فاشزم کا فروغ اور بھگوان کی مرضی

شعور کی روشنی اور اخلاق کی قوت جتنی کسی معاشرے میں کمزور ہوتی ہے وہاں فسطائیت اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ سامنے کی مثالیں نریندرا مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ہیں جن کا انتخاب فاشزم کے احیاء کی واضح علامتیں ہیں۔ لوگ عمران خان کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے پر برا نہ مانیں، مزاج ان کا بھی فسطائی ہے۔ کورونا کے بارے میں عالمی سطح پر یہ رائے پختہ ہوئی کہ کورونا کے ختم ہونے پر بالکل اسی طرح دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی جیسے 9/11 کے بعد دنیا پچھلی صدی کے اواخر تک سے مختلف ہو گئی۔

جو سب سے بڑا فرق آیا وہ فسطائیت کا احیاء ہے۔ ریاست نے از خود اپنے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کر لیا ہے۔ عدلیہ ریاست کے از خود فروغ اختیارات میں رکاوٹ نہیں بن رہی ہے اور اسٹیبلشمنتٹ اس فروغ میں تعاون کر رہی ہے اور خود اپنی طاقت میں اضافہ کر رہی ہے۔ فرد کے حقوق اسی قدر کم ہو گئے ہیں۔ فرد کی آزادی، عزت اور اپنی مرضی کی زندگی گزارنے پر کا اختیار کم ہو گیا ہے۔ بھارت میں کورونا کے پھیلاو کا الزام لگا کر تبلیغی جماعت کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے عرصے میں اور اس کے بعد دین پسند مسلمانوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی مثال زندہ کر دی۔

فسطائیت کا فروغ

افسوسناک بات یہ ہے کہ فسطائیت کے فروغ سے خوف ہی نہیں بڑھا بلکہ فاشسٹ حکمرانوں کے ساتھ ان سے نسلی رشتوں میں بندھے ہوئے عوام کی عقیدت بھی بڑھ گئی ہے۔ بھارت میں کورونا کے آغاز میں مودی نے بالکل 'نوٹ بندی' والے احمقانہ اقدام کی طرح ایک دم طویل لاک ڈاون کر کے کروڑوں انسانوں کی نقل و حرکت کو جس طرح جام کر دیا تھا اس سے معاشی پہیہ جام ہو گیا اور بھارت کی معیشت زیرو کی طرف گر گئی اس سے لوگوں میں جتنی نفرت پیدا ہونی چاہیے تھی اس کے بجائے لوگوں کی بی جے پی حکومت کی حمایت بڑھی ہے۔ اس وقت بھارت کورونا کے پھیلاو کے اعتبار سے دنیا کا بدترین ملک ہے لیکن لوگ اسے حکومت کی غلط پالیسی اور بدتدبیری کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے 'بھگوان کا کارن' سمجھ رہے ہیں۔

امریکہ اور پاکستان میں یہی معاملہ ٹرمپ اور عمران خان کی مودی سے برعکس پالیسی کا ہے۔ انہوں نے لاک ڈاون کو سخت کرنے کے بجائے نرم کر دیا جس سے لوگ خوش ہو گئے۔ پاکستان میں کورونا کی تباہ کاری بہت محدود ہو گئی۔ اسے اللہ کی مشیت (بھگوان کے کارن) سمجھنے کے بجائے عوامی سطح پر اور عالمی طور پر عمران خان کی حکمت و دانائی کا ثمر باور کیا جا رہا ہے۔ لیکن ملکی معیشت کی تباہی کو عمران خان کی نالائقی سمجھنے کے بجائے شاید 'بھگوان کے کارن' سمجھ کر لوگ خاموش ہو گئے ہیں۔

سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں پھیلتی ہوئی بزدلی

اس عرصے میں سب سے بڑی جو تبدیلی آئی ہے وہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں پھیلتی ہوئی بزدلی ہے۔ اس کے باعت ملکی اور قومی سطح پر کسی دلیر اور جرآت مند لیڈر کے ابھرنے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں جو عوام کے احتجاجی جذبوں کا ترجمان بنتا اور لوگوں کو سڑکوں پر لاتا۔ اب مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے احتجاج کا آسان ترین فورم Twitter ہے۔ ہر ایشو پر وہ دن میں دو تین tweets کر دیتے ہیں اور فرض کفایہ ادا ہو جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو اپنے صدارتی انتخاب کی مہم بھی Twitter پر چلا رہا ہے۔

عمومی قیاس یہ ہے کہ وہ جیت جائے گا۔ دنیا کے سارے فاشسٹ حکمران اور سیاست دان اسی طرح میدان مارتے جائیں گے۔ بھارتی کانگریس کے اندر سے جان نکل گئی ہے اس لیے بھارت میں بی جے پی اگلا الیکشن اور ٹرمپ حالیہ صدارتی انتخاب جیت سکتا ہے۔ عمران خان کے لیے جن قوتوں نے پہلے میدان صاف کیا تھا ایک اور ٹرم کے لیے اسے موقع دینے کا سوچ سکتی ہیں۔ بھارت، امریکہ اور پاکستان میں البتہ ایک فرق ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ جتنا سیاست دانوں کو رسوا کر رہی ہے امریکہ میں ٹرمپ اتنا ہی اسٹیبلشمنٹ کو ذليل اور بے دم كر رہا ہے۔ مودی کے ہاں اسٹیبلشمنٹ اپنے دائرے سے باہر نکل ہی نہیں رہی ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو نتھ ڈالنا اس کا ایشو ہی نہیں ہے۔ مجموعی طور پر میدان فاشسٹ اور نسل پرست حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ کئی اور ممالک میں بھی فاشزم کی کونپلیں نکل رہی ہیں۔