محمد اکبر خان اکبر

جاوید خان کا سفرنامہ عظیم ہمالیہ کے حضور ایک منفرد انداز کا حامل ہے. سفرنامہ نگاری اُردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں آپ بیتی کا لطف، داستان کی طلسماتی دنیا، افسانے کی سی رنگینی اور ڈرامے جیسا تجسس موجود ہوتا ہے. محترم جاوید خان کا یہ سفرنامہ وطن عزیز کے شمالی علاقوں میں کی گئی سیاحت کی داستان ہے.
اس بات سے شاید کسی کو اختلاف نہ ہوگا کہ پاکستان کےشمالی علاقے ایک عجیب کشش کا سامان لیے ہوئے ہیں وہاں کے قدرتی نظارے سیاحوں کے جم غفیر کو ہر سال اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں. غالباً پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہی سب سے زیادہ سفرنامے تحریر کیے گئے ہیں.
”عظیم ہمالیہ کے حضور‘‘ کا انتساب کائنات کی اعلٰی ترین شخصیت کے نام پر ہے جنہیں باری تعالیٰ نے ساری دنیا کے لیے آخری نبی بنا کر بھیجا.
مصنف نے اپنے دوستوں کے ہمراہ کیے گئے جس سفر کی روداد قلم بند کی اس کا ایک ایک فقرہ دل پر اثر پیدا کرنے والا ہے. انہوں نے اپنے سفر میں اس قدر زیادہ مقامات دیکھے ہیں کی حیرت ہوتی ہے. جل کھنڈ اور لولوسر کے پر فضا مقامات ہوں یا چلاس، گلگت اور استور کے علاقے، منی مرگ کی طلسماتی وادی ہو یا دیو سائی کا منفرد میدان یا پھر جگلوٹ اور ہنزہ کی بے مثال خوبصورتی، ان کا قلم قاری کی نظروں کے سامنے ایک نقشہ سا کھینچ کر رکھ دیتا ہے.
سفرنامے کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت منظر نگاری ہے جس پر جاوید خان کامل گرفت رکھتے ہیں ذرا دیکھیں انہوں نے کس طرح استور سڑک کا نقشہ کھینچا ہے:
”ان اُبھرے ہوئے چھجوں پر بڑے بڑے پہاڑ اور ان پر کئی سو فٹ ملبہ کھڑا ہے پہلی دفعہ دیکھنے پر ایسا لگتا ہے جیسے یہ ابھی گزرتی گاڑیوں پر آن گریں گے. ان نوکیلی چٹانوں کے نیچے مجبور سڑک گزرتی ہے تو دوسری طرف بغیر کسی رکاوٹ کے پہاڑی نالہ سرکشی دکھاتا ہوا مخالف سمت میں بہہ رہا ہے. بڑے بڑے پہاڑ اس میں سینہ تانے کھڑے ہیں مٹیالا پانی ان پتھروں سے ٹکراتا چھلانگیں مارتا بہتا چلا جاتا ہے.‘‘
مصنف کو جزئیات نگاری پر بھی عبور حاصل ہے. وہ دل فریب نظاروں کی منظر کشی کرنے کے ساتھ ساتھ جزئیات کا بھی خیال رکھتے ہیں اور مکمل تصویر قاری کے سامنے پیش کر دیتے ہیں.
اُن کا سفرنامہ تاریخی پس منظر سے بھی روشناس کرواتا ہے. وہ ہر بات ایک مشاق محقق کی طرح کڑی محنت کے بعد لکھتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب کے آخر میں ایک درجن ایسی کتابوں کے نام درج ہیں جہاں سے حوالہ جات پیش کیا گئے ہیں .اس نے مثل سیاح کا سفرنامہ محض ایک سفری روداد ہی نہیں بلکہ اس میں مختلف علاقوں کے جانوروں درختوں پودوں اور موسمی حالات کا بھی دل نشیں بیان ملتا ہے. ملاحظہ کیجیے ان کے سفرنامے سے چند سطور جس میں ایک پرندے کا ذکر کس قدر لطیف پیرائے میں کیا گیا ہے:
”نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو ایک پیلی دھاری دھار چڑیا سامنے پتھر پر بیٹھ کر چہکنے لگی. اس کی جسامت عام چڑیا جتنی تھی مگر سُر مختلف تھا. اس کے پیلے پروں پر کالی دھاریاں لمبائی کے رخ پر بنی ہوئی تھیں. چڑیا مسلسل چہک رہی تھی. میں نے آنکھیں بند کر لیں. سانس کھینچا چھوڑا اور فطری سازوں پر دھیان لگا دیا.‘‘
مصنف جب پرندوں اور جانوروں کا ذکر کرتے ہیں تو ایک لمحے کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جسے ایک ماہر حیوانیات اپنی تحقیقی مہم کا حال لکھ رہا ہو. جب کسی علاقے کے ماحول اور آب و ہوا کا تذکرہ رقم کرتے ہیں تو ماہر ماحولیات اور ماہر موسمیات نظر آنے لگتے ہیں، میرے خیال میں یہ ان کی ادبی عظمت کی دلیل ہے کہ وہ قاری کی توجہ حاصل کر لینے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں.
یہ کہنا بجا ہے کہ ان کا سفرنامہ پڑھنے کے لائق ہے. خصوصاً سیاحت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے تو یہ سفرنامہ متاع خاص اور سوغات سے کم نہیں. راولا کوٹ کے جاوید خان دلچسپ، پر لطف اور منفرد سفرنامہ لکھنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں.

Leave your comment !