تحریر : سردار محمد حلیم خان

 hjrat786@gmail.com

گذشتہ ہفتے آزاد کشمیر اسمبلی نے اپنے اجلاس میں ایک بل کی منظوری دی جس کے مطابق مختلف محکموں میں تعینات عارضی ملازمین کو کسی امتحانی اور جانچ پرکھ کے مرحلے سے گزارے بغیر مستقل کر دیا گیا۔اس کے نتیجےمیں میں وہ لوگ لیکچررز سینئر ٹیچر اور جریدہ ملازمین بن گے جن کی تعلیمی قابلیت یہ تھی کہ وہ پبلک سروس امتحانات اور این ٹی ایس پاس نہ کر سکے۔کس قدر ستم ظریفی اور اندھیر نگری ہے کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل نوجوان یا تو پرائمری اور جونئیر ٹیچر لگ گے یا محکموں کی طرف سے اسامیاں چھپا کر رکھنے اور مشتہر نہ کرنے کی وجہ سے انتظار کی سولی پر لٹکا دیے گے لیکن انتہائی بد دیانتی اقربا پروری اور متوالہ نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوے نااہل کئی کئی پی ایس سی اور این ٹی ایس فیل کرنے والے رشوت سفارش یا چند ووٹوں کی اہمیت رکھنے والے خانوادوں کے کند ذہن اور نالائق افراد کو انتظامی اور تدریسی ذمہ داریوں پہ فائز کر دیا گیا۔اس طرح پڑھے لکھے اور اہل نوجوانوں کے حقوق پر صریح ڈاکہ ڈالا گیا۔یہ ہر نوجوان کا بنیادی حق ہے کہ اسے روز گار کے حصول کے لئے برابری کے مواقع میسر ہوں نوجوانوں کو اس حق سے محروم کیا گیا ثابت شدہ نااہلوں کو اہل افراد پر فوقیت دی گئی۔اس سے بھی بڑی شرمناک حرکت یہ کی گئی کہ بل اسمبلی میں لانے سے پہلے راتوں رات سینکڑوں افراد کی پچھلی تاریخوں میں ایڈہاک تقرری کے احکامات جاری کر کے اپنے بچے کھچے رشتہ داروں اور حواریوں کے لئے اس کالے قانون سے استفادے کا موقع پیدا کیا گیا۔اب چند سال کے بعد اس راجہ شاہی اسمبلی کے سیاہ کارنامے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک محکمے کا سربراہ تو ایسا نالائق فرد ہو گا جو پی ایس سی فیل کرنے کے باوجود چور دروازے سے سروس میں ایا جبکہ اس کے ماتحت پی ایچ ڈی ایم فل اور دیگر اعلی تعلیمیافتہ افراد ہوں گے۔سسٹم کا بیڑا غرق نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔کالج کا پرنسپل چور دروازے سے انے والا ہو گا جبکہ اس کا سٹاف پی ایس سی پاس ہو گا۔سکول کا ہیڈ ماسٹر پی ایس سی فیل این ٹی ایس فیل فرد جبکہ اس کے ماتحت عملہ این ٹی ایس کر کے آنے والا ہو گا۔تصور کریں ایسا ادارہ بچوں کا مستقبل تاریک نہیں کرے گا تو کیا کرے گا۔

راجہ صاحب نے اس قانون سازی کے ذریعے ہری سنگھ کے زمانے کی سلیکشن کمیٹی کی یاد تازہ کر دی۔انگریز سرپرستوں کے دباو کے نتیجے میں ہری سنگھ حکومت نے ملازمتوں پر بھرتی کے لئے اشتہار اور سکروٹنی کا ڈھونگ رچایا لیکن طریقہ کار ملاحظہ فرمائیں محکمہ جنگلات میں ایک فارسٹر اور ایک کلرک کی اسامی کا اشتہار دیا گیا۔ہری سنگھ کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی نے بی ایس سی پاس  ایک مسلمان کو کلرک جبکہ مڈل پاس ڈوگرے کو فارسٹر بھرتی کر لیا جب اس   مضحکہ خیز سلیکشن پر  لے دے ہوئی تو سرکار کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ فارسٹر نے چونکہ مہر ہی لگانی ہوتی ہے مڈل پاس ڈوگرہ اسامی کے لئے موزوں ہے جبکہ کلرک نے مسلوں اور ریکارڈ کا گہرائی سے جائزہ لینا ہوتا ہے اس لئے اس آسامی کے لئے بی ایس سی پاس مسلمان موزوں ہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی اس واقعے کے نوے سال بعد اسی اصول پر قانون سازی کر رہی ہے۔ایک بودی دلیل یہ دی گئی کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی عمریں ضائع ہو رہی تھیں پہلی بات کے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات نہ ہونے کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ حکومت وزراء اور ان کی چہیتی بیوروکریسی ہے جو اتنے بد دیانت ہیں کہ ان کی اولادیں ابھی انٹر میں ہوتی ہیں تو یہ اسامیوں کو چھپا کے بیٹھ جاتے ہیں کہ ان کی ماہ جبینوں اور ان کے طرم خانوں کی عمر پوری ہو گی تعلیمی قابلیت موزوں ہو گی تو آسامی ظاہر ہو گی کرپٹ حکمران ایسے افسروں  کامحاسبہ کرنے کی بحائے صرف اورصرف اپنا حصہ طے کرتے اور چشم پوشی کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اگر واقعی حکومتی دعووں کے مطابق ایسے ستم رسیدہ  افراد کے لئے یہ گھناؤنی حرکت کی گئی کہ  جن کے محکموں میں سال ہاہا سال تک پی ایس سی نہیں ہوا تو سب سے پہلے ایسے محکموں کے سیکریٹریز سے سے لیکر ہیڈ کلرک تک  کوجیل میں ڈالا جاتا اس کے بعد پی ایس سی کو ہنگامی بنیادوں  پر متبادل نظام وضع کرنے کا پابند بنایا جاتا۔اس کے ساتھ ایسے افراد کو روکنے کا بھی بندوبست کیاجاتا جو پہلےہی پی ایس سی اور این ٹی ایس فیل کر چکے ہیں۔

مقام مسرت یے کہ آزاد کشمیر کے پیر و جواں نے اس کالے قانون کو مسترد کر دیا ہے ہے سوشل میڈیا سمیت شہر شہر احتجاج ہو ریا ہے۔وکلاء تنظیموں نوجوانوں کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے  الگ الگ آزاد ازادکشمیر ہائی کورٹ میں رٹ بھی دائر کر دی ہے۔نوجوانوں کو چاہئے  کہ اس کالے قانون کے حق میں ووٹ ڈالنے والے  ممبران کا ہر پولنگ سٹیشن پہ محاسبہ کریں۔49 رکنی اسمبلی میں سوائے عبدالرشید ترابی صاحب اور حسن ابراہیم صاحب کے  کسی نے بات نہیں کی۔الیکشن ایسے ممبران اسمبلی کو کیفر کردار تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ اور بہترین موقع ہے۔نوجوان اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو اسمبلیوں سے باہر کر کے یہ ثابت کریں کہ وہ ایک قوت ہیں۔یہ کسی المیے سے کم نہیں کہ باصلاحیت خود دار اور اعلی تعلیمیافتہ کئی افراد جو انجئیرز ہیں ٹیوشن پڑھا کر گھر کا نظام چلا رہے ہیں کئی ایم فل پی ایچ ڈی ہوم ٹیوشن تک پڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف متوالا نوازی کا کاری وار کر کے سرکاری محکموں میں چہیتے ٹھونس دیے گے۔نوجوانوں کو جان لینا چاہیے کہ اس وقت اس نا انصافی کا بھرپور جواب نہ دیا تو ان کے مستقبل سے کھلواڑ جاری رہے گا