mahnama anokhi kahaniyan

تحریر و تحقیق:   ذوالفقار علی بخاری ، تصاویر: ذوالفقار علی بخاری، ڈائجسٹ اسٹوریز

  ادب اطفال میں ماہ نامہ “انوکھی کہانیاں” کو انفرادیت حاصل ہے۔ ماہنامہ ”انوکھی کہانیاں“ نے کراچی سے اپنی اشاعت کا آغاز اگست 1991 میں کیا تھا۔ یہ رسالہ بچوں اور طلبہ میں بے حد مقبول ہے ۔ اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ دیگر رسائل کی بہ نسبت تیس برسوں سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ جو کہ اپنی جگہ ایک انفرادیت ہے۔

دیوتا ، اردو کا سب سے طویل ناول

 ”دیوتا“ محی الدین نواب کا تحریر کردہ اُردو ناول ہے ۔ جو اردو ماہنامہ ”سسپنس ڈائجسٹ“ میں 1977 سے 2010 تک بلاناغہ شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ اردو ادب میں جاری رہنے والا سب سے طویل ترین اورمقبول ترین ناول ہے، اس کے 56حصے ہیں۔ یہ ناول ”فرہاد علی تیمور“ کی سوانح عمری ہے۔اسی طرح سے پاکستان میں بچوں کے ادب میں طویل ترین قسط وار ناول کا اعزاز ”آگ کا بیٹا“ کو حاصل ہے ۔ جو کہ معروف لکھاری نوشاد عادل کے قلم سے نکلا ہوا تہلکہ خیز ناول ہے۔ اس کی محض دو ماہ کے بعد سو اقساط مکمل ہونے کو ہیں۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جو پہلی بار کوئی قسط وار طبع زاد ناول چھونے جا رہا ہے۔

ماہنامہ “انوکھی کہانیاں”

راقم السطور کی تحقیق کے مطابق اس کو کتابی شکل میں ایک ہی جلد میں شائع کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا جا ئے گا۔”آگ کا بیٹا“بچوں کے معروف ماہ نامہ ”انوکھی کہانیاں“، کراچی میں شائع ہو رہا ہے۔

”آگ کا بیٹا“ کی سو اقساط کے بعد ماہ نامہ ”انوکھی کہانیاں“،کراچی دیگر رسائل سے اس لحاظ سے منفرد ہو جائے گا۔ کہ اس سے قبل بچوں کے رسائل میں لکھاریوں اور ادیبوں کی زندگی کے حالات بھی اسی رسالے میں شائع ہو چکے ہیں۔

mahnama anokhi kahaniyan

اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ادب اطفال میں نئے رجحانات سامنے لانے میں پیش پیش ہے۔ اور دیگر رسائل میں کم سے کم جدت پذیری کے حوالے سے نمایا ں ہو چکا ہے۔

راقم السطور کی جاری تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے۔ کہ یہ رسالہ فرد واحد یعنی”محبوب الٰہی مخمور“ کی بہترین صلاحیتوں کی بدولت خوب صورت انداز میں شائع تو ہوتا ہی ہے۔ مگر مذکورہ ماہ نامہ ”خاص نمبروں“ کی اشاعت میں جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ یعنی خا ص نمبروں کے موضوعات بھی کافی دل چسپ ہیں۔

  ماہنامہ ”انوکھی کہانیاں“ میں ایک زمانے میں آخری صفحات پر ”آخری صفحات آخری لمحہ“کے عنوان سے مکمل ناولٹ شائع ہوا کرتا تھا۔ جس کی آج کئی رسالے پیروی بھی کرتے ہیں۔

دوسری طرف اس رسالے کی پہچان منفرد سرورق صفحے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے۔ کہ یہاں سے بہت سے نئے لکھاریوں کو بھرپور طور پر اُبھرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ان میں چند نام اگر لیں تو ان میں سعید عباس، محمد عرفان رامے اور نوشاد عادل شامل ہیں۔

آپ کی معلومات کے لئے یہ بتاتے چلیں کہ ماہ نامہ انوکھی کہانیاں، کراچی پہلے ہی آپ بیتیاں کا منفرد سلسلہ شائع کرکے تاریخ میں اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے۔

اس سے قبل ماہ نامہ نٹ کھٹ،حیدرآباد نے نوشاد عادل کے ترغیب دینے پر چند آپ بیتیوں کو شائع کیا تھا ۔مگر اُس کے بند ہو جانے کے بعد اس منفرد سلسلے کو بڑی خوب صورتی سے ”انوکھی کہانیاں“،کراچی نے جاری رکھا ، کہ آج ہر لکھاری کی خواہش بنتی جا رہی ہے ۔کہ اُس کی زندگی کے حالات دوسروں تک پہنچیں۔

پاکستان میں آپ بیتی کا رجحان

پاکستان میں آپ بیتی کے رحجان کے حوالے سے بات کریں تو نوشاد عادل نے پہلا پتھر پھینکا تھا۔ یعنی انہوں نے اس سلسلے کا آغاز اپنی آپ بیتی ”نوشاد بیتی“ لکھ کر کیا تھا۔

 جس کے بعد پروفیسر ظریف خان، مسعود احمد برکاتی، ڈاکٹر ظفر احمد خان، غلام حسین میمن،مشتا ق احمد قادری، رضوان بھٹی، ببرک کارمل، خلیل جبار، محبوب الہی مخمور (مدیرماہ نامہ انوکھی کہانیاں،کراچی)،سید صفدر رضا رضوی، پروفیسر مجیب ظفر انوار حمید ی اور یاسمین حفیظ کے حالات زندگی شائع ہوئے۔

عبدالرشید فاروقی، طاہر عمیر،حنیف سحر، ڈاکٹر طارق ریاض خان، رانا محمد شاہد،ندیم اختر، صالحہ صدیقی، حکیم محمد سعید شہید، عبداللہ نظامی، آصف جاوید نقوی، احمد عدنان طارق، نذیر انبالوی، عبدالصمد مظفر پھول بھائی، رابعہ حسن، عبد اللہ ادیب، نور محمد جمالی، علی اکمل تصور، اور اختر عباس بھی آپ بیتی لکھنے والوں میں شامل ہیں۔

اسی طرح افق دہلوی، شیخ فرید، ضرغام محمود، ارشد سلیم، غلام محی الدین ترک، رابنس سیموئل گل، حاجی محمد لطیف کھوکھر، امجد جاوید، رضیہ خاتم، شابانہ جمال، عاطر شاہین، عمران یوسف زئی،خادم حسین مجاہد، ظہور الدین بٹ، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی، شہریار بھروانہ،غلام رضا جعفری، نعیم ادیب، جاوید بسام، جدون ادیب، راحت عائشہ، علی عمران ممتاز، حافظ نعیم احمد سیال، شہباز اکبر الفت، مظہرمشتاق، محمود شام،محمد ناصر زیدی، نشید آفاقی، امان اللہ نیرشوکت، ساجد کمبوہ،یاسین صدیق،خواجہ مظہر نواز صدیقی، نسیم حجازی، فرخ شہباز وڑائچ، محمد شعیب خان،ظفر محمد خان ظفر اور محمد توصیف ملک کے حالات زندگی شائع ہو چکے ہیں۔