گلگت بلتستان میں عوامی حقوق کا سوال اور مسئلہ کشمیر

عوامی سیاست کے نظریے سے دیکھیں تو متحدہ ریاست کشمیر میں جدید عوامی سیاست کا " ظہور " ۱۹۳۰ کے عشرے میں ہوا تھا ۔ تب سے ۱۹۴۷ تک اس سیاست کا مرکز ومحور صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر ہی رہا ۔ تاہم اس عوامی سیاست کے نتیجے میں جو ریاستی اسمبلی وجود میں آئی اس میں لداخ (جس میں بلتستان بھی شامل تھا ) اور گلگت کی نمائندگی بہرحال موجود تھی۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس ظاہر ہے کہ وادی اور جموں میں زیادہ متحرک تھیں لیکن وہ دونوں " آل " جموں کشمیر جماعتیں تھیں صرف جموں کشمیر کی نہیں ۔ اگر ریاست میں پاکستان اور بھارت فوجی مداخلت کے ذریعے اس کو تقسیم کرکے قبضہ نہ کرتے تو یقیناً لداخ اور گلگت میں بھی عوامی سیاست فروغ پاتی اور کشمیری تشخص جو ریاست کا سیاسی تشخص بن کر اُبھر رہا تھا نئے کشمیر کی تعمیر و تشکیل کے ذریعے فروغ پاتا ۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسا نہ ہوا اور کشمیری ریاست کے اندر قوم و ریاست کا عمل بھارتی و پاکستانی قوم پرستی اور ریاستی تسلط تلے تقسیم در تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ مسخ بھی ہوتا رہا۔

ریاست کی تین حصوں میں تقسیم کے باعث بھارتی مقبوضہ کشمیر ، پاکستانی مقبوضہ جنوبی کشمیر ( آزاد کشمیر ) اور پاکستانی مقبوضہ شمالی کشمیر ( گلگت و بلتستان ) میں روابط بھی مقطع ہو گئے ۔ اس کے نتیجے میں معلومات و تعلیم و آگاہی کے چینل پاکستانی اور بھارتی سرکاروں کے ہاتھ آگئے ۔

اُنہوں نے منقسم کشمیر کے ایک طرف پاکستانی پروپیگنڈے اور دوسری طرف بھارتی پروپیگنڈے کے ذریعے نئے تشخص اور نئی سیاستوں کو پیدا کیا اور پروان چڑھایا ۔ تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے ریاست کے متعلقہ خطوں کو مکمل طور پر ضم نہ کیا بلکہ ان کو ایک منفرد خصوصی حیثیت دیے رکھی۔ اس پر کشمیری خودمختاری پسندوں کا موقف یہ ہے کہ اس کی وجہ دونوں کی طرف سے پوری ریاست پر اقوام متحدہ کے ذریعے قبضہ کرنے کی خواہش تھی نہ کہ کشمیریوں کے منفرد تشخص کا احترام ۔ تاہم یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسئلہ اقوام متحدہ میں ہے اور بھارت و پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو تو جھٹلاتے رہے ہیں مگر اقوام متحدہ کے مبصروں می موجودگی میں ان حصوں کو ضم نہیں کر سکتے تھے۔ وجہ جو بھی ہو اس صورت حال نے وادی اور آزاد کشمیر میں " کشمیری سیاسی تشخص " کو اور دیگر علاقوں میں ایک منفرد ریاستی تشخص کو زندہ رکھا ہے ۔ تاہم یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم کرنا لازمی ہے کہ اس دوران نیشنل کانفرنس و مسلم کانفرنس نے بالترتیب بھارتی اور پاکستانی حکمرانوں کے تابع پوری ریاست کی وحدت اور تشخص کو پس منظر میں دھکیل دیا۔

اس خلاء میں جو خود مختار کشمیر کی سیاست اُبھری اس نے بھی نعروں کی حد تک تو پوری ریاست کی بات کی مگر عملی طور پر " آزاد " کشمیر اور وادی کشمیر تک ہی محدود رہی۔ جموں و لداخ کو تو بالکل ہی نظر انداز کیا تاہم گلگت بلتستان میں محاذ رائے شماری ، نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور مقبول بٹ کی قیادت میں این ایل ایف اور بعد ازاں امان اللہ خان کی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ شوکت مقبول و عارف شاید و کرنل وجاہت وغیرہ کی قیادت میں " آپنا " نے کمزور ہی سہی مگر ایک رابطہ قائم رکھا ۔

اس وقت ریاست میں تین حکومتیں اور تین انتظامی ڈھانچے موجود ہیں جو اپنے سرکاری ناموں کے مطابق درج ذیل ہیں :

۱۔ جموں اورکشمیر ۲۔ آزاد جموں و کشمیر ۳۔ گلگت بلتستان

اس کے علاوہ لداخ ہل کونسل بھی ہے جبکہ جموں میں مقامی اسمبلی کی مانگ طویل عرصے سے نہیں سُنی جا رہی۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ خود مختار کشمیر کی حامی قوتیں عملی طور پر اپنے اپنے مخصوس جغرافیائی اور علاقائی دائروں تک محدود ہیں اور تقسیم سے پہلے نیشنل کانفرنس اور تقسیم کے بعد ۱۹۸۰ کی دہائی میں متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سوا کسی جماعت نے ریاست کے اندر ثقافتی اور جغرافیائی تشخص اور اختیار سے متعلق سوال کو حل کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب گلگت بلتستان ، جموں اور لداخ میں کشمیری تشخص کو یہ کہہ کر سرے سے مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس کا مطلب وادی کشمیر ہے ۔ ظاہر ہے اس میں بھارتی اور پاکستانی سرکاروں کا بھی ہاتھ ہے مگر ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ اس میں کشمیر کی وحدت اور خودمختاری کی سیاست کی نظریاتی و سیاسی و معاشی پسماندگی یعنی غربت کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔

یہی وجہ ہی کہ اب گلگت بلتستان کی ریاست سے علیحدگی کے مطالبات پر خود مختار و متحدہ ریاست کشمیر کے پرچارکوں کی طرف سے وہی رد عمل دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے جو بھارت اور پاکستان کے حکمران کشمیر کے حوالے سے ظاہر کرتے چلے آرہے ہیں۔ یعنی گلگت بلتستان ریاست کا اٹوت انگ ہے۔ اس کی علیحدگی کا سوال غداری ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اگر اسطرح کی دھمکیوں اور عملی قتل عام کے باوجود بھارت و پاکستان ریاست کے کشمیریوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے تو خود مختار کشمیر والے اس رویے کے ذریعے ریاست کو متحد ظاہر ہے کہ نہیں رکھ سکتے۔ مگر ٹھیک اس وقت خود مختار کشمیر والوں کو گلگت بلتستان ، جموں اور لداخ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟ اس کے لیے ایک تجویز اس کالم کے نچوڑ میں پیش کی گئی ہے شاید اس سے خودمختار و متحدہ اور جمہوری کشمیر کے لیے برسر پیکار کشمیریوں کو کچھ مدد مل سکے۔

میری تجویز جو کہ میں نےکشمیر مسئلے کے جمہوری اور منصفانہ حل کے لیے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز اور کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات و سیاست اور منشوروں سے کشید کی ہے اس کے چیدہ چیدہ نقاط درج ذیل ہیں :

۱۔ ریاست کے سب حصوں میں تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے بشمول مقبول بٹ کے جسد خاکی ، افضل گورو اور سزائے موت کے منتظر دیگر کشمیریوں کو جنہیں مشکوک عدالتی کاروائیوں اور پولیس کی غنڈا گردی کے ذریعے مجرم قرار دیا گیا

۲ ۔ پاکستان و بھارت کی فوجیں شہری علاقوں سے دور ہٹا لی جائیں اور دونوں کی قید یا علم میں جو بھی ریاستی باشندے ہیں اُن کو فوری رہا کیا جائے اور جن کو شہید کر دیا گیا ہے اُن کے لواحقین کو اس کی خبر کی جائے۔

۳۔ تمام ریاستی باشندوں کو ریاست کے اندر آنے جانے اور تجارت کرنے کی مکمل آزادی ہو اس کے لیے فوری طور پر تمام روایتی راستے کھولے جائیں اور باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا کارڈ کی شکل میں جاری کیا جائے۔

۴۔ نشرواشاعت اور ملازمت کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط اور پابندیوں کا فوری وطور خاتمہ کیا جائے

۵۔ نظیم سازی، سیاسی طور پر انتخابات میں حصہ لینے اور مُہم سازی کے لیے بھارتی آئین یا پاکستان سے الحاق سے وفاداری جیسی آمرانہ اور غیر جمہوری شرائط کا بھی فوری وطور پر خاتمہ کیا جائے

۶۔ ریاست میں پانچ مقامی اسمبلیاں قائم کی جائیں جن میں وادی کشمیر یا کاشر اسمبلی، جموں اسمبلی، لداخ اسمبلی، آزاد کشمیر اسمبلی اور گلگت بلتستان اسمبلی شامل ہیں ۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات جس حد تک ممکن ہو ایک ہی وقت میں منعقد کروائے جائیں اور ان میں کوئی بھی کشمیری بغیر کسی امتیاز و تفریق کے حصہ لینے کا مجاز ہو ۔

۷ ۔ ان اسمبلیوں کو یہ حق حاصل ہو کہ پوری ریاست کا جو بھی آخری فیصلہ ہو یہ اسمبلیاں مقامی طور پر خود مختار رہیں گی چاہے ریاست خود مختار رہے، بھارت میں شامل ہو یا پاکستان میں یا اس کا آخری حل کسی قسم کی تقسیم کی شکل میں سامنے آئے۔

۸ ۔ ان اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد ریاستی اسمبلی کے لیے ریاست بھر میں انتخابات ہوں اس واضع مینڈیٹ کے ساتھ کے اس اسمبلی کو ریاست کے مُستقبل کے بارے میں مذاکرات کرنے کا اختیار حاصل ہو گا ۔ ان انتخابات میں شرکت کے لیے بھی ریاستی باشندوں پر کسی قسم کی کوئی قدغن یا شرائط مسلط نہیں ہونی چاہیں ۔

ظاہر ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور سارے عمل کو صاف و شفاف اور منصفانہ رکھنے کے لیے مختلف طرح کے نگران و انتظام و انصرام کی ضرورت ہو گی جن پر مذکورہ راہ عمل پر اسولی اتفاق اور صلاح مشورے سے مزید غور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ جتنے بھی ذرائع اور وسائل جس کے پاس بھی موجود ہیں ان کے ذریعے اس تجویز کو ریاست کے سب حصوں اور تمام سیاسی جماعتوں اور نظریات کے حامل باشندوں تک پہنچایا جائے اور ان کی رائے سے اس کو " ریاستی ڈیمانڈ" کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ ایک تو ریاستی کی نمائندگی کا مسئلہ حل ہو سکے اور دوسرے ریاست کے تمام باشندوں کو اس کے مستقبل کے فیصلے میں شریک کیا جا سکے ۔