الحاق پاکستان : مفروضے اور مغالطے

6 July 2010

اخباری خبر کے مطابق آزاد کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر عتیق احمد خان صاحب نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی اُن کی جماعت ” ہفتہ الحاق ِ پاکستان“ منائے گی۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے اُنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ۳۱ جولائی کو مسلمانوں نے اذان دینے اور نماز جمعہ کے خطبے کی اجازت نہ ملنے اور مسلمانوں کے دیگر حقوق پر پابندی کے خلاف مطاہرہ کیا جس پر ڈوگرہ فوج نے فائرنگ کی اور ۲۲ بائیس نوجوانوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر دو قومی نظریے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ اس مسلم کانفرنس نے ۹۱ جولائی کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی اور یہ کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔

سردار عتیق احمد آزاد کشمیر کے تجربہ کار اور سینئر سیاستکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور سیاستکاروں کے بیانات و اعلانات اور دعووں میں حقائق اور سیاست دونوں کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے۔اسی اصول کے تحت آج کے کالم میں مسلم کانفرنس کے صدر کی طرف سے مذکورہ بالااعلان اور دعووں کو پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کوشش کا مقصد جہاں قارئین کو تاریخی حقائق سے روشناس کروانا ہے وہاں یہ واضع کرنا بھی ہے کہ کسطرح سیاست کار تاریخ کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے مسخ کرتے ہیں۔ آئیے پہلے ۳۱ جولائی کے واقعے کو تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں۔

۳۱ جولائی ۱۳۹۱ کو درحقیقت عبدالقدیر نامی ایک شخص کے مقدمے کی کاروائی سُننے کے لیے ہزاروں کشمیری جیل کے باہر جمع ہوئے تھے۔ لیکن جب مہاراجہ انتظامیہ نے ہجوم سے مقدے کی کاروائی کو خفیہ رکھنے کے لیے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کرنے کا فیصلہ کیا تو ہجوم اشتعال میں آگیا اور کچھ مظاہرین نے جیل کی حدود کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس پر ریاستی سپائیوں نے گولی چلا کر بائیس کشمیری شہید کر دیے۔ عبدالقدیر پر الزام تھا کہ اس نے چند روز قبل ریاست کی پہلی عوامی تحریک کے ایک جلسہ عام میں ریاستی حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے حاضرین کو بغاوت پر اکسایا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تحریک میں توئین قران، عید کے خطبے پر بندش اور دیگر مذہبی حقوق کے مطالبات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم یہ پوری تحریک ان مذہبی مطالبات پر مشتمل نہیں تھی۔ اس میں مسلمانوں کے معاشی و سیاسی حقوق کو بھی بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ عبدالقدیر کون تھا؟ کہاں سے آیا اور کیسے اور کیوں اس نے وہ تقریر کی؟ تیہ سوال بے پناہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں لیکن یہاں ان پر بحث کی گنجائش نہیں۔

اس واقعے کا دو قومی نظریے سے کیا تعلق ہے؟

دو قومی نظریہ درحقیقت برطانوی راج کے خلاف برطانوی ہند میں قومی آزادی کے تحریک کی فرقہ وارانہ خطوط پر نظریاتی تقسیم کا نام ہے۔ جو تحریک پہلے برطانوی راج سے آزادی کی تحریک تھی وہ جب مذہبی بنیادوں پر مسلم اور غیر مسلم کی تحریک بن گئی تو یہ دو قومی نظریہ کہلایا جس کے مطابق ہندوستان میں صرف ایک ہندوستانی قوم نہیں تھی بلکہ دو قومیں تھیں۔ ایک مسلم اور دوسری غیر مسلم۔دوسرے الفاظ میں اس نظریے کے مطابق قوم کی تعریف مذہبی بنیادوں پر کی گئی تھی۔ اس نظریے سے دیکھیں تو دو قومی نظریے کی بنیاد اس وقت پڑی تھی جب ہندوستان کو مسلمانوں نے فتح کیا اور یہاں مسلم راج قائم ہوا۔ اور کشمیر چونکہ کبھی بھی ہندوستان کا قانونی حصہ نہیں رہا اور نہ ہی برطانوی راج کے دوران یہ برطانوی ہند کا حصہ بنا لہذا کشمیر کو دوقومی نظریے کا حصہ قرار دینا تاریخی اعتبار سے علمی حقائق پر مبنی دعوی نہیں بلکہ ایک سیاسی دعوی ہے جس کی بنیاد مسخ شدہ حقائق پر ہے۔

مسلم کانفرنس

مسلم کانفرنس کے اکابرین اکثر یہ دعوی کرتے ہیں کہ مسلم کانفرنس ریاست کی پہلی سیاسی جماعت تھی۔ یہ دعوی درست اور تاریخی حقائق سے ثابت ہے کہ مسلم کانفرنس ریاست کی اولین سیاسی جماعت تھی۔ تاہم وہ مسلم کانفرنس یہ نہیں تھی جو آج آزاد کشمیر میں برسرِ اقتدار ہے اور جس کے صدر محترم عتیق احمد خان ہیں۔ ۲۳۹۱ میں قائم ہونے والے مسلم کانفرنس کو۸۳۹۱ میں اس کی مجلس عاملہ اور عوامی کونسل کے ارکان کی بھاری اکثریت کے ووٹوں سے نیشنل کانفرنس میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس فیصلے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں چوھردی غلام عباس بھی شامل تھے جنہوں نے مذکورہ اجلاس میں جو کہ تین دن جاری رہا تھا نام کی تبدیلی کی قرار داد کے حق میں تقریر کرتے ہوئے یہ تاریخی ارشادات فرمائے تھے کہ جب ریاست میں پہلی سیاسی جماعت قائم کی گئی اس وقت ریاست کی سیاست ایک بچے کی ماند تھی جس کو اس کی اس وقت کی جسامت کے مطابق لباس پہنایا گیا تھا۔لیکن اب یہ سیاست جوان ہو چکی ہے اور اب اس کو قومی سیاست کا لباس پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس قومی لباس کا نام آل جموں کشمیر نیشنل کانفرنس رکھا گیا اور چوہدری غلام عباس اس کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے۔ تاہم شیخ عبداللہ کی قدر آور شخصیت بے پنا مقبولیت اور آجاراہ دارانہ طرز سیاست کے ردعمل میں چوہدری صاحب نیشنل کانفرنس کے اندر اپنا مقام برقرار نہ رکھ سکے اور دونوں مرکزی لیڈروں میں کشیدگی بڑھتی گئی۔ دوسری طرف پنجاب کے مسلم لیگی رہنما بھی شیخ عبداللہ کی قوم پرستانہ اور سیکولر و سوشلسٹ سیاسی نعرے بازی سے نالاں تھے لہذا اُنہوں نے چوہدری غلام عباس کی سربراہی میں دوبارہ مسلم کانفرنس کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔ موجودہ مسلم کانفرنس اس دوبارہ قائم ہونے والی جماعت کا تسلسل ہے جو کہ سر ظفر اللہ خان جیسے مسلم لیگیوں نے قائم کی تھی۔

مسلم کانفرنس کی قراد دار الحاق پاکستان

مہاراجہ کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران جب مسلم کانفرنس کی قیادت بشمول اس کے سربراہ چوہدری غلام عباس اور سیکرٹری اللہ رکھا ساغر پابند سلاسل تھے تو ۱۱ جولائی ۷۴۹۱ کو جماعت کے قائم مقامی صدر چوہدری حمیداللہ اور پروفیسر اسحاق قریشی نے قائد اعظم سے ملاقات کی اور اُنہیں ریاست کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے رہنمائی کی درخواست کی۔ اس ملاقات کا احوال مُجھے خود پروفیسر اسحاق قریشی مرحوم نے اپنی زبانی سنایا جن کے ساتھ میں نے برطانیہ کے شہر اولڈہم میں تقریبا دو ہفتے گزارے اور بیس گھنٹوں پر مشتمل ان کی گفتگو ریکارڈ کی۔ پروفیسر اسحاق قریشی نے بتایا کہ چوہدری حمید اللہ اور ان کی قائد اعظم کے ساتھ یہ ملاقات بانی پاکستان کی گورنر جنرل کی حیثیت سے پہلی ملاقات تھی۔ اس ملاقات کی تفصیلات کی یہاں گنجائش نہیں تاہم موضوع کی مناسبت سے اُنہوں نے بتایا کہ ہم نے قائد اعظم کو کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ ہم مہاراجہ کے خلاف تحریک چلا کر ایک بہت بڑی سیاسی غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ قائداعظم نے کہا کہ مہاراجہ گاندھی اور نہرو وغیرہ کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا اور وہ بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تاہم اگر آپ لوگوں نے اسے تنگ کیا تو وہ چاروناچار بھارت سے الحاق پر مجبور بھی ہوسکتا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ آپ مہاراجہ کی طرف سے خودمختار رہنے کی خواہش کے اظہار کی حمایت کریں یہ سب کے لیے بہتر رہے گا۔ بعد ازاں قائد اعظم نے اس ہی مفہوم کا ایک بیان پریس کے لیے ہمیں دیا اور کہا کہ یہ فیض احمد فیض کو دے جائیں جو اس وقت روزنامہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔ قریشی صاحب کے بقول ہم نے وہ بیان فیض صاحب تک پہنچایا اور واپس کشمیر پہنچ کر اٹھارہ ۸۱ جولائی کو مُسلم کانفرنس کی قیادت کا اجلاس بلایا جس میں اکثریت رائے سے خودمختاری کی قرار داد منظور کی گئی۔ تاہم کچھ رہنما اس پر خوش نہیں تھے اور اُنہوں نے کہا کہ نہیں پہلے ہمیں قائد اعظم سے ملوائیں ہم ان کی زبانی یہ سُنے بغیر خودمختاری کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے جائیں اور خود جا کر مل لیں۔ لہذا دوسرے دن کچھ رہنماوں نے سردار ابراہیم مرحوم کے گھر ایک اور میٹنگ کی اور اس میں الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ یوں یہ دعوی کرنا کہ ۹۱ جولائی ۷۴۹۱ کو سردار ابراہیم کی رہاش گاہ پر منظور ہونے والے الحاق پاکستان کی قرار داد اس جماعت کی مُتفقہ قرار داد تھی تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ درحقیقت نئی والی مسلم کانفرنس میں بھی ہمیشہ سے خودمختار کشمیر کی حمایتی سوچ و فکر رکھنے والے رہنما موجود رہے ہیں۔

قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا؟

یہ دعوی موجودہ مسلم کانفرنس کے بزرگ رہنما اور سپریم ہیڈ سردار عبدالقیوم سے لے کر مسلم کانفرنس کے دیگر زعما اکثر اپنی تحریروں اور تقریروں میں دہراتے رہتے ہیں لیکن آج تک کوئی رہنما اس کے ثبوت میں کوئی مستند حوالہ نہیں پیش کر سکا۔اس سلسلے میں عام طور پر دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ ایسا اُنہوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ مگر عام فہم سی بات ہے کہ جب بابائے پاکستانی قوم قائداعظم جیسی بڑی شخصیت کشمیر جیسے انتہائی اہم مسئلے پر ایسی اہم ترین بات کرے گی اور وہ بھی اخبار نویسوں سے تو وہ کم از کم کسی ایک اخبار میں تو چھپے گی نا۔ مگر آج تک ایسا کوئی اخباری ثبوت کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ لہذا یہ دعوی ٰبھی تاریخی اعتبار سے میری معلومات کے مطابق درست نہیں ہے۔

تاریخ کو اس طرح سے کیوں مسخ کرتے ہیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم کانفرنس کے عمائدین اور رہنما تاریخ کو اس طرح سے کیوں مسخ کرتے ہیں؟ سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان کی محبت یا الحاق پاکستان سے وفاداری سے زیادہ ذاتی سیاسی مفادات کارفرما ہیں۔ چونکہ آزاد کشمیر پر پاکستان کا قبضہ اور اختیار ہے اور ہمارے یہ کشمیری لیڈر پاکستانی غلبے اور اختیار کے سامنے بے بس ہیں اس لیے وہ پاکستانی حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے بے بنیاد دعوے کرتے ہیں اور تاریخی حقائق کی بجائے جذباتی نعرے بازی کے ذریعے سیاسی کمائی کرتے ہیں۔ٹھیک اس وقت سردار عتیق احمد خان صاحب کی طرف سے الحاق پاکستان کا ہفتہ منانے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ علی احمد شاہ اور ممتاز راٹھور مرحومین کے بعد فاروق حیدر صاحب شاید تیسرے سربراہ حکومت ہیں جو آزاد کشمیر کے حقوق کے حوالے سے مسکینی، گداگرانہ، تابعدارانہ اور اطاعت گزارانہ زبان کی بجائے حقوق اور برابی کی زبان استعمال کر رہے ہیں اور آزاد کشمیر کے ان معاشی وسائل پر اپنا حق برابری کی بنیاد پر جتانے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی حکومت کو باوقار بنانے کی خواہشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں جس کے لیے وہ آزاد کشمیر کے معاملات میں وزارت امور کشمیر اور پاکستانی نوکر شاہی کی بے جا مداخلت کے خاتمے اور ایکٹ چوہتر میں ترمیم کے مطالبات بھی کر رہے ہیں۔

چونکہ مسلم کانفرنس کے اندر وہ سردار عتیق احمد خان صاحب کی روایتی برتری اور آجارہ داری کو بالواسطہ تسلیم نہیں کر رہے اس لیے بھی سردار صاحب الحاق کا کارڈ استعمال کررہے ہیں۔ جبکہ عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر ہونے والی پیش رفت سے صاف نظر آرہا ہے کہ اب خود پاکستان نے بھی الحاق کی رٹ کو چھوڑ کر خودارادیت کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے تاہم پاکستانی حکمرانوں کی خواہش ہے کہ کشمیری حکمران خودارادیت کے نام پر الحاق کا مقدمہ آگے بڑھائیں اور عالمی سطح پر سفارتکاری کے میدان میں اُن کی پھنسی ہوئی جان چھڑاہیں۔ یوں آج کی مسلم کانفرنس کے اندر بھی دو گروپ موجود ہیں ایک فاروق حیدر کی سربراہی میں آزاد کشمیر کے حقوق اور وقار کے لیے ریاستی تشخص اور اندرونی خود مختاری کے تحفظ کو بھی مسلم کانفرنس کی سیاست کا حصہ بنا رہا ہے اور دوسرا الحاق کے نام پر پاکستان کے حکمران طبقوں کی بے جا مداخلت کو جاری رکھنے اور بدلے میں مسلم کانفرنس اور آزاد کشمیر کی حکومت میں اپنے مفادات کی رائیں ہموار کر رہا ہے۔

ایسے میں ایک تجویز یہ ہوسکتی ہے کہ خودمختار کشمیر کی حامی تمام سیاسی قوتوں کو عوام کے حقیقی اور ٹھوس مسائل کو خودمختار تحریک کے ساتھ جوڑ کر سولہ اگست یا چار اکتوبر یا جس تاریخ پر بھی اتفاق ہوسکتا ہو اس کی مناسبت سے ہفتہ خودمختاری بنانا چاہیے اور الحاق پاکستان کے حوالے سے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں اور اس سے منسلک تمام مفروضوں اور مغالطوں کو کشمیری عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کی مُہم چلانی چاہیے۔