عنبر حنیف 

میرے آنگن میں

 وہ تپتی دھوپ میں چھاؤں، کہر میں دھوپ 

!خزاں میں رنگ، ساون میں موتی پروتا

وہ چلا گیا

,اب نہ وہ چھاؤں ہے نہ دھوپ

!نہ  وہ رنگ ہیں نہ موتی

وہ بتا گیا مجھ کو

یہ دھوپ، چھاؤں 

!یہ رنگ اور موتی وہ اپنے لیے پروتا

میرا آنگن اس کا فقط عارضی بسیرا تھا۔