گلگت بلتستان کا معاملہ

آج کل ہر جگہ گلگت بلتستان کے مستقبل کے سوال پر گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ گفتگو صرف گلگت بلتستان کے اندر تک محدود نہیں‘ اس کا دائرہ گلگت بلتستان سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کے ایوان اقتدار سے لے کر مختلف سیاسی پارٹیوں کے فیصلہ ساز اداروں تک حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران گلگت بلتستان پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ یہ معاملہ بھارت میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ پاکستان میں ان علاقوں کو صوبہ بنانے کے حوالے سے ہونے والے صلاح مشورے کی خبر بھارتی میڈیا میں ایک بڑی بریکنگ نیوز رہی۔ عام دھارے کے میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی یہ ''ٹرینڈنگ‘‘ موضوعات میں سے ایک رہا۔ علاقائی کے علاوہ عالمی سطح پر بھی گلگت بلتستان پر گفتگو ہوئی۔ اس پر کئی مذاکرے اور کانفرنسیں ہوئیں۔

گلگت بلتستان کی صورت حال اور اس کے مستقبل پر ہونی والی یہ بحث نئی نہیں۔ ان علاقوں کے مستقبل کے تعین کی بحث گلگت بلتستان کے اندر تو گزشتہ ستر سال سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے‘ لیکن کچھ خاص ادوار میں یہ بحث کافی زور بھی پکڑتی رہی۔ ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی ان علاقوں میں ذاتی دلچسپی اور خاص توجہ کی وجہ سے اس بحث میں کافی تیزی آئی تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو گلگت بلتستان کے مستقبل کے سوال میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے اُس وقت گلگت بلتستان کے اندر سٹیٹ سبجیکٹ قانون، اور انسانی حقوق کے حوالے سے جو اقدامات کیے تھے، ان کی وجہ سے یہاں کے مقامی حلقوں اور ریاست جموں و کشمیر کے دیگر حصوں میں اس پر گرماگرم بحث ہوتی رہی تھی۔ آگے چل کر 1974 میں ذوالفقارعلی بھٹو نے ان علاقوں سے ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا اور ان علاقوں کا نام بدل کر پاکستان کے شمالی علاقہ جات یا ''ناردرن ایریاز آف پاکستان‘‘ کا نام دے دیا۔

نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی طرف سے ان علاقوں کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا گیا کہ نہ صرف ان علاقوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیاں دی جائیں گی، بلکہ ان کی قانونی و آئینی حیثیت کا تعین بھی کیا جائے گا۔ بعد ازاں اکیسویں صدی کے اوائل میں پاکستان کی مختلف وفاقی حکومتوں کی طرف سے گلگت بلتستان کے بارے میں کئے گئے اقدامات کی وجہ سے ان علاقوں کے مستقبل پر بحث جاری رہی۔ 2009 میں گلگت بلتستان کے بارے میں سیلف گورننس آرڈر پاس کیا گیا، جس کا بیان کردہ مقصد ان علاقوں کو جمہوری حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی آئینی حیثیت کا تعین کرنا بھی تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں دیگر صوبوں کی طرز پر قانون ساز اسمبلی، گلگت بلتستان کونسل، وزیر اعلیٰ اور گورنر وغیرہ کے عہدے تخلیق کیے گئے۔ اس طرح ان علاقوں کو باقاعدہ صوبہ بنائے بغیر ایک صوبہ نما ''سیٹ اپ‘‘ دینے کی کوشش کی گئی‘ مگر اس اقدام سے نہ تو ان علاقوں کی آئینی حیثیت کا ٹھوس تعین ہو سکا اور نہ ہی مقامی لوگوں میں یہ ''سیٹ اپ‘‘ قابلِ ذکر مقبولیت حاصل کر سکا۔ یہ ''سیٹ اپ‘‘ آگے چل کر 2018 میں ایک صدارتی حکم کے ذریعے بدل دیا گیا۔ اس صدارتی آرڈیننس کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو گلگت بلتستان اسمبلی کا نام دے دیا گیا۔ گلگت بلتستان کونسل کی حیثیت بدل کر اس کو مشاورتی کونسل کا درجہ دیا گیا اور وفاق پاکستان کے ساتھ اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کے تحت گلگت بلتستان اسمبلی کو مرکزی فہرست میں شامل اڑسٹھ معاملات کے علاوہ تمام معاملات پر قانون سازی کا اختیار دے دیا گیا‘ مگر اس سے بھی اس خطے اور یہاں کے عوام کا مسئلہ حل نہ ہو سکا اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے جمہوری حقوق اور ان کے مستقبل کا سوال بدستور موجود رہا۔ موجودہ حکومت نے اس سوال کا جواب گلگت بلتستان کو پاکستان کا عارضی یا مستقل طور پر پانچواں صوبہ بنانے کی تجویز کی شکل میں پیش کیا، جس پر اس وقت بحث جاری ہے۔

گلگت بلتستان کے مستقبل کے سوال پر بات کرتے ہوئے جو عنصر سب سے زیادہ زیرِ بحث آتا ہے، وہ تاریخ ہے۔ تاریخ کو زیر بحث لانے والوں کا خیال ہے کہ ان علاقوں کے مستقبل کا تعین کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ علاقے کس کا حصہ تھے‘ مگر بدقسمتی سے تاریخ اس باب میں زیادہ مددگار نہیں ہے؛ اگرچہ اس باب میں بہت معلومات موجود ہیں۔ چیلاس، ہنزہ، گلگت، سکردو اور دوسرے کئی علاقوں کے قدیم مقامات اور آثار قدیمہ سے ملنے والے پتھروں پر لکھی گئی تحریروں سے ان علاقوں کی قدیم تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ بدھ مت تحریروں اور ٹیکسٹ کی تلاش میں چینی تاریخ دان فیکیسن گندھارا جاتے ہوئے ان علاقوں سے گزرا اور ان علاقوں میں ٹھہرا تھا۔ اس کی تحریروں سے بھی ان علاقوں کی تاریخ کے بارے میں جانکاری ملتی ہے۔ ساتویں صدی میں یہ علاقے تبت کی سلطنت کے زیر نگین تھے۔ اس وقت تبت کی سلطنت وسطی ایشیا سے لے کر نیپال اور برما تک پھیلی ہوئی تھی۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں یہ علاقے اسلامی سلطنتوں کے زیرِ اثر آئے۔ سکھ سلطنت کے ابھرنے کی وجہ سے یہاں سے مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ بعد میں انگریزوں کے ہاتھوں سکھوں کی شکست کے بعد یہ علاقے ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرا حکمرانوں کی عملداری میں چلے گئے۔ تاریخ کے حوالے سے ایک غالب مکتب فکر کا خیال ہے کہ جسے ہم گلگت بلتستان کہتے ہیں، یہ کئی ایک چھوٹی موٹی ریاستوں اور جاگیروں کا مجموعہ ہے۔ یہ ریاستیں مختلف تاریخی ادوار میں کبھی تو بالکل خود مختار رہی ہیں‘ کبھی ان کا ایک دوسرے پر قبضہ، اور گاہے ادغام، اور انضمام ہوتا رہا ہے۔ یہ عمل ان دنوں چھوٹی موٹی ریاستوں اور علاقوں کے معاملے میں عام تھا۔ بیرونی حملوں اور فتوحات کے نتیجے میں یہ علاقے قدیم چینی، افغان، مغلیہ، سکھ، انگریز اور دیگر سلطنتوں کے ساتھ جڑتے اور الگ ہوتے رہے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں گلگت اور گردونواح کے کچھ علاقے ریاست جموں و کشمیرکا حصے بنے۔ 1947 میں انگریزوں کے برصغیر سے نکلنے کے وقت یہ علاقے ریاست جموں و کشمیرکا حصہ تھے، جن کو انگریزوں نے لیز پر لیا ہوا تھا۔ یہ لیز ختم ہونے کے بعد یہ علاقے واپس ریاست جموں و کشمیرکے پاس چلے گئے۔ اعلان آزادی کے بعد ریاست جموں و کشمیرکے علاوہ ہنزہ اور نگر کی ریاستوں نے بھی اپنے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا‘ اور ان کی حیثیت جوں کی توں رہی۔ یکم نومبر کو مقامی لوگوں نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کرکے اپنی حکومت قائم کر دی۔ دو ہفتوں تک مقامی حکومت قائم رہنے کے بعد پاکستان کی طرف سے صوبہ سرحد کے گورنر نے یہاں پولیٹیکل ایجنٹ تعینات کر دیا۔ بعد میں 1949 میں حکومت آزاد جموں و کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان معاہدہ کراچی کے تحت ان علاقوں کا انتظام حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا گیا۔ تاریخی اعتبار سے گلگت بلتستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے، جس کو گلگت ایجنسی کہا جاتا تھا۔ ایجنسی کے زیرِ انتظام علاقے براہ راست انگریزوں کے زیر نگیں رہے۔ یہ ایجنسی 1889 میں قائم ہوئی۔ اس ایجنسی کے اندر چیلاس، کوہ خضر، اشکومن، اور یاسین وغیرہ کے علاوہ ہنزہ اور نگر کی ریاستیں شامل تھیں۔ اور دوسرا گلگت وزارت تھی‘ جس میں گلگت شہر کے علاوہ دوسرے چھوٹے علاقے شامل تھے۔ دونوں ریاستوں کو بعد میں پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کو اس تاریخی تناظر میں دیکھتے ہوئے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ آج کیا چاہتے ہیں؟ ان علاقوں کے مستقبل کے سوال پر یہاں کے عوام کی ایک مسملہ جمہوری طریقے سے آزادانہ رائے لینا مناسب ہے۔ مستقبل کی کسی بھی آئینی تشکیل میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہاں کے عوام کو جمہوری انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی ضمانت دی جائے۔