عبدالحفیظ اسسٹنٹ پلانٹ پتھالوجسٹ

آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا کہ ایک انار اور سو بیمار۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر انار ہی بیمار پڑ جائے تو کیا کریں؟ پھلوں کو سوراخ کرنے والے حشرات اور دیگر امراض انار کو لاحق ہو سکتے ہیں۔ مثلاً انار کی تتلی انار کے پھولوں پر انڈے دیتی ہے ۔ جس کے بعد انڈوں سے سنڈیاں نکل کرنو زائیدہ پھل کے اندرچلی جاتی ہیں۔ اور یہیں سے ہمارا کام شروع ہوتا ہے۔

پھلوں کو سوراخ کرنے والے حشرات

انار کی تتلی(Virachola isocrates) اورپھل کی سنڈی(Pomegranate Fruit Borer) ۔ انار کے یہ دو ہی بڑے دشمن ہیں۔
انار کی تتلی Anar Butter Fly(Virachola isocrates ) اور پھل کی سنڈی(Pomegranate Fruit Borer (Deudorix isocratea)لائیکینڈی (Lycaenidae) خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ براعظم ایشیا میں انڈیا، سری لنکا اور پاکستان میں بکشرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کا نر پروانہ نیلے رنگ جبکہ مادہ بھورے بنشفی رنگ کی ہوتی ہے۔جس کے اگلے پروں پر سنگترا رنگ کےV شکل کے دائرے ہوتے ہیں۔مکمل سنڈی کے پروں پر گہرے بھورے رنگ کے چھوٹے چھوٹے بال ہوتے ہیں اور سفید رنگ کے دھبے پورے جسم پر موجود ہتے ہیں۔لاروہ کی لبائی 16تا 20 سینٹی میٹ ہوتی ہے۔ انار پر اس کا زیادہ حملہ مون سون کی بارشوں میں ماہ اگست سے شروع ہو تا ہے اور نومبر یا دسمبر تک رہتا ہے۔پچاس فیصد سے بھی زیادہ انار کی فصل کو اس کیڑے سے نقصان پہنچتا ہے۔“

انار کی تتلی کا دور حیات

انار کی تتلی ایک سے دو ماہ میں اپنا دوران حیات مکمل کرتی ہے۔مادہ تتلی تازہ پتوں، ٹہنیوں اور پھولوں کی بڈز پر انڈے دیتی ہے۔انڈوں سے 17تا 18 دنوں کے بعد سنڈیاں نکل آتی ہیں۔یہ عرصہ 18تا 47 دنوں پر محیط ہوتا ہے۔ سنڈیاں یہ عرصہ نقصان زدہ پھلوں کے اندر یا ٹہنیوں کے اند رہ کر گزارتی ہیں۔ پھر یہ پیوپیشن عرصہ میں چلی جاتی ہیں جو کہ 7تا34 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔

انار کی تتلی کے انڈے

انار کی تتلی انار کے پھولوں پر انڈے دیتی ہے ۔ جس کے بعد انڈوں سے سنڈیاں نکل کرنو زائیداہ پھل کے اندرچلی جاتی ہیں۔ اس وقت اس کا سائز تقریباٌ دو سینٹی میٹر ہوتا ہے۔یہ تازہ گودے اور نوزائیدہ بیج کو بطور خوراک استعمال کرتی ہے جب سنڈی مکمل جوان ہو جاتی ہے تو پھل کو سوراخ کرتے ہوئے باہر نکل آتی ہے۔ اس سوراخ کے ارد گرد لارواہ کی بیٹ(Fece) بھی نظر آتی ہیں۔یہ سوراخ بتدریج سائز میں بڑا ہو تا جاتا ہے اور آخر کار پورا پھل پھٹ جاتا ہے اس طرح پھل پر بیکٹیرا اور پھپھوندی کا حملہ ہوجاتا ہے جسے پھل گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ پورا پودا اسکی لپیٹ میں آجاتا ہے۔

بیمار انار کا کیا کریں؟


۱۔ نقصان زدہ پھلوں کو ضائع کردیں ۔
۲۔نوزائیداہ پھلوں پر پلاسٹک کے تھیلے چڑھا دیں۔
۳۔ مغرب کے بعد باغ میں دھواں کیا جائے۔
۴۔ باغ میں یا انار کے درختوں کے قریب جڑی بوٹیوں کو تلف کردیا جائے کیوں کہ ان پر سنڈیاں اور تتلیاں پرورش پاتی ہیں۔
۵۔شام کے وقت ماتھ اکٹھے کرکے تلف کر دئے جائیں۔
۶۔روشنی کے پھندوں کا استعمال کیا جائے اور کیڑوں کو مٹی کے تیل سے تلف کیا جائے۔

کیمیائی طریقہ انسداد:
۱۔میلاتھیان (8 EC) 1.7تا 3.4لٹر فی ہیکٹر یا 23تا 46 اونس فی ایکڑ استعمال کریں۔
۲۔دوائی پھول بننے کے عمل کے دوران پندرہ دن کے وقفہ سے سپرے کریں ۔
۳۔یا تین فیصد(3%) نیم کے تیل کا سپرے کریں۔
۴۔سپرے عموماٌ شام کے اوقات میں کی جائے۔
۲۔ انار کے پھل کا کیڑا(Conogethes punctiferalis)

اس کیڑے کی سنڈی ہلکے سبز رنگ کی ہوتی ہے جس کے جسم پر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے دائرے ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کابالغ پروانہ پیلے ر نگ کا ہوتا اس پروں اور جسم پر کالے رنگ کے گول دھبے ہوتے ہیں۔

نقصان: اس کیڑے کی سنڈی نوزائیدہ پھلوں میں سوراخ کر کے اندرونی گودہ اور بیجوں کو کھا جاتی ہے۔

مربوط طریقہ انسداد
۱۔نقصان زدہ پھل جمع کر کے تلف کردیں۔
۲۔جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
۳۔روشنی کے پھندوں کا استعمال کریں۔
۴۔میلاتھیان (50 EC 1%) پھول کھلنے اور پھل بنتے وقت استعمال کریں۔

رس چوسنے والے حشرات:
۱۔دم دار ملی بگ:
پہچان: نرہلکے پیلے رنگ کا ہوتاہے اورمادہ پتلی،لمبی رطوبت دار دم کی جوڑی والی ہوتی ہے۔
نقصان:پھولوں کا رس چوستی رہتی ہے پھل بنتے ہی گر جاتے ہیں۔

مربوط طریقہ انسداد:
۱۔نقصان زدہ پھلوں اور پھولوں کو جمع کرکے تلف کریں۔
۲۔با غ یا پودوں کے کے قریب اگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
۳۔ڈائی کلوروواس 76 WSC 1ml/li یا ٹرائی زوفاس 2ml + نیم ائل 5 ml ملا کر سپرے کریں۔

پھل کی سفید مکھی:(White Fly)
بالغ پروانہ سفید سفوفی رنگ کا ہوتا ہے جو کہ صبح کے وقت زیادہ فعال ہوتا ہے۔

نقصان:
سفید مکھی کے بچے اور بالغ مکھی پتوں کا سیل سیپ چوستے ہیں اس طرح جب پتوں پر اوس پڑتی ہے تو سوٹی مولڈ پھپھوندی کی نمو ہونا شروع ہو جاتی ہے۔پتے زرد ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ گرنے لگتے ہیں۔

مربوط طریقہ انسداد:
۱۔باغات کی صفائی کریں۔
۲۔جڑی بوٹیوں کو تلف کریں
۳۔چپکنے والے زرد پھندوں کا استعمال کریں۔
۴۔نیم کے تیل 3% کا چھڑکاؤ کریں۔
۵۔لیڈی برڈ بیٹلز کو باغ میں چھوڑا جائے۔

سست تیلا(Aphids):
زردی مائل سبزرنگت ، پردار اور بغیر پروں کے ہوتے ہیں۔

نقصان:
پودوں کے حصوں پتے ،ٹہنیوں اور پھل کا سیپ چوستے رہتے ہیں پتوں کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے اور سب سے اوپر والے پتے گر جاتے ہیں۔

مربوط طریقہ انسداد:
۱۔ نقصان زدہ پودوں لے حصوں کو جمع کرکے تلف کریں۔
۲۔پیلے رنگ کے چپکنے والے پھندے (Yellow Sticky Traps) استعمال کئے جائیں۔
۳۔ڈائی متھیوئیٹ 25 EC بحساب 2ملی لٹر فی لٹر پانی میں ملا کر چھڑکاؤ کریں۔
۴۔لیڈی برڈ بیٹلز کو باغ میں چھوڑا جائے