کشمیر کے فیصلہ کن لمحات

مئی 1946ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف ”کشمیر چھوڑدو تحریک“ چھیڑ کر شیخ محمد عبداللہ اپنی سیاسی بازی بآسانی مارتے ہیں۔ پولیس نقص ِامن اور بغاوت کے الزام میں اُن کی گرفتاری سے بے قابو حالات کی آگ بجھتی نہیں بلکہ اور زیادہ بھڑکتی ہے۔ اس سے شیخ کی قسمت کا تارا مزید چمک اٹھتا ہے۔وہ اپنی چند ہی دھواں دار تقریریوں سے تبدیلی کے خواہاں لوگوں کا نہ صرف لہو گرما تے ہیں بلکہ اپنی قیادت کاسکہ بھی منواتے ہے۔ اپنی جگہ ڈوگرہ شاہی یہ نوشتہ ئ دیوار صاف لفظوں میں پڑھتی ہے کہ انقلاب ِ کشمیرکا ہدف مہاراجہ ہری سنگھ کا تخت وتاج ہے مگر وہ یہ پیش بینی کر نے سے قاصر رہتی ہے کہ مستقبل کی بند مٹھی میں مہاراجی نظام کے خاتمے کے علاوہ اور کچھ بھی چھپا نہیں۔ شخصی نظام عوامی تحریک کے سامنے ایستادہ ہونے میں لڑکھڑا تی ہے، کشیدہ حالات اور تناؤ سے حواس باختہ حکومت کواپنے بچاؤ کی واحد صورت یہ دکھائی دیتی ہے کہ شیخ سمیت نیشنل قیادت کو قیدو بند کی سزا د ے کرعوامی تحریک کو بزور ِ بازو کچلا جائے۔اس حکمت عملی سے ہٹ کر صلح جوئی کا کوئی راستہ اربابِ سلطنت کو کہیں نظر نہیں آتا۔

بیع نامہ امر تسر کی منسوخی کا نعرہ بلند کر نے پر مہاراجی حکومت شیخ عبداللہ کے خلاف مقدمہ بغاوت چلانے کے لئے اپنی مشکیں تیزی سے کس رہی ہے مگر شیخ ہیں کہ اپنے سیاسی عروج کا لوہا منواتے ہوئے خوف کو ناقابل تسخیر بناتا جاتا ہے۔ سری نگر شہر کے گردونواح میں اپنی صرف پا نچ عدد شعلہ بار تقاریر (مہاراجی حکومت کی نظر میں شر انگیز) کے بعدشیخ اب دلی جاکر نہرو سے کشمیر آندولن کے بارے میں گفت وشنید کرنا چاہتے ہیں مگر یہ دھڑکا بھی لگا رہتا ہے کہ ہو نہ ہو باغیانہ خطابات کی پاداش میں حکومت مجھے گر فتار کر بیٹھے۔ خاص طور اُنہیں ریاست کے پنڈت وزیراعظم رام چند کاک کے حرکات وسکنات سے یہی تا ثر ملتا ہے کہ وہ مجھے زندان خانے پہنچا کر ہی دم لے گا۔ نہاں خانہ ئ دل میں پنہاں اسی خدشے کی تصویب یاتردید کرانے اور صحیح تر الفاظ میں حکومت کی اصل منشاء جاننے کے لئے شیخ پارٹی سے رُوٹھ کر کنارے بیٹھے پنڈت لیڈر کشیپ بندھو کو جوں تُوں مناکر رام چند کاک کے پاس بھیجتے ہیں۔ کیشپ کے کاک سے ذاتی مراسم ہوتے ہیں۔ کیشپ کو ٹکا سا جواب ملتا ہے کہ شیخ کو ریاست کی حدود میں کہیں بھی حراست میں لیا جانا طے ہے۔ اس کھلی چتاؤنی کے باوجود نیشنل کا نفرنس کا سر براہ ۰۲/ مئی کو دلی کی طرف جاتے ہوئے دومیل مظفرآباد پہنچ کر ریاستی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اس کے فوراً بعد این سی لیڈروں اور کا رکنوں پر زبردست کریک ڈاؤن کر کے سینکڑوں کی تعداد میں پابہ زنجیر کیا جاتاہے۔ تمام محبوسین پر ظالمانہ ڈیفنس رولز آف جموں وکشمیر کے تحت جیلوں کے پھا ٹک کھو ل کر دھڑا دھڑمقدے درج کئے جاتے ہیں۔ شیخ عبداللہ کو بادامی باغ فوجی چھاؤنی سری نگر میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے، جب کہ دوسرے گرفتار شدگان کو سری نگر جیل کے علاوہ جموں جیل منتقل کیا جاتاہے۔ بے تحاشہ نظر بندیوں کے اس سلسلے پر سری نگر میں شدید عوامی ردعمل پیداہو جا تا ہے۔ مشتعل لوگ آگ بگولہ ہوکر جوق درجوق شہر خاص سری نگر میں واقع حضرت شاہ ہمدان علیہ رحمہ کی زیارت گاہ خانقاہ معلی میں جمع ہوکر شخصی حکومت کے خلاف نعرہ زنی

اور سنگ بازی سے اپنا غم و غصہ نکالتے ہیں۔ یہ سلسلہ لاکھ روکے نہیں رُکتا۔ ڈوگرہ حکومت وسیع پیمانے پر عوامی ناراضی اور لوگوں کے سر فروشانہ جذبے کو ٹھنڈا کر نے کے لئے بندوقوں تک کے اندھا دُھندا ستعمال بھی گریز پائی نہیں کرتی۔ ریاستی فوج کے کمانڈر لیفٹنٹ کرنل نراین سنگھ میں اس نازک گھڑی میں جنرل ڈائرکی روح حلول کر جاتی ہے اور وہ موقع پر ہی خانقاہ معلی کے صحن میں دو نوجوان مظاہرین کے سینے گولیوں سے چھلنی کروا تا ہے۔کر نل سنگھ مظاہرین کے بھاری ہجوم کو منتشر کر نے کے لئے خانقاہ معلی کی زیارت گاہ کا تقدس پامال کر نے سے بھی باز نہیں رہتا۔یہ اشتعال انگیز اور قابل نفرین حرکت جلتی پر تیل کاکام دیتی ہے۔(نراین سنگھ ۷۴ء کے پُر آشوب دور میں ریاستی ملٹری کا سپہ سالار بنا یاجاتا ہے اور قبایلیوں کے ساتھ ایک مڈبھیڑ میں شمالی کشمیر بارہ مولہ کے اطراف میں مارا جاتا ہے)۔ اگرچہ ان نازک حالات میں پورا کشمیر سوگ میں ڈوب جاتا ہے مگر حکومت حالات کا فہم وادراک کر نے کی بجائے بے پناہ تشدد پر اُتر آتی ہے۔ ا س کے باوصف کشمیری مظاہرین اپنی صدائے احتجاج بلند کر نا ترک نہیں کر تے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ قیادت کی عدم موجودگی میں نوجوان بغیر کسی ادنیٰ تامل کے جوش وجنوں سے کشمیر ہمارا چھوڑ دو کے نعرے بلند کر کے مہاراجی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اسی اثناء میں سری نگرمیں دو مزید نوجوان مہاراجی سپاہ کی گولیوں کے ہدف بن جاتے ہیں۔ ا س سے حالات مزید خراب ہوجاتے ہیں۔ حکومت تشدد آزمائی اور زور زبردستی میں شدت لاتے ہوئے شہر میں سخت کرفیو، گرفتاریاں، لا ٹھی چارج آزماتی ہے مگر بے سُود۔ زخم رسیدہ لوگوں کی آہ و بکا سے پوری وادی سراپا احتجاج ہوجاتی ہے۔ سری نگر سے گاندربل اور کنگن تک، سوپور سے بانڈی پورہ، بارہمولہ، کپوارہ، ہندوارہ اور اوڑی مظفر آباد تک، اسلام آبا سے پانپور، پلوامہ، راجپورہ، بیج بہاڑہ، شانگس، کو ٹہار اور ڈور و شاہ آبادتک، ریاسی سے بھدرواہ، کشتواڑ، راجوری اور چنہنی تک عوامی تحریک کی ایک ایسی شدیدآگ بھڑک اُٹھتی ہے جو اب صرف مطلق العنانیت سے گلو خلاصی کی واحد شرط پر بجھ سکتی ہے۔ سیاسی جدوجہد کی اس غیر معمولی لہر کو قابو کر نے میں حکومت اپنی تمام کا رروائیوں کے باوجودناکام رہتی ہے۔

موقع کی مناسبت سے آزادی ہند کی جدوجہد میں مصروف انڈین نیشنل کا نگریس کے مرکزی رہنما سردار پٹیل وزیراعظم کشمیر رام چند کاک کے نام اپنے سندیسے میں پارٹی کی ایک قرارداد کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس میں شیخ عبداللہ سے مصالحت کرنے کا مشورہ دینے اور مولانا ابوالکلام آزاد کا تقرر کشمیر کی گتھی سلجھانے کے لئے کئے جانے کی اطلاع دی جاتی ہے۔ خط کے جواب میں وزیراعظم کاک مسٹر پٹیل کو مطلع کرتا ہے کہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ لاقانونیت کو دبایاجائے اور ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ کاک اپنے مخاطب کو باور کراتا ہے کہ ۴۲۹/ قیدیوں میں سے صرف۶۰۱/ اشخاص کی نظر بندی کے پیش نظر چالیس لاکھ نفوس والی ریاستی آبادی میں شیخ کی تحریک کوئی عوامی تحریک نہیں کہلاسکتی۔

اتفاق سے مہاراجہ مخالف عوامی شورش کے اُ ن ایام میں مشہور شاعر اورپاکستان کے قومی ترانہ کے خالق ابوالاثر حفیظؔ جالندھری سری نگر میں بہ نفس ِ نفیس موجود ہوتے ہیں۔وہ کشمیر کے طول وعرض میں عوام کی بے چینی اور سیاسی ہلچل دیکھ کر اندر کے شاعر کو اپنے جذبات ومحسوسات نظم کی صورت میں پیش کر نے کی تحریک دیتی ہے۔ اس نظم کو مہاراجہ کے مخالف عناصر دیواروں پر اشتہار کی صورت میں جگہ جگہ چسپاں کر تے ہیں،جس پر شخصی راج لال پیلا ہوجاتا ہے۔ حفیظؔ کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر کشمیر چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا جاتا ہے۔ حفیظؔ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے وداع کر کے لاہور پہنچ کر اپنی دو نظمیں۔۔۔”بیع نامہ ئ امرتسر“ اور”خون کے چراغ“۔۔۔ کے عنوان سے منصہ شہود پر لاتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں یہ دو تاریخی نظمیں:

شیر وادی میں دھاڑا گونج اُٹھے کوہسار

ہوگئے بیدار مزدور اور جاگے کاشت کار

چارسُو آزادی ئ جمہور کی سن کر پکار

ہوگئی برہم نشے میں نخوت ِ سرمایہ دار

عیش کے کانوں میں پیغام ِ اجل آنے لگا

کار وبارِ شہر باری میں خلل آنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ”بہی کھاتہ“ پچھتر لاکھ کے بیوپار کا

”بدمعاشی“ روپ جس نے بھرلیا سرکا رکا

بھاؤ یہ کنگلے گرادیں آج اُس بازار کا

کیوں کلیجہ پھٹ نہ جائے سیٹھ ساہوکار کا

یوں اگر آزادی، آزادی پکاری جائے گی

”لالہ جی“ منڈی میں اپنی ساکھ ماری جائے گی

وادیاں کہسار جنگل ندیاں پھل پھول اناج

ڈھورڈنگر آدمی ان سب کی محنت کام کاج

ہم کو پردادا سے ورثے میں ملا حسب ِ رواج

بیعہ نامہ دیکھ لو! سب ہے ا س میں اندراج

مال یہ سب ہم نے مارا ہے پچھتر لاکھ میں

ملک پر قبضہ ہمارا ہے پچھتر لاکھ میں

لُٹ گئی کشمیر کی جنت پچھتر لاکھ میں

بک گئی انسان کی قسمت پچھتر لاکھ میں

مردکا سرمایہ محنت پچھتر لاکھ میں

عورتوں کا جوہر ِ عصمت پچھتر لاکھ میں

ملک وملت قوم مال وجان پچھتر لاکھ میں

ہاں پچھتر لاکھ میں ہاں ہاں پچھتر لاکھ میں

اُدھر دلی میں نہرو جی کشمیر کی سنگین صورت حال پر بے چین ہیں۔اُنہیں احتمال ہے کہ کا نگریس کا مشن کشمیر شیخ عبداللہ کا سلاخوں کے پیچھے ہو نے سے چوپٹ ہوسکتا ہے۔ شیخ عبداللہ کی گرفتاری پر نہرو خاص طور تلملا اٹھتے ہیں کیونکہ یہ اُن کے گیم پلان سے متصادم بات ہے۔ انہیں دلی میں کسی پہلو چین نہیں آتا۔ آخرش اپنی ساری اہم ترین سیاسی مصروفیات ترک کر کے وہ کشمیر کی راہ لیتے ہیں،ا گرچہ کانگر یس کی اعلیٰ کمان اُنہیں ان نازک گھڑیوں میں سیاسی صلاح مشورے کے لئے دلی میں ہمہ و قت موجود رہنے کی فہمائشیں کر تی ہے مگر مستقبل بین چالاک کشمیری برہمن سب کچھ چھوڑ چھاڑکر سری نگر کا رخت ِسفر باندھتے ہیں۔