سلیقہ ہوتو ہر بات لکھی ضرور جاسکتی ہے۔ گو کہ ڈاکٹر ممتاز صادق کی یہ تخلیق اُنھیں ممتاز ادیبوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے تنہا کافی ہے مگر اسے پڑھ کر سوچتا ہوں کہ کاش یہ بیان کچھ طُول پکڑ سکتا اور میں نہ صرف مزید محظوظ ہوتا بلکہ فیض یاب ہوپاتا ، خوشہ چینی کا موقع ملتا۔ معروف ادیب ڈاکٹر محمد صغیر خان نے ’’کشمیرنماــــ‘‘ پر تبصرہ لکھتے ہوئے خُوب کہاہے کہ یہ کتاب ایک ٹریلر ہے،اگر ٹریلر ایسا ہے تو پھر فلم کا کیا عالم ہوگا۔ کون کافر ہوگا جو ایسی چاشنی آمیز تحریر پڑھنے کا طالب نہ ہو۔ مجھے کہنے دیجیئے کہ ہمارے ادبی اُفق پر ڈاکٹر ممتاز صادق کی صورت میں ایک نیا سورج طوع ہواہے،اگر طلوع ہوتے سورج کی کرنوں کا یہ منظر ہے تو پھر عروج کے عالم کا تصوّر آپ خود کیجیئے۔

’’کشمیر نماــ‘‘ کو فاضل مصنف نے اپنے والدِ محترم پروفیسر سردارمحمد صادق خان کی حکم نما خواہش کی تعمیل میں تحریر کیا گیا ایک مضمون قرار دیا ہے۔اگر یہ مضمون ہے تو پھر وہ ہمت کریںاور مضمون سے آگے بڑھ کر ہمیں ایک کتاب سے بھی نوازیں ۔خیر ،اس کے لیے ہمیں اُن سے درخواست کرنے کی شائد نوبت ہی نہ آئے۔خُدا جنابِ پروفیسر صادق خان کو صحت دے،ہم براہِ راست اُنھی سے عرض کریںگے کہ اُن کے احکامات محمود ہیں،وہ ایسے احکامات جاری کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ڈاکٹر ممتاز صادق اُن کے سعادت مند بیٹے ہیں،وہ احکامات ٹال نہ پائیں گے۔’’کشمیرنماــ‘‘ ایک سو چار صفحات پر مشتمل کتاب ہے مگر اس کی جامعیت کے باعث یہ کئی ذخیم کتابوں سے بڑھ کر ہے۔یہ کتاب وطن مالوف ریاست جموں کشمیر بھر کی تاریخ ،تہذیب و ثقافت پرسرسری روشنی ڈالتی ہے ۔ اس میں گلگت بلتستان سمیت پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور ڈویژن پر ایک اُچٹتی نگاہ ڈالی گئی ہے مگر پونچھ ڈویژن اور اس کے دل وادیٗ پرل راولاکوٹ کا بیان ذرا تفصیلی ہے۔ یہ ہمارے خطے سے جُڑی باتوں کا ایک مِنی انسائیکلوپیڈیاہے۔ہماری ماں بولی پہاڑی کے متعدد الفاظ اور جملے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اوروادیٗ پرل کی ثقافتی علامت ’’تخت پوش‘‘ سے لیکر راولاکوٹ کے دیوانہ نما فرزانہ کردار یوسف خان تک کے دلچسپ تذکرے لیے ہوئے ہے۔ آپ یہ کتاب حاصل کرکے پڑھیں،اگر پسند نہ آئے تو میری گارنٹی ہے،آپ کے پیسے واپس۔’’کشمیرنما‘‘ میں لکھی باتیں پلّے باندھنے جوگی ہیں۔میری ناقص رائے میں تو ایسی کتابوں کوہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔’’کشمیر نما‘‘ ڈاکٹر ممتاز صادق کی شخصیت کی طرح متنوّع ہے،اس میں محض سنجیدہ اور دانشورانہ باتیں ہی نہیں ہیں بلکہ مزاح نگاری کا وہ جادو بھی جگایا گیا ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے،کتاب کے بعض حصّے پڑھ کر قاری ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔مجھ پر یہ کیفیت کبھی لڑکپن میں ابنِ انشا کی کتابیں پڑھ کر طاری ہوئی تھی۔کتاب میں شامل مزاحیہ باتیں میرے جیسے قاری کو جب کسی محفل میں یاد آتی ہیں تو اچانک ہنسی چُھوٹ جاتی ہے اور پھر اُس محفل میں وہ بات بیان کرکے ہی حساب برابر ہوپاتا ہے ۔ ہمارے دوست پروفیسر محمد ایّاز خان کے بیل کے قصے نے تو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا،جب تک ہم وہ روایت بحوالہ بیان نہ کریں تو حاضرین ہمیں کوئی پاگل سمجھتے رہتے ہیں جو اینویں ہی ہنستا رہتا ہے۔میں ’’کشمیرنما‘‘ سے یہاں اقتباسات نقل کرنے سے قاصر ہوں،اس کی وجہ یہ ہے کہ میں فیصلہ ہی نہیں کرپارہاکہ کون سا اقتباس درج کروں اور کون سا چھوڑوں۔

ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالمقیت صادق کے بڑے بھائی ہونے کے ناطے ڈاکٹر ممتاز صادق ہمارے بڑے بھائی تو ہیں ہی مگر اُن کے اندر اس پائے کا ادیب چُھپا بیٹھا ہے،اس کا علم ہمیں ’’کشمیرنما‘‘ کے مطالعہ کے بعد ہی ہوا۔ ہمیں چند مرتبہ ڈاکٹر ممتاز صادق کی محفل میں بیٹھنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی مگر یقین جانیے ہم اُنھیں اس کتاب کے بعد ہی جان پائے ہیں۔’’کشمیرنما‘‘ پڑھنے کے بعد میں یہ گستاخی کیے بِنا نہیں رہ سکتاکہ وہ پیسے وصول ہوگئے جو یہ کتاب لکھتے ہوئے اُن انواع و اقسام کے مشروبات،میوہ جات اور کھانوں کا اہتمام کرنے پر خرچ ہوئے تھے(بحوالہ ’’باعثِ خامہ فرسائی‘‘)۔میں تو کہتا ہوں کہ اُس سے کئی گُنا زیادہ وصول ہوگئے۔اگر مجھے خبر ہوتی کہ ا یسا اہتمام کرنے سے ڈاکٹر ممتاز صادق اتنے اچھے نتائج دیں گے تو دو چار بوریاں خشک میوے اور چند دوسری نعمتیں اُن کے دولت خانے پر بصد شوق پہنچاتا۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ لوگ زندگی بھر نہ جانے کن کن اشیاٗ پر ہاتھ صاٖف کرتے رہتے ہیں مگر حاصل صفر۔ ’’کشمیرنما‘‘ ہمارے جیسوں کے تبصروں کی محتاج کہاں ہے۔ہمارے جیسے راندہ ٗدرگاہ لوگ ایسے زبان و ادب کے عالموں کی کتابوں پر تبصرہ بھلا کیونکر لکھ سکتے ہیں مگر کیا کروں اس کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا،اس لیے گُستاخی معاف، یہ تبصرہ نما لکھنے کی جسارت کرلی۔ اگر میرے اندر اس کتاب پر تبصرہ لکھنے کی ہُوک نہ اُٹھتی توجب کبھی ڈاکٹر ممتاز صادق سے ملاقات ہوتی تو فقط یہی عرض کرتا:واہ،سواد ا ٓگیا بادشاہو۔