انیلا طالب
انیلا طالب بین الاقوامی کم عمر مصنفہ اور ایک بہت اچھی مقررہ ہونے کے ساتھ ساتھ  فوٹوگرافر اور ذہین ایمبیسیڈر بھی ہیں انہوں نے دس برس کی عمر سے لیکچرز دینا شروع کیۓ اور اب تک وہ مختلف فورمز پر آٹھ سو پچاس سے زائد لیکچرز دے چکی ہیں انیلا طالب نے سولہ برس کی عمر میں اپنی تحریری سفر کا آغاز کیااور صرف سترہ برس کی عمر میں انکی کتاب دعا تقدیر بدل دیتی ہے شائع ہوئی۔انہوں نے ناولز لکھنے کا آغاز پاکستان کے مختلف ڈائجسٹوں سے کیا- ماہنامہ پھول اور فیملی میگزین میں بھی لکھتی رہیں۔حنا، شعاع، پاکیزہ، دوشیزہ اور دیگر ڈائجسٹ میں ان کے ناولز اورافسانے شائع ہوتے رہتے ہیں -انہوں نے پانچ کتابیں تصنیف کیں۔جن میں چھو لو آسمان پاکستان کا پہلا  نثری ہائکو اردو  مجموعہ قرار پائی تو ادبی حلقوں کی جانب سے انہیں بھرپور سراہا گیا -رواں سال ان کی تصنیف روشن ستارے منظر عام پر آئی تو قارئین نے اسے دل کھول کر سراہا

انیلا طالب چند بین الاقوامی اداروں سے وابستہ ہیں -اور وہاں کم عمر ایمبیسیڈر کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔ انہیں افریقن ویمن ہیلتھ پراجیکٹ انٹرنیشنل سے دنیا بھر میں الگ پہچان مل- وہاں انیلا طالب دنیا بھر سے ممبر بننے والی پہلی باپردہ کم عمر پاکستانی ہیں۔وہ فیضان رومی اکیڈمی کی بانی اور سہ ماہی ضوریز ڈیجیٹل میگزین کی چیف ایڈیٹر بھی ہیں- وہ  ایوارڈ براۓ کم عمر بین الاقوامی مصنفہ اور ادب ریختہ ایوارڈ بھی حاصل کر چکی  ہیں۔۔ان کی پانچ کتابیں چھو لو آسمان قریح القلب ریم روشن ستارے اور دعا تقدیر بدل دیتی ہے چھپ چکی ہیں۔ان کے ناول میت ضمیر کی کو بہت پسند کیا گیا -انیلا طالب کا مقصد پاکستان کے روشن ستاروں کیلۓ کام کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے ان کے پسندیدہ مشاغل میں لکھنا پڑھنا اور جہاز اڑانا ہے وہ وطن عزیز کی ترقی کیلۓ سترہ برس کی عمر میں ایک پراجیکٹ لائٹ فار آل کے نام سے بھی بنا چکی ہیں جس کا مقصد ہنرمند خواتین کو روزگار فراہم کرنا ہے   مستقبل میں انیلا طالب علم و ادب کے حوالے سے نمایاں کام کرنا چاہتی ہیں انہیں ستاروں پر کمند ڈالنے والے جوان بہت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں سیسنا جہاز اڑانا چاہتی ہیں اور علامہ اقبال کا شاہین بننا چاہتی ہیں