!کشمیر میں سیاسی اُبال

برصغیر آزادی اور جغرافیائی تبدیلی کی دہلیز پر کھڑا ہے، تاریخ کا ورق پلٹنے کو بے قرار ہے، غلامی اور محرومی کی طویل شب بالآخرسپیدہ مطلع ہند سے رخصت ہورہی ہے، سپیدہئ سحر کی نمود میں ایک مختصر سا وقفہ حائل ہے۔ ریاست جموں و کشمیر اگر چہ برطانوی ہند کے حدود سے الگ ایک علحٰیدہ ریاست ہے مگر اس کے کو ہ ودمن بھی”کشمیر چھوڑدو“ کی گونج سے جھوم رہے ہیں، یہاں تبدیلی کی طوفانی ہوائیں جابجا چل رہی ہیں، شخصی راج کا تخت وتاج عوامی اس تحریک کے دباؤ میں ڈھلمل ہورہا ہے، نوشتہ دیوار بتا رہاہے کہ شخصی نظام کا مستقبل غیریقینی ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ اپنی بادشاہت کو بقول اس کے ”کمیونسٹ“ شیخ عبداللہ کی نظر بندی میں درد کا درماں نظر آ تا ہے۔ شیخ کو قید وبند میں مقدمہ بغاوت کا سامنا ہوتا ہے، اُن کے تمام دست وبازو پابند سلاسل ہیں، کشمیر کے شہرو دیہات میں نیشنل کے حامیوں کی نکیل کس لی جاتی ہے۔ ان کارروائیوں کے باوجود مہاراجی حکومت کے پاؤں تلے زمین برا بر کھسکتی جارہی ہے۔

”کشمیر چھوڑدو“ کے سیل رواں کو قابوکرنے کے لئے 20مئی 1946 کووزیراعظم کشمیر پنڈت رام چند کاک شیخ صاحب پر مہاراجہ ہری سنگھ کے حکم پر مقدمہ بغاوت دائر کرتاہے۔ ا س ضمن میں حکومت بدیں الفاظ ایک گشتی مراسلہ جاری کر تی ہے:

آرڈر نمبر 336c مورخہ 20 مئی1946

زیر دفعہ 196 / کریمنل پینل کوڈ ا س امر کی منظوری دی جاتی ہے کہ مسٹر ایس۔ایم۔ عبداللہ کے خلاف اُس کی اُن تقاریر کی بناء پر جو اس نے 13, 14 ,16 مئی کو بمقام میر محلہ، زیارت خواجہ صاحب نوشہرہ اور مائسمہ میں علی الترتیب کی ہیں،زیر دفعہ124(الف)رنبیر پینل کوڈ مقدمہ چلایا جائے۔ مزید ہدایات کی جارہی ہیں کہ سپرانٹنڈنٹ پولیس سری نگر سیشن جج کشمیر کی عدالت میں متذکرہ الزامات کے متعلق استغاثہ دائر کرے اور متذکرہ صدرتقاریر کی نقول شامل ِ استغاثہ رکھے۔

دستخط: رام چند کاک وزیراعظم. تصدیق کی جاتی ہے, دستخط: ہری سنگھ, ہزہائی نیس مہاراجہ جموں وکشمیر

(بحوالہ: ”تاریخ تحریک ِ حریت کشمیر“ مصنفہ رشید تاثیر)ؔ مقدمے کی اولین عدالتی جرح وتعدیل4 جون 1946 کو بادامی باغ سری نگر کے فوجی صدر مقام پر شروع ہوتی ہے ۔سرزمین کشمیر میں انڈین نیشنل کا نگریس کے چہیتے اور نہرو کے لنگوٹے یار شیخ عبداللہ زندان خانے میں ہوں، اُن پر ریاست کے خلاف بغاوت کامقدمہ چلتا ہو تو مستقبل کے وزیراعظم ِ ہند پیچ وتاب میں کیوں نہ آئیں۔ نہرو کو جیل یاتر اکا وسیع تجربہ ہے،انگریز نے اُنہیں 1945 تک نو مرتبہ جیل میں ڈالا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ کبھی کبھار ذہنی تھکان اُتارنے کشمیر میں برف پوش چوٹیوں کی سیرو سیاحت پر آتے جاتے رہے ہیں مگر شیخ عبداللہ پر بغاوت کی فرد ِ جرم عائد کئے جانے سے وہ یہی اخذ کر تے ہیں کہ نیشنل کا نفرنس کے قائد کو کشمیر کے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی سبیل ہورہی ہے۔ نہرو اپنے سیاسی حلیف کے خلاف دائر مقدہ کو عدالت کے ایوان میں لڑ کر شیخ کے ہاتھ رہائی کاپروانہ تھما نا چاہتے ہیں۔ یوں پنڈت جی شیخ سے اپنے سیاسی یارانے کا گرم جوشانہ مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے عین ضد میں جناح صاحب نہ صرف ”کشمیر چھوڑدو“ تحریک سے دوری بناتے ہیں بلکہ شیخ کے مقدمے کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے مگر نہرو شیخ کے دفاع میں مہاراجہ ہر ی سنگھ کو برقیہ پہ برقیہ روانہ کر تے ہیں،وزیراعظم رام چند کاک کے ساتھ بھی خط وکتابت میں تصفیہ کی فہمائشیں کر تے ہیں، نیشنل کانفرنس کی قیادت کے خلاف مقدمات واپس لینے کی تاکید کر تے ہیں تاکہ امن عامہ کو کوئی زک نہ پہنچے۔ نہرو کا شخصی حکومت سے مطالبہ ہے تم شیخ کو تمام محبوسین سمیت رہاکرو اور میں جانبین مصالحت کاری کے لئے اپنی خدمات پیش کر تا ہوں۔ مہاراجہ کو یہ تجاویز ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اُس کی کھلی حوصلہ شکنی اور تضحیک کے باوجود نہرو 19 جون 46ء کو راولپنڈی سے دیگر تین وکلائے صفائی آصف علی، دیوان چمن لال اور بلدیو سہائے کے ہمراہ کشمیر روانہ ہوتے ہیں۔ حالانکہ پنڈت نہرو برطانوی کیبنٹ کمیشن کے ساتھ آزادی ئ ہند کی جزئیات اور تفصیلات طے کرنے میں ہمہ و قت اور ہمہ تن دلی میں مصروف رہتے ہیں۔گاندھی جی اور مولانا آزاد بھی چاہتے ہیں کہ پنڈت جی تحریک آزادی کے ا س اہم موڑ پر کشمیر جانے کا ارادہ ترک کریں مگر نہر وہیں کہ کشمیر جانے پرمُصرہیں۔ قبل ا زیں پنڈت جی کو کشمیر کے معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کے لئے رام چند کاک ذاتی طور ممبئی جاتے ہیں اور سردار پٹیل اور اچاریہ کر پلانی سے دوستانہ ملاقات کر کے اُنہیں نہرو کو سمجھا بجھانے کی استدعا کر تے ہیں مگر پنڈت نہروان کے مشوروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ جب ہر طرح کے دباؤ کے باوجود مستقبل کا وزیراعظم ہند مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کو تار کے ذریعے 15 جون کوپیشگی اطلاع دیتے ہیں کہ میں وکیل صفائی کے طور 19 جون کو اپنے سہ رُکنی ٹیم کے ہمراہ کشمیر آرہاہوں تو کشمیر کی سیاسی ہانڈی میں نیا اُبال آنا شروع ہوتا ہے۔ شخصی راج نہرو کی سیاسی پیش قدمی کو امن وقانون کا مسئلہ سمجھ کر حفظ ماتقدم کے طور پولیس کارروائی کا سخت بندوبست کر بیٹھتی ہے، راولپنڈی سری نگر شاہراہ پر جگہ جگہ پہرے بٹھائے جاتے ہیں اور ناکے لگائے جاتے ہیں۔ بایں ہمہ نہر و جی کا قافلہ وقت مقررہ پر راولپنڈی سے کشمیر کی جانب رواں دواں ہوتا ہے۔ پنڈت جی جیسی ملکی شخصیت کا شیخ کے دفاع میں یوں دیوانہ وار کشمیر آنے کا رخت سفر باندھنے سے شخصی حکومت بے بس ہو کر ہ جاتی ہے، وہ عالم ِاضطراب میں نہرو قافلے پر کشمیر میں داخل ہونا ممنوع قرار د یتی ہے مگر بے سود۔ صورت حال سے نمٹنے کے لئے رام چند کاک جنگی پیمانے پر فوجی دستے اور پولیس کی بھاری نفری کوہالہ پل پر تعینات کرواتا ہے۔ یہ تاریخی پُل ریاست کشمیراور پنجاب کے درمیان حد ِفاصل ہے۔ بعض مورخین بشمول شیخ مہاراجی ا نتظامیہ پر الزام عائد کر تے ہیں کہ وکلاء کے قافلے کو کشمیر میں وارد ہونے سے روکنے کے لئے کوہالہ پل پر ایک زرخرید بھیڑ جمع کر کے”گو بیک نہرو“(نہرو واپس جاؤ) کے نعرے لگواتی ہے، نہرو مخالف اور مہاراجہ حامی مظاہرین سے کالی جھنڈیاں لہرواتی ہے، مگر اس کے باوجود قافلہ اپنی منزل سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ کوہالہ پُل پر تقریباًدو گھنٹہ تک پولیس، فوج اور سول ایڈمنسٹریشن کے درمیان بہت سارا تماشہ، دھکم پیل اور شور شرابہ جاری رہنے کے بعد یہ قافلہ مظاہرین اور حکومتی رکاوٹوں کو توڑ کر کوہالہ پار جانے کی کوشش کر تا ہے مگر سول ایڈمنسٹریشن کا ایک اعلیٰ عہدیدار نہروجی کوروک کر وہ حکم ِ امتناعی پڑھ کر سناتے ہیں جو مہاراجہ نے اُن کے کشمیر داخلے پر حکم امتناعی کی صورت جاری کیا ہے۔ نہرو مہاراجی فرمان کی اَن سنی کرکے آگے قدم بڑھاتے ہیں۔

ا س سے پُل پر تھوڑی بہت بھگڈر مچ جاتی ہے، حتیٰ کہ ایک سپاہی بندوق کی نالی نہرو کی طرف گھماکر اُنہیں روکنے کی کوشش تک کرتا ہے مگر نتیجہ ندارد۔آخر دومیل کے مقام پر نہروجی کو حکم عدولی کی پاداش میں حراست میں لیا جاتا ہے۔ انہیں چناری کے ڈاک بنگلہ میں نظر بند کیا جاتا ہے۔ گرفتاری کا یہ عمل گورنر کشمیر(ان دنوں کا ضلع مجسٹریٹ) کی نگرانی میں پورا ہوتا ہے۔ نہروکی نظر بندی کی خبر پورے ہندوستان میں جنگل میں آگ کی طرح پھلتی ہے، ملک بھر میں مہاراجہ کشمیر کی نہرو کے خلاف”ہتک آمیز“ پولیس کارروائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوتے ہیں، اخبارات میں یہ گرفتاری اور مابعد کے حالات کی شہ سرخیاں جلتی پر تیل کا کام دیتی ہیں، کئی جگہ مظاہرین کو قابو میں لانے کے لئے گولیاں تک چلتی ہیں، جن سے کئی انسانی جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔ نہرو کو چناری سے اوڑی لایا جاتا ہے تاکہ انہیں ٹیلی فون سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ شخصی حکومت اُوڑی ڈاک بنگلے کے باہر دو کاریں ایستادہ رکھتی ہیں تاکہ نہرو جی جب چاہیں موٹر کاروں میں سوار ہوکرواپس دلی چلے جائیں مگر وہ کسی بھی حال میں بادامی باغ سری نگر میں شیخ عبداللہ کی عدالتی پیشی میں حاضر رہنا چاہتے ہیں۔ اُدھر مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس دونوں جماعتیں نہرو کی کشمیر آمد اور ڈرامائی گرفتار ی کو محض سوانگ قرار دیتی ہیں، وہ اسے وائسرائے لارڈ ویول کا رچایاسیاسی چھلاوا جتلاکر واضح کرتی ہیں کہ شیخ عبداللہ اور مہاراجہ دونوں اس ڈرامے کی درپردہ کہانی سے نابلد ہیں۔ اُدھر نہرو کی حساس ترین لمحات میں دلی سے دوری کانگریس کے لئے سنگین مسائل کرتی ہے۔ اس لئے گاندھی جی کے کہنے پر مولانا آزاد پنڈت نہرو کو فون کر کے فوراً واپس پلٹنے کی صلاح دیتے ہیں۔ پنڈت جی سرتسلیم خم کر کے اوڑی میں دودن کی اسیری کے بعد لارڈ ویول کے اپنے جہاز میں واپس دلی پہنچ جاتے ہیں مگر جاتے جاتے مہاراجہ کو مطلع کر تے ہیں کہ میں عنقریب سری نگر آرہاہوں۔