جگموہن سنگھ کی سازش

ہمیں کافی وقت تک ایک غلط فہمی تھی ۔۔۔۔جو جگموہن کی کتاب کشمیر چنگاری سے شعلوں تک پڑھنے کے بعد پیدا ہوئی تھی ۔۔۔اور وہ غلط فہمی یہ تھی کے ۔۔۔وادی کے اندر چلنے والی مسلح جدوجہد جو 1990 سے 1995 تک اپنے عروج پر تھی ۔۔۔تب وادی کے اندر عملی طور پر مسلح گروہوں کی حکومت تھی ۔۔۔لوگ آزاد دانہ طور پر خونی لکیرکے آر پار آتے جاتے تھے ۔۔۔تب وادی کے ہندو پنڈت کشمیریوں کو بزور اُن کے گھروں سے جموں اور دہلی کی جانب کُوچ کرنے پر مجبور کیا گیا۔۔۔

حالانکہ حقیتاً یہ جگموہن ہی کی شاطرانہ پالیسی کا حصہ تھا ۔۔۔کے وہ کشمیریت کو فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کا رنگ دینا چاہتا تھا۔۔۔۔اس لیے اُس نے کشمیری پنڈتوں کو بھولا پھسلا کر گھروں سے نکالا۔۔۔اُن کو یہ بتلایا گیا کے کشمیر میں چل رہی عسکریت کو دبانے کے لیے ڈیڈھ لاکھ کشمیری نوجوانوں کا شہید کیا جانا اشد ضروری ہے ۔۔۔۔اس لیے آپریشن کی وجہ سے ردِعمل کے طور پر مقامی پنڈت عتاب کا شکار ہونگے۔۔۔۔اس طرح وادی میں موجود قریب قریب سارے ہی پنڈت مختلف بہانے بنا کر چُپکے چُپکے سے نکل گئے تھے ۔۔۔جن پر بعد میں جموں اور دہلی کے عارضی کیمپوں میں قیامت گزری ۔

بنیادی طور پر کشمیر کے پنڈت یہاں ہی کے ہزاروں سالہ قدیمی سکونتی باشندے ہیں ۔۔۔اور کشمیری مقامی مسلمانوں کی اور ان پنڈتوں کی نسل ایک ہی ہے ۔۔۔جب شاہ ہمدان اپنے تبلیغی قافلے کے ہمراہ وادی میں اُترے تو یہاں کی عوام کی بڑی تعداد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئی ۔۔۔مقامی حکمران رنچن شاہ بھی اسلام قبول کر گئے ۔۔۔جنکا نام سلطان صدر الدین التمش رکھا گیا ۔۔۔جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا وہ بدستور اپنے عقائد پر قائم رہے ۔۔۔جو کشمیری پنڈت کہلاتے ہیں ۔۔۔اور ہندووں میں سب سے مقدس نسل کہلاتے ہیں ۔۔۔پنڈت نہرو اور خود جگموہن بھی اسی نسل سے تھے ۔۔۔۔

غالِباً 1997 کے روزنامہ چٹان سرینگر میں ایک کشمیری پنڈت کا جموں کے کیمپ سے لکھا گیا طویل خط بھی چھپا تھا ۔۔۔۔جس میں اُس نے جگموہن کی سازش کو بینقاب کیا تھا ۔۔۔اس خط کی بعد میں بہت ساری کُتب ۔۔رسائل اور اخبارات میں جم کر چرچا بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔