July 6, 2022

ایک کلاس روم بھی نہیں ہے

یہ آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد تحصیل نصیر آباد کے گاؤں چمبہ کے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول کی تصاویر ہیں جہاں پر سینکڑوں کی تعداد میں بچے اپنی زندگی سے کھیلتے ھیں۔ 5اکتوبر 2005میں اس ادارے کی عمارت تباہ ھو گئی تھی جو حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے تا حال نہ بن سکی ۔

چند سوالات نام نہاد آزاد کشمیر کے حکام بالا کے نام۔ یہ سرد موسم یہ معصوم بچے جو اس ملک و قوم کا مستقبل ھیں کیا ان کا حق کلاس روم نہیں ھے ؟ کیا یہ انسانی معاشرے کا حصہ نہیں ؟ کیا یہ اس ریاست کے باشندگان نہیں ھیں ؟ کیا ان کا حق باقی دنیا کی طرح تعلیم حاصل کرنا اور جینا نہیں ھے؟

جہاں چھت بھی ھو اور چار دیواری بھی ھو سردی سے یہ پھول جیسے ننھے جسم بچ سکیں۔ ان کی تعلیم کے ساتھ صحت کا بھی خیال رکھا جا سکے۔ ہاں یہ تمام سہولیات وھاں میسر ھوتی ھیں جہاں انسان اور انسانیت کی قدر ھو؟

زلزلہ زدگان کی مد میں آنے والے کھربوں روپے تو ھڑپ ھوگئے مگر ان معصوموں کا خیال کسی بھی انسانی حقوق کے علمبردار کے دعوے دار کو نہ ھوا ۔

عوام علاقہ حکومت کے بالا حکام سے مطالبہ کرتے ھیں کہ ھمارے بچوں پر اور ان کے مستقبل پر رحم کھاتے ھوئے مندرجہ ھذا ادارے کو جلد تعمیر کیا جائے بصورت دیگر ان قیمتی انسانی جانوں کا زمہ دار کون ھے؟

بشکریہ : تبدیلی سرکار بلاگ

Leave your comment !

Close