تازہ نظم / عنبر حنیف

عنبر حنیف 

میرے آنگن میں

 وہ تپتی دھوپ میں چھاؤں، کہر میں دھوپ 

!خزاں میں رنگ، ساون میں موتی پروتا

وہ چلا گیا

,اب نہ وہ چھاؤں ہے نہ دھوپ

!نہ  وہ رنگ ہیں نہ موتی

وہ بتا گیا مجھ کو

یہ دھوپ، چھاؤں 

!یہ رنگ اور موتی وہ اپنے لیے پروتا

میرا آنگن اس کا فقط عارضی بسیرا تھا۔

Previous post پریس فار پیس فاؤنڈیشن اور سیڈ کے اشتراک سے لائبریری کاافتتاح
Next post حکومت کے پانچ سال اور آخری جھٹکا.تحریر: پروفیسرمحمد ایاز کیانی