ارقم کا شمارہ 4

2 September, 2014

تبصرہ نگار: سید ابو الہاشم

آزاد کشمیر کے ایک خوب صورت شہر، سرسبز و شاداب وادیوں، گھنے جنگلوں، چاندی جیسے جھَرنوں ، آبشاروں اور منفرد آب و ہوا کے حامل خطے راولاکوٹ سے شائع ہونے والے تحقیق، علمی اور ادبی مجلے ارقم کا شمارہ 4حال ہی میں منصہ شہود پر جلوہ گر ہواہے۔ارقم کے مدیر اعلیٰ ممتاز محقق، سفر نامہ نگار اور اُستاد ڈاکٹر ظفر حسین ظفر ہیں۔ مدیر کے فرائض ریسرچ سکالر، صحافی و ادیب فیاض نقی جب کہ معاون اعجاز نقی ہیں۔ مجلس مشاورت میں کشمیر(دونوں حصوں) اورپاکستا ن سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی(لاہور)، ڈاکٹر ممتاز احمد( اسلام آباد)، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحرؔ (اسلام آباد)، ڈاکٹر یوسف خشک(سندھ)، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر(کراچی)، ڈاکٹر فخر الاسلام(پشاور)، خوش دیو مینی(پونچھ مقبوضہ کشمیر)، محمد کبیر خان(ابو ظہبی)، سید بشیر حسین جعفری(راولپنڈی)، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد(اسلام آباد)،راجا نذر بونیاری(سری نگر کشمیر)، ڈاکٹر خالد ندیم (سرگودھا)، ڈاکٹر سلمان علی(پشاور)، ڈاکٹر قاسم بن حسن(اسلام آباد)، پروفیسر محمد صغیر قمر (راولپنڈی) اور سید سلیم گردیزی (مظفرآباد) شامل ہیں۔

مجلس مشاورت میں شامل اصحاب فکرودانش کی عملی مشاورت اور شرکت جریدے کی علمی اور فکری اٹھا ن اور اس کی پیش کش سے واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ اراکین ِمشاورت اور ادارتی اصحاب کی شمولیت ان کی نگارشات کی صورت میں مجلے کی اہمیت و افادیت کو بھی بڑھا رہی ہے اور اس بات کا بھی اندازہ بخوبی ہوتا ہے کہ فاضل ارکان کے نام محض نمائشی نہیں ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ارقم ایک انٹرمیڈیٹ کی سطح کے تعلیمی ادارے کے تحت منظر عام پہ آیا ہے اور یقینا اس کا معیار ملک کے جامعات سے نکلنے والے جریدوں سے کم نہیں۔ارقم کے پہلے شمارے سے زیر نظر چوتھے شمارے تک معیار اور مقدار میں مسلسل اضافہ اور بہتری بھی خوش آئند ہے۔ زیر نظر شمارے کے مشمولات کو آٹھ حصوں: عقیدت، تحقیق و تنقید، گوشۂ چراغ حسن حسرت، کشمیریات، سفرنامہ، گوشۂ عبدالعزیز ساحر، مشاہیر، فکرو نظر، تعارف و تبصرہ اور مراسلت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رسولِ وحدت، اقبال و تعلیم و تربیت، سید انیس شاہ جیلانی کے خطوط، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ، کچھ باتیں کچھ خط، کرشن چندر کشمیر کے حوالے سے، شبلی ، اقبال اور عطیہ فیضی، خطۂ پونچھ میں اُردو غزل، حاشیہ و تعلیقہ، تحقیقی اور تنقیدی مضامین ہیں۔ ارقم کے شمارہ4میں اُردو کے معتبر ادیب، شاعر اور صحافی: چراغ حسن حسرت اور عہد جدید کے معروف محقق، ادیب اور اُستاد ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر کے الگ الگ گوشے بھی موجود ہیں، جن میں تازہ اور نئی تحقیقات کی روشنی میںدرج بالا اصحاب کی شخصیت ، فن اور فکر پر درجن سے زیادہ تحریروں کے علاوہ صاحبان گوشہ کی تخلیقاتِ شعرو نثر بھی منظر عام پر لائی گئی ہیں۔

کشمیریات کے حصے میں’’ قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند‘‘،’’ سری نگر جب باغوں کا شہر تھا‘‘ اور’’ بانہال گیٹ وے آف کشمیر‘‘ کے عنوانات کے تحت عمدہ مضامین شامل ہیں۔ راجا نذر بونیاری کے سفر نامہ: ریاست کی تیسری راج دھانی میں تین ہفتے کے علاوہ مشاہیر میں محمود ہاشمی اور محمد تاثیر پر مضامین کے ساتھ ریاست سوات کا عدالتی نظام اور ابن عبد ربہ اور ان کی شاہکار تالیف العقد الفرید کے عنوانات کے تحت اعلیٰ مضامین بھی موجود ہیں۔ تعارف و تبصرہ میں جن کتب اور جرائد پر تبصرے تحریر کیے گئے ہیں، اُن میں ’’ گیان نامے‘‘،’’ مباحث‘‘، ’’نگارشاتِ شمیم ‘‘اور’’ دھند میںلپٹا سفر‘‘اہم ہیں جب کہ مراسلت میں دس سے زائد اصحابِ فکر، شعرا و ادیبوں کے خطوط شامل کیے گئے ہیں۔ ’’ارقم وہاں سے طلوع ہو رہا ہے، جہاں کتابوں، کتاب داروں، کتاب دوستوں اور کتب خانوں کی روایت بہت کمزور ہے۔

معروف تہذیبی مراکز اور دبستانوں سے دُور بہت دُور زبان و ادب ، تحقیق و تدوین، تخلیق و تنقید اور تہذیب و روایت کی دھونی رمانا کوئی سہل کام نہیں ‘‘۔یاد رہے کہ ارقم کی بنیاد کشمیر ہے۔ وہ کشمیر جو مختلف خانوں میں منقسم ہے، مگر ارقم کا یہ تخصص ہے کہ اس میں ہر دو حصوں کو باہم ملانے کے لیے دونوں حصوں میں پروان چڑھنے والی علم و اد ب کی روایت کو مربوط کرنے کی سعی کی جا رہی ہے۔ اس میں مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پوری دُنیا میں جہاں جہاں کشمیری ادب کی روایت پنپ رہی ہے، اُسے یکجا کرنے کے ساتھ اسے اُردو ادب اور تحقیق کی مجموعی روایت سے بھی مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ارقم کا وجودا ہم اور خوش آئند ہے۔ ارقم کے لیے نگارشات اس پتے پر ارسال کی جاسکتی ہیں: دارِ ارقم ماڈل کالج سی ایم ایچ روڈ ،راولاکوٹ ،آزاد کشمیر۔ Email:zafarhzafar11@gmail.com