کشمیر کے منقسم خاندانوں کا المیہ

پی ایف پی اسپیشل / فوٹو کریڈٹ : اعجاز احمد میر

1947 کے تقسیم ہند سے شروع ہونے والے تنازعہ کشمیر نے کئی خاندانوں کومنقسم کر رکھا ہے۔اںڈیا اور پاکستان کےمابین تعلقات کے اتار چڑھاؤ کا منقسم خاندانوں پر بھی بہت زیادہ اثر پڑتا رہا ہے لیکن حالیہ عرصے میں پاک بھارت تعلقات میں جو تلخی در آئی ہے اس کی سب سے زیادہ زک بھی ہندوستان اور پاکستان کے ان شہریوں پر پڑی ہے جن کی سرحد کے آر پار رشتہ داریاں ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی 'لائن آف کنٹرول کے نزدیکی قصبے چناری کے رہائشی اعجازمیر کا خاندان بھی تنازعہ کشمیر کی کوکھ سے جنم لینے دکھوں اور المیوں کی ایک زندہ کہانی ہے ان کے خاندان کی کئ نسلیں ہجرت اور تقسیم کے کرب سہ رہی ہیں -ان کے والد نے سری نگر میں آنکھ کھولی اور پلے بڑھے لیکن انھیں 1965 میں ہجرت کر کے آزاد کشمیر آنا پڑا جب کہ ان کے دو بھائی اور پانچ بہنیں مقبوضہ کشمیر ہی میں رہ گئے -


اعجاز میر کی شادی 2010 میں ان کی کزن کے ساتھ امید اور آس پر کی گئی کہ پرکھوں کی مٹی سے رشتے جڑے رہیں گےمگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا - اعجاز احمد کی اہلیہ اور بچے گزشتہ سال گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ابھی سری نگر گئے ہی تھے کہ پانچ اگست کے بعدبھارت نے کشمیر کے خصوصی حثیت ختم کرکے بد ترین کرفیو اور محاصرے کا نفاذ کر دیا جس کی وجہ سے وہ سری نگرہی میں مقید ہو کر رہ گۓ - خدا خدا کر کے جب کشمیر میں کرفیو کی پابندیاں قدرے کم کی گئیں تو اس سال مارچ میں وہ واپس آزاد کشمیر پہنچے یوں منقسم ریاست کی جبری تقسیم کی وجہ سے ذہنی اور جذباتی صد موں سے دوچار یہ خاندان اس لحاظ سے خوش قسمت ٹھہرا کہ جس دن انھیں وطن پہنچنے کا موقع ملا اس کے اگلے دن کرونا کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے زمینی رابطے بند کر لئے گئے-


شالیمار گارڈن سرینگر

ڈل جھیل کی سیر


اعجاز احمد کی دو پھوپھیاں حال ہی میں سری نگر میں وفات پا گئیں لیکن پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کی وجہ سے ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد اپنے پیاروں کو سفر آخرت پر الوداع کرنے اور لواحقین کا غم بانٹنے کے لیے نہیں پہنچ سکا کیونکہ ان کے راستے میں ہزاروں میل لمبی سرحد ہی نہیں کئی دہائیوں پر محیط پاک بھارت گنجلگ تعلقات کی پر پیج کڑیاں بھی ہیں جن کی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی ہے کیونکہ پلوامہ واقعے اور بالا کو ٹ حملے کے بعدگزشتہ سال سے پاک بھارتت علقات اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر ہیں -دونوں ملکوں کے سفارتی روابط دگرگوں ہیں اورفضائی او ر زمینی سفربھی کرونا اور سفارتی وجوہات کی وجہ سے بھی بندشوں کا شکار ہیں جس کی وجہ سے سرحد کے دونوں اطراف میں بٹے ہوۓ خاندانوں میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے -اس بارے میں بات کرتے ہوۓ اعجاز میر کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑے ٹریجڈی ہے کہ کشمیر کی سرحد کے آر پار بٹےہوۓ ہمارے جیسے خاندان ایک دوسرے کے جنازوں میں شریک نہیں ہو سکتے -ایک دوسرے کی خوشیاں نہیں دیکھ سکتے -

ماضی میں دو ہزار تین کے پاک بھارت امن معائدے کے نتیجےمیں منقسم خاندانوں کو ملانے کےلئے خاص طور پر شروع کی گئی مظفرآباداور سری نگر کے مابین بس سروس کی وجہ سےپاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی 'لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف آباد کشمیری خاندانوں کو کسی حد تک ایک دوسرے سے ٹوٹے رشتے جوڑنے اور رابطے بحال کرنے کا موقع ملا تھا تاہم بھارت نے اس سروس کو بھی معطل کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے روابط بالکل منقطع ہو گۓ ہیں -اس حوالے سے بات کرتے ہوۓ اعجاز احمد میر نے کہا کہ مظفرآباد سری نگر کی وجہ سے یہ فائدہ ضرور ہو ا تھا کہ کنٹرول لائین کے آر پار رہنے والوں کو اپنے فوت ہونے والے رشتہ داروں کی قبروں پر جا کر دعا کرنے کا موقع مل جاتا تھا مگر وہ اب اس سے بھی محروم ہو گئے ہیں -

سرحدی علاقے چناری کے اعجاز میر اور ان کے خاندان کی یہُ دکھ بھری داستان اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ 1947 سے شروع ہونے ریاست کی جبری تقسیم سے جنم لینے والے المیوں کا سفر جاری ہے -خونی لکیر کے آر پار بسنے والےکشمیریوں کی کئی نسلیں اپنے پیاروں سے ملنے کا خواب آنکھوں میں لئے چل بسیں -اس وقت جب کہ پاکستان اور ہندوستان کے نفرتوں اورکدورتوں کی دیواریں کھڑی ہیں یہ کہنا بہت دشوار ہے کہ سرحد کے آر پا ر بٹّے خاندانوں کو اپنے پیاروں سے بلا روک ٹوک ملنے کا کبھی موقع ملے گا -