کشمیر کا بکروال قبیلہ

اس سال نومبر کا مہینہ آتے ہی غیر متوقع طور پر منقسم کشمیر کے وسیع علاقوں میں برفباری ہوئی جس سے وادی کشمیر میں پھلوں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا اور بدلتے موسم کے ساتھ سفر کرنے والے بکر وال بھی متاثر ہوئے۔میں بچپن سے ہی بکر والوں کے قافلوں کو آتا جاتا دیکھ کر ان کی آزاد اور قدرتی زندگی پر رشک کرتا تھا۔ یہ بکروال گرمیوں کے مہینے کشمیر کے پیر پنجال اور ہمالیہ کے بلند وبالا پہاڑی سلسلوں کی چوٹیوں پہ واقع گھاس کے بڑے میدانوں میں رہتے اور سردیاں پیر پنجال اور ہمالیہ کے پہاڑوں کے قریبی میدانی علاقوں میں گزارتے ہیں۔میرا دل کرتا کہ میں بھی ایک سیزن ان کے ساتھ انہی کی طرح سفر کروں اور گرمیوں میں ان کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں کے بڑے میدانوں( جسے مقامی زبان میں بہک کہتے ہیں) میں ان ہی کی طرح رہوں۔ لیکن بچپن کی یہ آرزو اب تک ایک حسرت کی طرح ہی چلی آ رہی ہے۔ ان کا مال و متاع بھیڑ ،بکرے اور گھوڑے ہوتے ہیں۔ رہنے کے لئے خیمے۔موسم بہار سے پہلے ہی وہ میدانی علاقوں سے پیر پنجال اور ہمالیہ کے پہاڑوں کی جانب اپناسفر شروع کرتے ہیں۔ان کے قافلے میں سب سے پہلے خواتین نظر آتی ہیں جو ان کے ذاتی سامان( خیمے،بستر،کپڑے ،کھانے پینے کا سامان) سے لدے گھوڑوں کے ساتھ چلتی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک خاص نسل کا کتا بھی ہوتا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ریچھ کا بھی مقابلہ کرتا ہے۔خواتین کا قافلہ اپنے باقی قافلے سے چند گھنٹے کے فرق سے آگے آگے چلتا ہے اورکسی مناسب جگہ پر رات قیام کرنے کے لئے اپنا ڈیرہ لگا کر کھانا پکانے کی تیاری کرتی ہیں۔ قافلے کے مرد بھیڑ ،بکریوں کے ریوڑ ہانکتے ہوئے شام کو جب رات بسر کتنے کے مقام پر پہنچتے ہیں تو خواتین نے ان کے لئے کھانا تیار کیا ہوتا ہے۔اگلی صبح سب سے پہلے خواتین تمام سامان گھوڑوں پہ لاد کر ریوڑ والے قافلے سے پہلے ہی آگے روانہ ہو جاتی ہیں۔ان بکروال خواتین کا لباس ان کی مخصوص ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

چھوٹی بچیاں اور ضعیف خواتین گھوڑوں پہ بیٹھ کر سفر کرتی ہیں جبکہ باقی خواتین گھوڑوں کی رسی پکڑے پیدل چلتی ہیں۔ان کے ساتھ موجود کتا سر جھکائے ،بے پرواہ انداز میں چلتا نظر آتا ہے لیکن اس کا اصل کام پہاڑوں اور میدانوں میں جنگلی جانوروں سے بچائو کا ہوتا ہے ۔ریوڑ ہانکتے ہوئے چلنے والے بکروال مرد اپنی لاٹھی اور سیٹی کی طرح کی مخصوص آواز سے بھیڑ ،بکریوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ایک ایک بھیڑ،بکری ان کی نظروں میں رہتی ہے ۔ اگر کبھی کوئی بھیڑ ،بکری گم ہوجائے تو وہ مخصوص آواز میں اسے پکارتے ہیں اور گمشدہ بھیڑ یا بکری ان کی آواز پہ جواب دیتی ہے۔ہر بکروال خاندان کا اپنا قافلہ ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ہر قافلہ ایک گھرانے کے چند ہی افراد پر مشتمل ہوتا ہے تاہم بعض بڑے گھرانوں کے قافلوں میں مردوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ بکروالوں کے قافلوں کو دیکھ کر ان کی معاشی حیثیت کا بھی اظہار ہوتا تھا۔ان میں غریب بکروالوں کے قافلے بھی نظر آتے اور صاحب حیثیت بکر وال بھی۔یہ فرق ان کے مال و اسباب اور ان کے لباس سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔

کشمیر میں بکروال قبیلہ اپنی منفرد ثقافتی شناخت کا حامل ہے۔ مختلف علاقوں میں آبادیوں کے اضافے اور خالی زمینوں کی قلت کی صورتحال میں سال میں دو بار سفر کرنے والے گوجر بکر وال قبیلے کے افراد کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان میں سے اکثر مختلف زمینی اور پہاڑی علاقوں میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں۔18ویں صدی کے ہندو ڈوگرہ دور حکومت میں بڑی تعداد میں گوجر بکر وال کشمیر سے جا کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں آباد ہو ئے۔سال میں دو بار طویل پیدل سفر کرنے والے بکر وال جڑی بوٹیوں کی پہچان رکھتے ہیں اور انہی سے اپنا علاج بھی کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے گوجر بکر وال اپنی گوجری زبان کے علاوہ کشمیری بھی بولتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں رہنے والے گوجر بکروالوں کو کشمیری زبان نہیں آتی۔1949میں جنگ کشمیر کے خاتمے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سیز فائر لائین کے قیام کے بعد بھی گوجر بکروال افراد کا مقبوضہ اور آزاد کشمیر آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سخت سے سخت تر پابندیوں کی وجہ سے مکمل بند ہو گیا۔حالانکہ اقوام متحدہ نے بھی ریاست کشمیرمیں ریاستی باشندوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے حق کو تسلیم کر رکھا ہے۔گرچہ گوجری کو زبان کے بجائے بولی کہا جاتا ہے تاہم گزشتہ چند عشروں میں محدود سطح پر گوجری تحریر کرنے کا کام بھی ہوا ہے۔گوجری شاعری ایک منفرد چاشنی اور حسن خیال سے مزیں ہے ۔تقریبا پینتیس سال قبل میں آزاد کشمیر کے ایک گیارہ بارہ سال کے ایک بکروال بچے مقصود سے ملا جسے سینکڑوں کی تعداد میں ماہئیے یاد تھے ۔بکر والوں کی شاعری کشمیر کے قدرتی حسن کا اظہار بھی رکھتی ہے۔کشمیر کلچرل اکیڈمی سرینگر نے گوجری زبان کی ترویج پر کام کرتے ہوئے کافی تعداد میں گوجری زبان میں کتابیں شائع کی ہیں۔کشمیر کلچرل اکیڈمی(سرینگر) نے قرآن پاک کاگوجری زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے شائع کیا ہے۔