اہلیان باغ کے دکھوں کامداوہ کون کرے گا

تقریبا چار لاکھ نفوس پر مشتمل ضلع باغ کے عوام اس وقت نا مساعد حالات میں مبتلا ہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ،بوگس بلات کی بھر مار،وومن یونیورسٹی ایشوء،سعودی شیلٹرز کی تقسیم میں نا انصافیاں،،میگا پراجیکٹس کی تعمیر میں تاخیر وہ بڑے مسائل ہیں جن کا باغ کے باسیوں کو اس وقت سامنا ہے موسم سرما کی شدت اور دسمبر کی یخ راتوں میں بجلی کا گم ہو جانا کوئی نئی بات نہیں محکمہ برقیات کی دیرینہ روایت رہی ہے جب بھی صارفین کو بجلی کی ضرورت ہوتی ہے عوام بجلی کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس جاتے ہیں سردی کا موسم تو ہر جگہ اثر انداز ہوتا ہے بالخصوص تین سے پانچ ہزار فٹ کی بلند سطح پر بسنے والوں کا کیا عالم ہو گا جہاں گھنٹوں بجلی نام کی چیز موجود نہیں ہوتی اور مہینہ کے اختتام پر بل بھی سینکڑوں اور ہزاروں میں آتا ہے محکمہ برقیات کے ان نا خداؤں سے کون پوچھے۔۔۔؟ اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے پیچھے کیا محرکات ہیں وہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کوئی ایک دو گھنٹوں کی بات ہوتی تو بیچارے عوام صبر کر لیتے مگر یہاں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے کئی کئی گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن گیا ہے کاروباری مراکز میں بجلی کی بندش سے کاروباری صنعت دم توڑ رہی ہے جبکہ سرد راتوں میں بجلی یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے اسے بھی سردی لگ رہی ہو اور وہ دور کہیں آرام کرنے چلی گئی ہو برقیات کی جانب سے یہ ظالمانہ رویہ عوام کے ساتھ دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ دوسری طرف باغ وومن یونیورسٹی کی تعمیر اور اس میں تقرریوں کا معمہ بھی ابھی حل نہیں ہو سکا اور خدا نخواستہ اس کا حال بھی میڈیکل کالج کی طرح متنازعہ بن گیا تو یہ اہل باغ کی بڑی بدقسمتی تصور ہو گی

قارئین کرام! قومی ادارہ کوئی بھی ہو اور کسی جماعت یا فردکی کاوشوں کا نتیجہ ہو اس کے ثمرات عوام کو ہی ملا کرتے ہیں اس بحث میں پڑے بغیر کہ باغ میں وومن یونیورسٹی کا تاج پیپلز پارٹی کے سر پر سجایا جائے یا مسلم کانفرنس کو اس کا کریڈٹ دیا جائے سردار عتیق خان کی تعریفوں کے پل باندھے جائیں یا پھر سردار قمرلزمان کے گن گائیں جائیں یقینا کریڈٹ حقدار کو ملنا چاہئےء مگر کسی بات کو گرہ سے پکڑ لینا اور اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لینا بھی کوئی عقلمندی کی بات نہیں باغ وومن یونیورسٹی کہاں بنائی جائے اس کے لئے اگر بہتر سمجھا جائے تو باغ کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت،ٹریڈ یونینز،ماہرین،سول سوسائٹی کے نمائندگان پر مشتمل وفد تشکیل دیا جائے جو پورے ضلع باغ اور تینوں حلقوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرے کی وومن یو نیورسٹی کی تعمیر کیلئے کونسی جگہ موزوں اور مناسب ہے باغ کے مختلف علاقوں سے بھانت بھانت کی جو بولیاں سنے کو مل رہی ہیں وہ باغ کی یکجہتی کیلئے زہر قاتل سے کسی بھی طور پر کم نہیں اس پر قابو پانے کی ضرورت ہو وومن یونیورسٹی ضلع باغ کے کسی مقام کسی حلقہ میں بھی بنے وہ باغ کی شناخت ہو گی ہماری لیڈر شپ کو بھی اس اہم اثاثہ پر سیاست کی گھتیاں نہیں کھولنی چاہیں یہ کونسا درست طریقہ ہے کہ محض ذاتی فوائد کے حصول کیلئے عوام کو بلی چڑھا دیا جائے اور قومی منصوبہ کو التواء میں ڈال دیا جائے باغ وومن یونیورسٹی میں جو تقرریاں کی گئی ہیں اگر میرٹ کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے تو میرٹ کو شرط اول بنیاد بنا کر تقرریاں کی جانی چائیئے حقدار کو اس کا حق ضرور ملنا چاہئے خواہ اس فرد کا تعلق کسی جماعت،کسی علاقہ یا کسی قبیلہ سے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

باغ شہر میں اس وقت سینٹری ورکرز سعودی شیلٹرز نہ ملنے پر کئی دنوں سے سراپا احتجاج ہیں ان کے ساتھ ہونے والی گزشتہ نصف صدی سے نا انصافیوں کا ازالہ کیا جائے ورنہ کل روز قیامت یہی مظلوم طبقہ حکمرانواں کیلئے گلے کا پھندا بن جائے گا سردار قمرالزمان اور سردار میر اکبر خان جو اس وقت باغ کی نمائندگی کے دعوے دار ہیں انہیں ان پسے ہوئے طبقے کی زبو حالی کا احساس کرنا چاہئے اور ان کے معاملات یکسوں کروائیں تاکہ یہ محروم طبقہ بھی معاشرے میں باعزت زندگی بسر کر سکے

باغ سٹی ڈویلپمنٹ،ڈسٹرکٹ کمپلیکس،ڈسٹرکٹ ہسپتال،شاہرات،پلات،تعلیمی اداروں،سمیت تمام میگا پراجیکٹ کی تعمیر کا سلسلہ تیز کرنے اور معیاری کام کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو کسی ایک فرد یا جماعت نہیں سب کو کردار ادا کرنا ہو گا تب ہی جا کر باغ کے عوام خوشحالی کے دور کے نظارے کر سکیں گے ورنہ مایوسیوں،نا امیدیوں کے بادل کبھی نہیں چھٹ سکیں گے اور ہر طرف سے رونے،فریاد کرنے اور ماتم کی صدائیں سنائی دیتی رہے گی۔٭٭