تحریر:  زبیر الدین عارفی
روز اول ہی سے اسلام نے عورت کی مذہبی،سماجی،معاشی،معاشرتی،قانونی،آئینی،سیاسی،اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔خواتین کی معاشی خود مختاری کے بغیر ترقی ناممکن ہے حکومت کو خواتین کی معاشی خود مختاری کے لیے مختلف عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے صنعتی تربیت کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کیا جانا چاہیے خواتین کو ترقی میں شامل کیے بغیر خوشحالی کے خواب کو حقیت کا روپ نہیں دیا جا سکتاخواتین ریاست آزادجموں وکشمیر کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ ہیں ۔آزادکشمیر کی خواتین ذہین،محنتی اور جفاکش ہیں جو گھرکے کام کاج کے ساتھ کھیتی باڑ ی  میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے علاوہ تعلیم،صحت سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنامثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔اس وقت ہماری خواتین باغبانی،زراعت،مرغیاں اور مال مویشی پالنے،دوکانداری،ٹیلرنگ،سلائی کڑھائی سمیت نجی اور سرکاری محکموں میں ملازمت کر رہی جوکہ خوش آئند بات ہے۔آزاد کشمیر کشمیر کی خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے سماجی اداروں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ان ہی سماجی اداروں میں سے ایک برکہ ایڈ ہے۔برکہ ایڈ اور بی ٹی ایم گلوبل مل کر آزاد کشمیر کی خواتین کو ہنر مند بنا رہے ہیں تا کہ ہماری خواتین ہنر مند بن کر خوشحال زندگی گزار سکیں۔فنی تعلیم ہی کے ذریعے ہم اس وقت معاشی طور پر با اختیار ہو سکتے ہیں۔ملک اور قوم کی ترقی کا انحصار صرف اور صرف فنی تعلیم کے فروغ پر ہے۔اس وقت فنی تعلیم اپنی نوعیت کا واحد سرچشمہ ہے،جس کے بل بوتے پر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،ترقی پذیر ممالک کو  ترقی یافتہ بننے کے لیے ترقی پسند بننا پڑتا ہے جس کے لیے بلا امتیاز و تفریق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمداری ہے جبکہ محنت کرنا اور محنت کے پھل کے طور پر ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا عوام پر فرض ہے۔ان حالات میں کامیابی کا راز صرف تعلیم کے حصول اور فروغ میں ہی پوشیدہ نہیں بلکہ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر فنی تعلیم کے فروغ کو فوقیت دینا ہو گی کیوں کہ جس تناسب سے آبادی میں اضافہ ہو رہا اس تناسب سے بے روزگار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے فنی تعلیم پروگرامز کی پروموشن کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔عمومی تعلیم کی اپنی اہمیت ہے اور اس کا اپنا سکوپ ہے مگر فنی تعلیم سے نظر نہیں چرائی جا سکتی۔برکہ ایڈ پاکستان میں رفاہ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔برکہ ایڈ معاشرے کے مستحق افراد کی مدد کے ساتھ ان کو تیکنیکی اور فنی تعلیم دلوانے میں بھی مصروف عمل ہے۔برکہ ایڈبرطانوی سماجی تنظیم ہے جس کی چیئر پرسن محترمہ گل ہیں جبکہ معتمدین میں چار خواتین ہیں جن میں محترمہ روبینہ،محترمہ فرزانہ،محترمہ شکیلہ اور محترمہ سعدیہ شامل ہیں۔یہ پانچ خواتین مل کر دنیا کے کئی غریب ممالک میں سماجی خدمات میں مصروف عمل ہیں۔محترمہ گل ایک عظیم خاتون ہیں جنہوں کی کاوشوں سے آزاد کشمیر بھر میں فلاحی کام شروع ہو چکے ہیں،قربانی پروگرا م،واٹر سپلائی پراجیکٹس،مساجد کی تعمیر،یتیم بچیوں کی شادیوں سمیت آزاد کشمیر کی خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے یہاں پر مختلف ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا ہے جو کہ لائق تحسین ہے اور اس پر ہم کشمیری عوام محترمہ گل صاحبہ اور برکہ ایڈ کی دیگر ممبران کے مشکور ہیں۔اور برکہ ایڈ کے تمام ڈونرز کے بھی مشکور ہیں جن کے تعاون سے یہ پراجیکٹس چل رہے ہیں۔
برکہ ایڈ اور بی ٹی ایم گلوبل مل کر آزاد کشمیر کی خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہیں،برکہ ایڈ اور بی ٹی ایم نے آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد میں خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے زیرو پوائنٹ طارق آباد میں ووکیشنل ٹریننگ سنٹر کا قیام عمل میں لایا ہے جسمیں درجنوں خواتین ہنر سیکھ رہی ہیں،جبکہ ضلع سدہنوتی پلندری میں بھی خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے سنٹر بنایا گیا ہے۔
ان سنٹرز میں 6ماہ کو کورس کروایا جاتا ہے اور کورس کے احتتام پر امتحانات لے کر کامیاب ہونے والی خواتین کو سرٹیفیکٹ دیے جاتے ہیں اس کے ساتھ خواتین کو ہنر سیکھنے کے بعد سلائی مشین بھی دی جاتی ہے تا کہ وہ معاشی طور پر خوشحال ہونے کے لیے اپنا کاروبار شروع کر ے۔یہ تینوں ووکیشنل ٹرینگ سنٹرز بی ٹی ایم گلوبل اور برکہ ایڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔بی ٹی ایم گلوبل کی چیئرپرسن سمیرا فرخ بھی ایک معروف سماجی کارکن ہیں جو آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر کی خواتین کی معاشی ترقی کے لیے مصروف عمل ہیں
آزادکشمیر سمیت ملک بھر میں خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے حکومتی سطح پر مزید اقدامات کرنے کی ضروت ہے۔سلائی کڑھائی،گرافک ڈیزائننگ،اور کمپیوٹر آپریٹر سمیت کشمیری دستکاری کے کورسز کروا کر ہم خواتین کی معاشی طور پر با اختیار بنا سکتے ہیں،اس ملک کی نصف آبادی جب معاشی طور پر خود کفیل ہو گی تو ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔غربت کے خاتمے کا واحد حل فنی تعلیم کا فروغ ہے۔
 خواتین کے حقوق پر اسلام نے بہت زور دیا ہے اور معاشرے میں خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا کو سنہری اصول دیے ہیں اگر اسلام کی تعلیمات پر اس کی حقیقی روح کے ساتھ عمل کیا جائے تو خواتین کی معاشی بہبود کے ساتھ ساتھ خواتین کے مسائل جیسے گھریلو تشدد،وراثت سے محرومی اور دوسری معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔۔ہمارے معاشرے میں جہاں خواتین آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہیں آ ج بھی خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسلامی اور جمہوری ملک میں خواتین کو ہونے چاہئیں برکہ ایڈ  کا مقصد خواتین کو با اختیار،خود کفیل بنانے فیصلہ سازی کا حق دلاکر قومی دھارے میں شامل کرنا ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لاکر خواتین کو تعمیر وترقی میں کردارادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے  اسے مقصد کے لیے برکہ ایڈ مختلف اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان بھر میں خواتین کو ہنر مند بنانے میں مصروف عمل ہے۔برکہ ایڈ کا قیام بھی خواتین ہی نے کیا اور سب سے بڑا مقصد بھی خواتین کو ہی سہارہ فراہم کرنا ہے۔سب سے دلچسپ  حقیقت یہ ہے کہ برکہ ایڈ کا قیام برطانیہ  میں مقیم مختلف ممالک کی خواتین کی کاوشوں سے ممکن ہو ا اور ادارے کی بورڈ ممبران سب خواتین ہیں جو کہ بذات خود  ایک خوش آئند بات ہے۔برکہ ایڈ کی بانی اور چیئرپرسن بہن گل ہیں جبکہ برکہ ایڈ کی معتمدین  میں  چار خواتین ہیں جن میں محترمہ روبینہ،محترمہ فرزانہ،محترمہ شکیلہ اور محترمہ سعدیہ شامل ہیں۔ایک سال کے قلیل عرصہ میں برکہ ایڈ فلاحی خدمات کے میدان میں ایک نمایا ں نام بن چکا ہے  اور اب تک ہزاروں ضرورت مندوں کی زندگیوں  میں خوش نما  تبدیلی لا چکا ہے۔ ادارے کا نام غریب، بے سہارا، بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کے لیے خود ایک سہارا بن چکا ہے۔ برکہ ایڈ اس وقت  دنیا کے کئی پسماندہ ممالک میں فلاحی  منصوبوں پر تندہی سے کام کر رہا ہے جس میں پاکستان،یمن،گھانا،ازبکستان،بنگلادیش،انڈیا،ترکی،یوگنڈا،زمبابوے وغیرہ شامل ہیں پاکستان میں برکہ ایڈ  خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے دوردارز  اور پسماندہ علاقوں میں رفاہی کاموں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے اور کا م ایک اس سلسلہ کو وسعت دیتے ہوئے آزاد کشمیر کے دور افتادہ اور لائن آف کنٹرول پر بسنے والے مستحق خاندانوں کے لیے بھی برکہ ایڈنے کام شروع کردیا ہے،تا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی فلاحی منصوبوں سے مستفید ہو سکیں۔برکہ ایڈ کے قیام کے پیچھے  محترمہ بہن گل کے والدین کے ایصال ثواب کا  عمل کارفرما ہے  اور آج دنیا کے جن ممالک میں بھی برکہ ایڈ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے  ہیں  اور جن پر کام جاری ہے اور جو مستقبل میں زیر غور ہیں ان تمام رفاہی کاموں کا اجر ان کے والدین کو مل رہا ہے  اور ملے گا  انشا ء اللہ۔
کام کے نوعیت کے وجہ سے برکہ ایڈ دوسرے فلاحی  اداروں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ یہ جمع کیا گیا تعاون سو فیصد خرچ  ہوتا ہے  اور یہ تما م تر تعاون کسی بھی قسم کی کٹوتی سے مستثنیٰ ہوتا ہے تاکہ  مستحق افراد کی مدد کے لئے دیا گیا ایک ایک روپیہ ان تک پہنچ سکے اور اس عمل میں برکہ ایڈ معاونین اور مستفید افراد کے درمیان پل کا کردار بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔

Leave your comment !